Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

شرک کی طرف

Urdu · 13 min

قرآن کے مطابق زمین پر انسانی نسل کا آغاز آدم سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو بتا دیا تھا کہ تمہارا اور تمہاری نسلوں کا دین توحید ہوگا۔ اسی میں تمہاری دنیا کی بھلائی بھی ہے، اور اسی میں تمہاری آخرت کی بھلائی بھی۔

ابتدائی کچھ دنوں تک لوگ صحیح راستے پر قائم رہے، اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہو گیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ سورہ نمبر 2، آیت 213۔ حضرت مسیح سے غالباً 3000 سال پہلے، عراق میں نوح ابن لامخ پیدا ہوئے۔

ان کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بنایا، اور انہیں قوم کی اصلاح کا کام سپرد کیا۔ اس کے بعد سے لے کر مسیح ابن مریم تک مسلسل پیغمبر آتے رہے، اور لوگوں کو سمجھاتے رہے، مگر لوگ دوبارہ اصلاح قبول کرنے پر تیار نہ ہو سکے۔ سورہ نمبر 23، آیت 44۔ اس بگاڑ کا سبب لوگوں کی ظاہر بینی تھی۔

توحید کا مطلب غیب کے معبود کو عظمت دینا اور اس کی پرستش کرنا ہے۔ لوگ غیب کے معبود کو اپنا خدا نہ بنا سکے، اس کے بجائے انہوں نے نیچر کو معبود کا درجہ دے دیا۔ دنیا کا آغاز توحید پر ہوا تھا، مگر بعد کے زمانے میں جو بگاڑ پیش آیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی تاریخ شرک کے رخ پر چل پڑی۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔

انسان توحید پر قائم ہو تو اس کے تمام معاملات درست رہتے ہیں۔ وہ توحید کو چھوڑ دے تو اس کے تمام معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ توحید تمام انسانوں کے لیے ان کے عروج و زوال کا پیمانہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے، اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اور جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا، وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ کہو کہ اے نادانوں! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر اللہ کی عبادت کروں؟

اور تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا، اور تم گھاٹے میں رہو گے۔ بلکہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اور شکر کرنے والوں میں سے بنو۔ اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی، جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن، اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دائیں ہاتھ میں۔

وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ سورہ نمبر 39، آیت 62 تا 67۔ توحید سے انحراف کا اصل نقصان وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے۔ تاہم توحید چونکہ کائنات کی اصل حقیقت ہے، اس لیے توحید سے ہٹنا حقیقتِ واقعہ سے ہٹنا بن جاتا ہے۔

اور جو لوگ حقیقتِ واقعہ سے ہٹ جائیں، ان کی زندگی نہ صرف آخرت میں بلکہ موجودہ دنیا میں بھی بگڑ کر رہ جاتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کی طرف مذکورہ بالا آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ایک خدا کا شعور آدمی کی فطرت میں پیوست ہے۔ آدمی خود اپنے فطری تقاضے کے تحت مجبور ہے کہ وہ خدا کو مانے اور اس کے آگے جھک جائے۔

آدمی ایک خدا کو ماننے سے انکار کر سکتا ہے، مگر یہ اس کے بس سے باہر ہے کہ وہ اپنی فطرت کا انکار کر دے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ خالق کو نہ مانیں، انہیں اس کی یہ قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ مخلوق کو معبود کے طور پر ماننے کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔ وہ غیر حقیقی طور پر مخلوق کو وہ درجہ دے دیتے ہیں جو حقیقی طور پر صرف ایک خالق کو دینا چاہیے۔ اس دنیا کا خالق اور مالک خدا ہے۔

تمام حقیقی عظمتیں صرف اسی کو حاصل ہیں۔ انسان جب خدا کو اپنا عظیم بناتا ہے تو وہ اس ہستی کو عظیم بناتا ہے جو فی الواقع عظمت و کبریائی کا مستحق ہے۔ خدا کو عظیم بنانے کی صورت میں آدمی حقیقتِ واقعہ پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی زندگی سچی زندگی ہوتی ہے۔

وہ ہر قسم کے تضاد سے خالی ہوتی ہے۔ اس کی سوچ اور اس کا عمل دونوں صحیح رخ پر چلتے ہیں۔ اس کا وجود عالمِ حقائق سے پوری طرح آہنگ ہو جاتا ہے۔ اس کے اور عالمِ حقائق کے درمیان کہیں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس، آدمی جب ایسا کرتا ہے کہ وہ غیر خدا کو بڑا سمجھ لیتا ہے، وہ خدا کے سوا کسی اور کو بڑائی کا وہ درجہ دینے لگتا ہے جو صرف ایک خدا کے لیے خاص ہے۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا پورا رویہ غیر حقیقی رویہ بن جاتا ہے۔ وہ ایسی بے جوڑ چیز بن جاتا ہے جو عالمِ حقائق سے مطابقت نہ کر رہی ہو۔ اس کی پوری زندگی حقیقت پسندی کے بجائے توہم پرستی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔

اس معاملے کی وضاحت کے لیے ایک مثال لیجیے۔ عیسائی حضرات نے عقیدہ تثلیث کے تحت مسیح ابن مریم کو خدا فرض کر لیا۔ حضرت مسیح بااعتبارِ واقعہ ابن مریم تھے، مگر عیسائی حضرات نے غلو کر کے انہیں ابن اللہ کا درجہ دے دیا۔ انہوں نے حضرت مسیح کو وہ عظمت دے دی جو عظمت صرف خدائے واحد کے لیے ہے، جو مسیح سمیت تمام انسانوں کا خالق ہے۔

اس کے نتیجے میں وہ عظیم تضاد کا شکار ہو گئے۔ انہی تضادات میں سے ایک تضاد وہ ہے جو نظامِ شمسی کے بارے میں ان کے متکلمانہ نظریات سے پیدا ہوا۔ قدیم یونان میں مشہور عالمِ فلکیات بطلیموس نے کلاؤڈیس ٹالمی، دوسری صدی عیسوی میں پیدا ہوا۔ اس نے سکندر کے زمانے میں تحقیقات کیں۔

اس نے ایک ضخیم کتاب لاطینی زبان میں لکھی۔ اس کتاب میں اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین ٹھہری ہوئی ہے اور سورج، چاند اور سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس کا زمانہ پہلی صدی عیسوی اور دوسری صدی عیسوی کے درمیان، 90 تا 168 ہے، مسیحی حضرات کی سرپرستی کی وجہ سے۔ یہ نظریہ مسلسل ذہنوں پر چھایا رہا، یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی میں کوپرنیکس نے اس کو آخری طور پر ختم کیا۔

مسیحی حضرات کے یہاں مذہب کا بنیادی عقیدہ کفارے کا عقیدہ ہے، جس کے ذریعے خدا نے ساری انسانیت کی نجات کا انتظام کیا۔ نجات کا واقعہ ایک ایسا مرکزی واقعہ، یعنی سینٹرل ایونٹ، ہے جس کا تعلق نہ صرف انسانی نسلوں سے بلکہ ساری کائنات سے ہے۔ ساری کائنات کا یہ مرکزی واقعہ، یعنی حضرت مسیح کا گناہوں کا کفارہ بننے کے لیے مصلوب ہونا، چونکہ زمین پر پیش آیا، اس لیے مسیحی علمِ کلام کے مطابق زمین ساری کائنات کا اہم ترین مقام اور اس کا مرکزی نقطہ قرار پائی۔ اس بنا پر مسیحی حضرات نے بطلیموس کے زمین مرکزی، یعنی جیوسنٹرک نظریے کی زبردست تائید کی۔

اس کو مذہبی عقیدہ جیسی حیثیت دے دی۔ مسیحی حضرات ہر اس کوشش کے مخالف بنے رہے جو سورج مرکزی، یعنی ہیلیوسنٹرک نظریے کی طرف لے جانے والا ہو۔ یہاں تک کہ نکولس کوپرنیکس، 1473 تا 1543، اور گلیلو گلیلی، 1564 تا 1642، اور جان کیپلر، یعنی جوہنس کیپلر، 1571 تا 1630 کی تحقیقات نے اس کو آخری طور پر باطل ثابت کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 4، صفحہ 522۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کا مقالہ نگار لکھتا ہے کہ مسیحی علمِ کلام کے مطابق نجات کی اسکیم ایک کائناتی واقعہ تھا۔ مسیح کا عملِ نجات کائناتی معنویت رکھتا تھا۔ اس کا تعلق انسان سے لے کر جانوروں تک سے تھا۔ مگر جدید علمِ فلکیات سے معلوم ہوا کہ زمین کائنات کے وسیع سمندر میں ایک چھوٹے سنگریزے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔

اس حقیقت کی بنا پر خود مسیح کی معنویت بھی کسی حد تک کم ہو گئی۔ اور نجات کا خدائی عمل ایک ناقابلِ لحاظ قرعہ پر محض ایک چھوٹا سا واقعہ بن کر رہ گیا۔ In view of this fact, the meaning of Christ itself lost some of its impact, and the divine act of salvation appeared merely as a tiny episode within the history of an insignificant little star. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 4، پیج 522۔

اس دنیا کا خالق، مالک، مدبر سب کچھ صرف ایک خدا ہے۔ ہر قسم کی بڑائی اور اختیار تنہا اسی کو حاصل ہے۔ اس کے سوا کسی اور کو کسی بھی قسم کی بڑائی یا اختیار حاصل نہیں۔ چنانچہ اس دنیا میں جب بھی کسی اور کو عظمت اور تقدس کا مقام دینے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ایسا نظریہ پوری کائنات سے ٹکرا جاتا ہے۔

وہ ہمہ گیر کائنات میں کہیں اپنی جگہ نہیں پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ شرک کا نظریہ انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اور توحید کا نظریہ انسان کے لیے ہر قسم کی ترقیوں کا دروازہ کھولنے والا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.