Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam Aur Inteha Pasandi
Islam Aur Inteha Pasandi

غلو کیا ہے

Urdu · 4 min

غلو کا لفظی مطلب ہے انتہاپسندی(extremism)،یعنی کسی حکم شرعی میں مطلوب حد سے تجاوز کرنا۔ حد سے تجاوز کرنے کی یہ سوچ کب پیدا ہوتی ہے۔یہ دراصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا نتیجہ ہوتا ہے، یعنی جس چیز پر جتنا زور دینا چاہیے، اس پر اس سے زیادہ زور دینا ۔ مثلاً اسلام میں سیاست کا مقام صرف جزئی یا اضافی ہے، مگر اس کو اتنا بڑھانا کہ سیاست ہی کی بنیاد پر پورے دین کی تعبیر وتشریح کی جائے، یہ حد سے تجاوز کرنا ہے اور اس تجاوز کو غلو کہا جائے گا۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئےایک صاحب نے کہا کہ آپ دعوت اور متعلقات دعوت پر اتنا زور دیتے ہیں، وہ بھی غلو کی تعریف میں آتا ہے۔میں نے کہا کہ ہر گز نہیں۔دعوت الی اللہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی اہم ترین سنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کی بعثت ہی اس کے لیے ہوئی۔ مگر موجودہ زمانے میں یہ ہوا کہ مدعو قوموں کو مسلمانوں نے اپنا رقیب یا حریف (rival) سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اندر دعوت کا محرک (incentive)ختم ہوگیا۔اس لیے ہم اس سنت نبوی کو زندہ کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔اس کو ایمفیسس (emphasis) کہاجائے گا، نہ کہ شفٹ آف ایمفیسس(shift of emphasis)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غلو کبھی اصل دین میں نہیں ہوتا، غلو جب بھی ہوتا ہے، وہ ظواہر دین میں ہوتا ہے۔اصل دین میں شدتِ بیان ہمیشہ مطلوب ہوتی ہے۔اصل دین میں یہ شدتِ بیان خود قرآنی اسلوب ہے، اور یہی اسلوب ہم کو احادیث میں ملتا ہے۔

اصل دین میں شدتِ بیان کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے آدمی کے اندر روحِ دین زندہ ہوتی ہے، اور روحِ دین کے زندہ ہونے سے دین کے تمام پہلو اپنے آپ زندہ ہوجاتے ہیں۔روح دین میں شدت کا طریقہ ہی مطلوب طریقہ ہے، البتہ جو ظواہر دین ہیں، ان میں شدت کے بجائے نرمی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔اسی فرق کو جاننے کا نام حکمتِ دین ہے۔ (الرسالہ، دسمبر 2014)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content