Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

تحقیق کی آزادی

Urdu · 11 min

بیرون کاراڈی واکس، 1867 تا 1953، کی مشہور کتاب "اسلام کا ورثہ: The Legacy of Islam" 1931 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا مصنف اگرچہ عربوں کے کارنامے کا اعتراف کرتا ہے، مگر اس کے نزدیک ان کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ یونانیوں کے شاگرد، یعنی pupils of the Greeks تھے۔ برٹ رینڈ رسل نے اپنی کتاب "History of Western Philosophy" میں عربوں کو صرف ناقل، یعنی transmitter، کا درجہ دیا ہے؛ جنہوں نے یونان کے علوم کو لے کر اسے بذریعہ تراجم یورپ کی طرف منتقل کر دیا۔ مگر علمی اور تاریخی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ عربوں نے یونانی علوم کو پڑھا اور ان سے فائدہ اٹھایا، مگر اس کے بعد جو چیز انہوں نے یورپ کی طرف منتقل کیا، وہ اس سے بہت زیادہ تھی جو انہیں یونان سے ملی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یونان کے پاس وہ چیز موجود ہی نہ تھی جو عربوں کے ذریعے یورپ کو پہنچی، اور جو یورپ میں نشت ثانیہ پیدا کرنے کا سبب بنی۔ اگر فی الواقع یونان کے پاس وہ چیز موجود ہوتی تو وہ بہت پہلے یورپ کو مل چکی ہوتی۔ ایسی حالت میں یورپ کو اپنی حیات نو کے لیے 1000 سال کا انتظار نہ کرنا پڑتا۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قدیم یونان نے جو کچھ ترقی کی تھی، وہ آرٹ اور فلسفے میں کی تھی؛ سائنس کے میدان میں ان کی ترقی اتنی کم ہے کہ وہ کسی شمار میں نہیں آتی۔ اس معاملے میں واحد قابلِ ذکر استثنا ارشمیدز، یعنی Archimedes، کا ہے، جس کو 212 قبل مسیح میں ایک رومی سپاہی نے عین اس وقت قتل کر دیا جب کہ وہ شہر کے باہر ریت پر جیومیٹری کے سوالات حل کر رہا تھا۔ جے ایم رابرٹس، "History of the World"، پیج 238۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنسی غور و فکر اور سائنسی ترقی کے لیے ذہنی آزادی کا ماحول انتہائی ضروری ہے، اور یہ ماحول قدیم زمانے کے دوسرے ملکوں کی طرح یونان میں بھی موجود نہ تھا۔

سقراط کو اس جرم میں زہر کا پیالہ پینا پڑا کہ وہ ایتھنز کے نوجوانوں میں آزادانہ غور و فکر کا مزاج بنا رہا ہے۔ پلوٹارک کے بیان کے مطابق، سپارٹا کے لوگ صرف عملی ضرورتوں کے لیے لکھنا اور پڑھنا سیکھتے تھے؛ ان کے یہاں دوسری تمام کتابوں اور اہل علم پر پابندی لگی ہوئی تھی۔ ایتھنز میں آرٹ اور فلسفے کو ترقی حاصل ہوئی، مگر بہت سے آرٹسٹ اور فلسفی جلاوطن کر دیے گئے، قید خانے میں ڈال دیے گئے، پھانسی پر چڑھا دیے گئے، یا وہ خوف سے بھاگ گئے۔ ان میں اسکائیلس ایوریفائڈس، فیدیاس، سقراط، اور ارسطو جیسے لوگ بھی شامل تھے۔

یونان کے اسکائیلس، یعنی اسکلس، کا قتل جس بنیاد پر کیا گیا، وہ مزید اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم یونان میں سائنسی ترقی کا ماحول موجود نہ تھا۔ اس کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے الیوزینین رازوں، یعنی الیوزینین مسٹریز، کو ظاہر کر دیا تھا۔ یہ راز ان بے شمار پرعجوبہ کہانیوں میں سے ہے جن کا کوئی وجود نہیں، مگر وہ یونانی فکر و خیال کا لازمی حصہ بنے ہوئے تھے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 3، صفحہ 1084۔

جدید سائنسی دور سے پہلے سائنس کے معاملے میں یورپ کا کیا حال تھا، اس کی ایک مثال پوپ سیلویسٹر سیکنڈ کا قصہ ہے، جو عام طور پر "گربرٹ" کے نام سے مشہور ہے۔ وہ 945 عیسوی میں فرانس میں پیدا ہوا، اور 1003 عیسوی میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ یونانی اور لاطینی دونوں زبانیں بخوبی جانتا تھا اور نہایت قابل آدمی تھا۔ اس نے اسپین کا سفر کیا اور وہاں بارسلونا میں 3 سال تک رہا۔

