Maulana Wahiduddin Khan
115 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

تاثرات و تجربات

Urdu · 115 min read

20 جنوری1983

ایک صاحب نے کہا کہ دین میں اتنا زیادہ اختلاف ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ میں نے کہا کہ کس قسم کا اختلاف ۔ انھوں نے کہا مثلاً ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ خدا کے لیے واحد کا صیغہ ہی استعمال کرنا چاہیے۔ اگر جمع کا صیغہ استعمال کیا تو جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یعنی خدا رزق دیتا ہے، کہنا چاہیے، نہ کہ خدا رزق دیتے ہیں۔ اسی طرح کی عجیب عجیب باتیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ جوشخص آپ سے اس قسم کی بات کہے ، اس سے پوچھیے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ قرآن میں کہاں لکھی ہے۔ اگر وہ قرآن سے اپنی بات کا ثبوت دے تو مانیے ورنہ مت مانیے۔

انہوںنے کہا کہ اگر وہ شخص کہے کہ قرآن میں سب بات کہاں ہے۔ تو آپ کہیے کہ پھر حدیث سے ثبوت دو۔اور اگر وہ کہے کہ حدیث میں سب بات کہاں ہے تو اس سے کہیے کہ جو بات نہ قرآن میں ہو اور نہ حدیث میں تو ایسی بات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں۔

other sourceWords of another person or source

1983 جنوری 30

حدیث کا مطالعہ امت میں جتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا، اتنے بڑے پیمانے پر قرآن کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مگرحدیث کا وہ عملی فائدہ امت کو نہ پہنچ سکا، جو امت کو اس سے پہنچنا چاہیے تھا۔ اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ احادیث میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ امت کے علما چوں کہ ان اختلافات میں تطبیق کا کوئی متفقہ معیار دریافت نہ کرسکے، اس لیے حدیث کا مطالعہ بہت بڑے پیمانہ پر اختلافات پیدا کرنے کا سبب بن گیا ۔

حدیث کے اختلافات میں تطبیق کا میرے نز دیک واحد قابلِ عمل معیار یہ ہے کہ اس کو حالات کے اختلاف پر محمول کیا جائے ۔ یعنی یہ مانا جائے کہ انسانی حالات چوں کہ ہمیشہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں، اس لیے حدیثوں میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا ۔ کیوں کہ حدیثیں زیادہ تر وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف اوقات میں لوگوں کو دی گئیں ۔

ایک مثال لیجیے۔ آپ اگر حدیث کی کتابوں میں ’’اشر بہ ‘‘ کا باب پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مختلف روایتوں میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ۔مثلا بخاری اور دوسری کتب حدیث میں یہ روایتیں موجود ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پیا ، اسی طرح صحابہ کرام نے کھڑے ہو کر پانی پیا( صحیح البخاری، حدیث نمبر5615)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری طرف ایسی بھی حدیثیں ہیں جن میں واضح لفظوں میں کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے ۔ مثلا مسلم اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ۔  ‌نَهَى ‌عَنِ ‌الشُّرْبِ ‌قَائِمًا( صحیح مسلم، حدیث نمبر2025)۔ اس مضمون کی روایتیں مختلف کتب ِحدیث میں الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے  لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ قَائِمًا (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 14641؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2026)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اختلاف کی توجیہ و تطبیق میں بڑی بڑی بحثیں کی گئی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ایک نوعیت کی حدیث کی تضعیف کر کے دوسری نوعیت کی حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ کسی نے ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا ہے۔ امام نووی نے ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول قرار دیا ہے، اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے کھڑے ہو کر پانی پینے کو جواز کے درجہ میں رکھا ہے (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد13، صفحہ 195)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر میرے نزدیک ان میں سے کوئی توجیہ بھی درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ فرق حالات کی بنا پر ہے۔ نارمل حالات میں ایک شخص خواہ بیٹھ کر پانی پیے یا کھڑے ہو کر۔ اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر ایک شخص مثلاً بھاگا ہوا چلا آرہا ہے ۔ وہ آتا ہے اور ہانپتے ہوئے کہتا ہے کہ پیاس لگ رہی ہے، پانی لاؤ ۔ اب اس کے سامنے پانی لایا جا تا ہے۔ وہ کھڑے کھڑ ے وہیں پینے لگتا ہے۔ تو ایسے شخص کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ بیٹھ کر پانی پیو۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ جب دو قسم کا حکم ہے تو لازما ًایک مطلوب ہوگا اور دوسرا غیرمطلوب ۔ حالانکہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ یقیناً بعض اوقات اس بنا پر بھی فرق ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت دونوں حکم مطلوب ہوتے ہیں، کوئی حکم ایک قسم کے حالات میں ، اور کوئی حکم دوسرے قسم کے حالات میں۔

