مناظره
بر صغیر ہند میں برٹش حکومت کے زمانہ میں اہل اسلام کے درمیان ایک مبتدعا نہ رواج ظہور میں آیا جس کو مناظرہ کہا جاتا ہے۔ ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان دعوت کے بجائے مناظرہ بازی شروع ہوئی جس نے دونوں فرقوں کے درمیان غیر معتدل فضا پیدا کرنے کا کام کیا۔ مسلمان مناظر نے ہندو کے خلاف کتاب لکھی اور اُس کو کفر توڑ کے نام سے شائع کیا۔ اس کے بعد ہندو مناظر نے مسلمانوں کے خلاف کتاب لکھی جو کفر توڑ کا بھانڈہ پھوڑ کے نام سے شائع کی گئی ۔
اسلام کا طریقہ دعوت ہے، جو نصح ( خیر خواہی ) اور شفقت اور یک طرفہ صبر کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ جب کہ مناظرہ (debate) کا مقصد فریق ثانی کو شکست دینا ہوتا ہے۔ مناظر کا نشانہ فریق ثانی کو ہرانا ہوتا ہے ۔ چنانچہ وہ اس قسم کی زبان بولتا ہے کہ ان کے اوپر بلڈوزر چلا دو
Bulldoze them all.
اس سے دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو طرح طرح کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.