اس نے عربوں کے علوم سیکھے اور ان سے بہت متاثر ہوا۔ وہ اسپین سے واپس ہوا تو اس کے ساتھ کئی عرب کتابوں کے ترجمے تھے۔ وہ ایک ایسٹرولیب بھی اسپین سے لایا تھا۔ اس نے عربوں کے علوم میں منطق، ریاضی، اور فلکیات وغیرہ کی تعلیم شروع کی، مگر اس کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

کچھ مسیحی حضرات نے کہا کہ یہ اسپین سے جادو سیکھ کر آیا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس پر شیطان مسلط ہو گیا ہے۔ وہ اسی قسم کے سخت حالات میں رہا، یہاں تک کہ 12 مئی 1003 عیسوی کو روم میں اس کا انتقال ہو گیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 17، صفحہ 899۔

اسلام سے پہلے پوری معلوم تاریخ میں علمی آزادی کا وجود نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں سائنسی غور و فکر کی بعض انفرادی مثالیں ملتی ہیں، مگر یہ غور و فکر وقتی یا انفرادی واقعے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ذہنی آزادی نہ ملنے کی وجہ سے ایسی ہر سوچ پیدا ہو کر ختم ہوتی رہی۔ اسلام نے پہلی بار یہ انقلابی تبدیلی کی کہ مذہبی علم اور طبیعاتی علم کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔

مذہبی علم کا ماخذ خدائی الہام قرار پایا، جس کا مستند ایڈیشن ہمارے پاس قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ مگر طبیعاتی علوم میں پوری آزادی دے دی گئی کہ آدمی ان میں آزادانہ تحقیق کرے اور آزادانہ طور پر نتائج تک پہنچ سکے۔ صحیح مسلم میں ایک باب کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ شرعی طور پر کہا ہو، اس کا ماننا لازمی ہے، مگر معیشت دنیا کے بارے میں آپ کا قول اس سے مستثنیٰ ہے۔ باب وجوب امتثال ما قاله شرعا دون ما ذکره صلی اللہ علیہ وسلم من معايش الدنیا علی سبیل الرأي اس باب کے تحت امام مسلم نے یہ روایت نقل کی ہے کہ موسیٰ ابن طلحہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے لوگوں پر گزرا جو کھجور کے درخت پر چڑھے ہوئے تھے۔

آپ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ تلقيح، یعنی پولینیشن کا عمل کر رہے ہیں، یعنی مذکر کو مونث پر مار رہے ہیں، تو اس سے وہ زرخیز ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں گمان نہیں کرتا کہ اس سے کچھ فائدہ ہوگا۔ " یہ بات لوگوں کو بتائی گئی تو انہوں نے تلقيح کا عمل چھوڑ دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے کہا: "اگر اس سے ان کو نفع ہوتا ہو تو وہ ایسا کریں، کیونکہ میں نے صرف ایک گمان کیا تھا، تو تم میرے گمان کی پیروی نہ کرو۔ مگر جب میں تم سے اللہ کی کوئی بات کہوں تو اس کو اختیار کر لو، کیونکہ میں اللہ عزوجل کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں کہتا۔ " صحیح مسلم، حدیث نمبر 2361۔ اسی طرح حضرت عائشہ اور حضرت ثابت اور حضرت انس سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گروہ کے پاس سے گزرے جو تلقيح کا عمل کر رہے تھے۔

آپ نے فرمایا: "اگر وہ ایسا نہ کرتے تو زیادہ بہتر تھا۔ " راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد کھجور کی پیداوار بہت کم ہوئی۔ آپ دوبارہ ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا کہ تمہارے کھجوروں کا کیا ہوا؟ انہوں نے پورا قصہ بتایا۔

آپ نے فرمایا: "تم اپنے طریقے کے مطابق کرو، کیونکہ تم اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہو۔ " أنتم أعلم بأمر دنیاکم صحیح مسلم، حدیث نمبر 2363۔ اس حدیث کے مطابق اسلام میں دینی بحث کو سائنسی تحقیق، یعنی سائنٹیفک ریسرچ، سے الگ کر دیا گیا ہے۔ دینی بحث میں الہامی ہدایت کی کامل پابندی کرنی ہے، مگر سائنسی تحقیق کو انسانی تجربے کی بنیاد پر چلانا ہے۔

یہ علم کی تاریخ میں بلاشبہ عظیم الشان انقلاب ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.