← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
یہ تضاد کیوں
Urdu · 7 min
کلیسا نے کیوں سترھویں صدی عیسوی میں گلیلیو کا انکار کیا تھا اور بیسویں صدی میں کیوں اس نے گلیلیو کا اقرار کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سترہویں صدی عیسوی میں گلیلیو کی شخصیت ایک متنازعہ (controversial)شخصیت تھی۔ جب کہ بیسویں صدی عیسوی میں وہ ایک تسلیم شدہ (established) شخصیت بن چکی ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ کلیسا کاایک اور شخصیت کے ساتھ پیش آیا۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ مسیحی کلیسا نے ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد کا انکار کیا۔ اس انکار کی وجہ یہ تھی کہ ساتویں صدی میں حضرت محمد کی شخصیت ایک متنازعہ شخصیت تھی۔ اب دوبارہ یہ ہوا ہے کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر حضرت محمد کی شخصیت ایک ثابت شدہ شخصیت بن چکی ہے۔ آج علم اور تاریخ کے اتنے شواہد آپ کی نبوت کی تصدیق پر جمع ہو چکے ہیں کہ اب باعتبارحقیقت کسی کے لیے اس پر شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو ڈاکٹر موریس بوکیل کی مندرجہ ذیل کتاب— بائبل ، قرآن اور سائنس
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Bible, The Quran, and Science (1976)
پھر کیا وجہ ہے کہ جن اسباب کی بنا پر کلیسا نے گلیلیو کو مان لیا، انہیں اسباب کی موجودگی میں وہ حضرت محمد کو نہیں مانتا۔ وہ بدستور آپ کو بناوٹی نبی (false prophet) کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ وہ فرق ہے جو باعتبار نوعیت دونوں شخصیتوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ گلیلیو کو ماننا صرف ایک فنی غلطی کا اعتراف ہے۔ جب کہ حضرت محمد کو ماننا اپنے پورے وجود کی نفی کے ہم معنی ہے۔
گلیلیو ایک فلکیات داں تھا۔ اس کاکیس فلکیاتی علم کا کیس تھا۔ جب کہ حضرت محمد ایک پیغمبر تھے اور آپ کا کیس خدا کی پیغمبری کا کیس ۔ یہ فرق دونوں کے معاملہ کو نوعی طور پر ایک کو دوسرے سے جدا کر دیتا ہے۔ گلیلیو کو ماننا صرف ایک علمی سچائی (scientific truth) کو ماننا ہے۔ اس کے برعکس، حضرت محمد کو مانناایک مذہبی سچائی (religious truth) کو ماننا۔ گلیلیو کو ماننا کلیسا کے لیے ایک ایسے خارجی واقعہ کو ماننا تھا جس سے اس کے اپنے اوپر کوئی زد نہیں پڑتی تھی۔ اس کا اپنامخصوص ڈھانچہ اس کے بعد بھی بدستور برقرار رہتا تھا۔ اس کے برعکس، حضرت محمد کو ماننا ایک ایسے واقعہ کو ماننا تھا جس کا براہ راست تعلق اس کے اپنے ڈھانچہ سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد کو مانتے ہی پاپائیت اپنے وجود کا جواز کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد کلیسا کا پورا محل اچانک زمین پر گر پڑتا ہے۔
حضرت محمد نے توحید کی تعلیم دی جب کہ موجودہ کلیسا کا سارا ڈھانچہ تثلیث کے عقیدہ پر قائم ہے۔ حضرت محمد نے حضرت مسیح کو خدا کا پیغمبر بتایا جب کہ کلیسا حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اپنا مذہبی قلعہ تعمیر کیےہوئے ہے۔ حضرت محمد نے ذاتی عمل کو نجات کی بنیاد قرار دیا، جب کہ کلیسا کا سارا مذہبی ڈھانچہ کفارہ کے عقیدہ پر قائم ہے، وغیرہ۔ اسی حالت میں کلیسا کیسے حضرت محمد کومان لے۔
گلیلیو کا اقرار کرنے کے بعد بھی کلیسا کی حیثیت بدستور باقی رہتی تھی۔ جب کہ حضرت محمد کا اقرار کلیسا کے لیے خود اپنے انکارکے ہم معنیٰ ہے۔ اور بلاشبہ دنیا میں ایسے لوگ سب سے زیادہ کم پائے جاتے ہیں جو اس قسم کی جرأت کا ثبوت دے سکیں۔ کلیسا صرف اپنی نفی کی قیمت پر حضرت محمد کو مان سکتا ہے۔ اور اس دنیا میں کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر کسی سچائی کو ماننے کے لیے تیار ہو جائے۔
کسی حقیقت کے ثابت شدہ ہونے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کا نظری طور پر ثابت ہونا دوسرے اس کا مادی طور پر ثابت شدہ بن جانا۔ غیر مذہبی حقیقت موجودہ دنیا ہی میں آخری حد تک ثابت ہو جاتی ہے۔ جب کہ مذہبی حقیقت موجودہ دنیا میں صرف نظری طور پر ثابت ہوتی ہے۔ مادی یا ظاہری طور پر وہ صرف آخرت کی دنیا میں ثابت شدہ بنے گی۔
یہی وجہ ہے کہ غیر مذہبی حقیقت کو لوگ فوراً مان لیتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے معاملہ میں انسان کے لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس کا انکار کرنا اپنے آپ کو انسانیت کے قافلہ سے کاٹ لینے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
اس کے برعکس، مذہبی حقیقت کو اکثر حالات میں آدمی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں وہ صرف نظری طور پر ثابت ہوتی ہے۔ اس کا حسّی اور ظاہری اثبات صرف آخرت کی دنیا میں ہو گا۔ اس بنا پر یہاں آدمی کے لیے ہمیشہ یہ گنجائش موجود رہتی ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر اس کا انکار کر دے۔
مگر یہی آدمی کا اصل امتحان ہے۔ نظری دلائل کی سطح پر حقیقت کو پہچاننے ہی کا دوسرا نام ایمان ہے، اور ایمان کے بغیر کسی کو خدا کی جنت نہیں مل سکتی۔ قیامت میں تمام لوگ مجبور ہوں گے کہ وہ حقیقت کا اعتراف کریں۔ کیوں کہ وہاں حقیقت اپنی آخری اور کامل صورت میں ظاہر ہو جائے گی۔ مگر دنیا میں حقیقت کو وہی لوگ مانتے ہیں جو کسی چیز کو اس کے معنوی جوہر کے اعتبار سے پہچاننے کا حوصلہ رکھتے ہوں گویا جو کچھ عام لوگوں پر قیامت کے دن گزرنے والا ہے وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ وہ دیکھنے سے پہلے دیکھ لیتا ہے۔
یہ ’’دیکھنے سے پہلے دیکھنا‘‘ ہی دراصل جنت کی قیمت ہے۔ جو اس کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس کو خدا کی ابدی جنت میںداخلہ ملے گا۔
بیک کور ٹیکسٹ
’’اسلام عصرِ حاضر میں‘‘ ویسا ہی ایک جملہ ہے جیسا کہ ’’سورج عصر حاضر میں‘‘ اسلام، بالفاظِ دیگر خدا کی سچی ہدایت، اَبدی حقیقتوں کا اظہار ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کی مادّی تعمیر کے لیے جس طرح سورج کی روشنی کی مستقل ضرورت ہے ، اسی طرح اس کو اپنی زندگی کی روحانی اور اخلاقی تعمیر کے لیے خدا کی سچی ہدایت کی لازمی ضرورت ہے— حقیقت یہ ہے کہ سورج کے بغیر آدمی کی دنیا اندھیری ہے اور ہدایت کے بغیر آدمی کی آخرت اندھیری۔