9 اپریل 1983

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  لَا ‌تَخْتَلِفُوا ‌فَتَخْتَلِفَ ‌قُلُوبُكُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 18516)۔یعنی،اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دل با ہم مختلف ہو جائیں گے۔ دوسری روایت یہ ہے اختلافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحنۃ، حدیث نمبر 39)۔ یعنی،میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اہل علم کی ایک تعداد نے دوسری روایت کو موضوع یا کم از کم غیر معتبر بتایا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی اسناد کمزور ہیں۔ نیز یہ کہ ان میں تضاد ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ اختلاف رحمت ہے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ اتفاق زحمت ہے (لَوْ الِاخْتِلَافُ رَحْمَةً كَانَ، لَكَانَ الِاتِّفَاقُ سُخْطًا) الاحكام في اصول الاحکام لابن حزم، جلد 5،صفحہ 64۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر ابن حزم اور دوسرے حضرات کی یہ تنقید صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں روایتوں میں اختلاف دو الگ الگ معنوں میں ہے ۔ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اپنے آخری معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے اور دوسری روایت میں صرف ابتدائی معنی میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اختلاف میں اصرار کی حد تک جانے کے معنی میں ہے اور دوسری روایت میں مجرد اظہارِ اختلاف کے معنی میں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی ہو ، اس کے ساتھ لوگ یہ بھی جانتے ہوں کہ اختلاف کے باوجود انھیں ہرحال میں جماعت کے ساتھ متحد رہنا ہے، ایسے ماحول میں اختلاف رحمت بن جاتا ہے۔ مگر جہاں ہر آدمی اپنی رائے پر اصرار کرنے لگے ، اختلاف کے بعد وہ کسی طرح متحد ہونے کے لیے تیار نہ ہو تو ایسے ماحول میں اختلاف صرف بربادی تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ پہلے اختلاف کی ایک حد ہے ۔ اور وہ حد یہ ہے کہ جب تک وہ رحمت کا باعث ہے ، اس وقت تک اختلاف، اس کے بعد اختلاف نہیں۔ اس کے برعکس، دوسرا اختلاف کسی حد کو نہیں جانتا۔ وہ شروع ہونے کے بعد برابر جاری رہتا ہے ، خواہ اس کے بعد مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آپس میں لڑنے لگیں ۔

18 اپریل 1983

میں نے ایک عرب عالم کا مضمون پڑھا۔ ان کی یہ بات مجھے پسند آئی کہ اختلاف (difference)برا نہیں، البتہ مخالفت(opposition)برا ہے۔ اختلاف ایک طبیعی امر ہے اور وہ اسلام کے دور اول میں ہی موجود تھا ، مگر وہ مخالفت تک نہیں پہنچا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف روانہ کیا تو بتاکید فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھنا — لَا ‌يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي ‌قُرَيْظَةَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے اس حکم کے الفاظ کو لیا اور بنو قریظہ میں پہنچ کر تاخیر کے ساتھ نماز پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس کو معنی پر محمول کیا اور اس کو تیز قدمی(الاسراع لبلوغ الهدف ) کے معنی میں لیتے ہوئے راستہ میں نماز پڑھ لی۔ اور رسول اللہ نے دونوں کی تصدیق فرمائی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ ( اور اس طرح کے دوسرے واقعات) اس کا کھلا ہوا ثبوت تھے کہ بعض امور میں تنوع ایک فطری امر ہے ، اس لیے ان میں توحّدپیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگ ( خاص طور پر فقہا ) اس حقیقت کو ملحوظ نہ رکھ سکے ، اور امت میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئیں۔

صحابہ اور تابعین تک یہی صورت حال قائم رہی۔ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز اس امت میں آخری قابل ذکر شخص تھے جو اس راز کو جانتے تھے

فَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ القَيِّمِ فِي إِعْلَامِ الْمُوَقِّعِينَ عَنْ سَيِّدِنَا عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي100مَسْأَلَةٍ، وَذَكَرَ عَدَدٌ مِنَ الْمُؤَلِّفِينَ فِي تَارِيخِ التَّشْرِيعِ الإِسْلَامِي،ّ السايس السبكي البربري، أَنَّ هُنَاكَ عِشْرِينَ مَسْأَلَةً اخْتَلَفَ فِيهَا الصَّحَابَةُ. لَمْ يَسْتَنْكِرْ أَحَدٌ هَذَا الْخِلَافَ، إِنَّمَا اعْتَبَرَهُ الْجَمِيعُ أَمْرًا طَبِيعِيًّا لَا يَقْطَعُ وُدًّا وَلَا يُفَرِّقُ صَفًّا. وَلِهَذَا أَيَّدَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَمَا يَذْكُرُ الشَّاطِبِيُّ فِي الاعْتِصَامِ، وَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ ﷺ لَا يَخْتَلِفُونَ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ قَوْلًا وَاحِدًا لَكَانَ النَّاسُ فِي ضِيقٍ، وَإِنَّهُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِهِمْ. فَلَوْ أَخَذَ رَجُلٌ بِقَوْلِ أَحَدِهِمْ لَكَانَ سُنَّةً۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اورحضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان ایک سو مسائل میں باہم اختلاف تھا ۔ تاریخ تشریع اسلامی نے مصنفین سے 20 مسائل شمار کیے ہیں جن میں صحابہ ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے تھے ۔ اس اختلاف کو کسی نے بھی برا نہیں مانا ۔ تمام لوگوں نے اس کو طبعی معاملہ سمجھا جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوئی اور نہ جماعتی انتشار پیدا ہوا۔ اسی لیے حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کی تائید فرمائی ہے۔ جیسا کہ شاطبی نے لکھاہے، انھوں نے کہا  مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اختلاف نہ کرتے ۔ اس لیے کہ اگر صرف ایک ہی قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ اور صحابہ ہی وہ رہنما لوگ ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے ۔ ان کے اختلاف کی وجہ سے یہ ہے کہ آدمی ان کے جس قول کو بھی لے لے وہ سنت ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جون 1983

شیخ تاج الدین سبکی (وفات 1270ء) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیہ الکبری میں لکھا ہے کہ امت کے ہر امام کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ لوگوں نے ان کو نشانۂ ملامت بنایا، اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے — مَا مِنْ إِمَامٍ إِلَّا وَقَدْ طُعِنَ فِيهِ طَاعِنُونَ، وَهَلَكَ فِيهِ هَالِكُونَ (طبقات الشافعیۃ الكبری للسبكی، جلد 2 ، صفحہ 9)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایک چیز ہے اختلاف رائے اور دوسری چیز ہے طعن۔ دلیل کے ساتھ اختلاف رائے کرنا عین جائز بلکہ مفید ہے۔ مگر بے دلیل الزام لگانا اور شخصی عیب جوئی کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کا نام طعنہ زنی ہے۔ اور وہ بلاشبہ ایمان کے منافی ہے۔

ہر زمانہ کے امام (بڑی شخصیتوں) کے ساتھ طعنہ زنی کیوں کی گئی۔ اس کا وا حد سبب حسد ہے۔ انسان اپنے سوا کسی اور کو بڑا ماننا نہیں چاہتا ، اس لیے جب وہ کسی کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی عیب جوئی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے ۔ جس سے وہ حسد کرتا ہے اس کو وہ عملی طور پر چھوٹا نہیں کر پاتا تو لفظوں میں اسے چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ منفی نفسیات کے زیراثر وہ بھول جاتا ہے کہ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کر رہا ہے ، نہ کہ کسی دوسرے کو۔

5 جولائی 1983

حضرت عمر فاروق اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے درمیان سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف رائے تھا (اعلام الموقعین لابن القیم، جلد2، صفحہ167)۔ دونوں اپنی اپنی رائے پر مصر بھی تھے۔ اس کے باوجود دونوں کے تعلق میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ ’’ابن مسعودعلم وفقہ کا خزانہ ہیں ‘‘ —كُنَيْفٌ ‌مُلِئَ فِقْهًاو علْمًا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ297)۔ اور جب حضرت عمر شہید ہوئے توحضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا  عمر اسلام کا مضبوط قلعہ تھے۔ جو اس میں داخل ہوتا وہ باہر نہ جاتا ۔ جب وہ نہ رہے تو اسلام کے قلعہ میں دراڑ پڑ گئی— إِنَّ عُمَرَ كَانَ ‌لِلْإِسْلَامِ ‌حِصْنًا ‌حَصِينًا، يَدْخُلُ فِيهِ الْإِسْلَامُ وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ(مصنف ابن ابی شیبہ، اثر نمبر 31977)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 جولائی 1983

امام احمد بن حنبل خون نکلنے کو ناقض وضو سمجھتے تھے۔ دوسری طرف امام مالک اور سعید بن مسیب کا مسلک تھا کہ ایک شخص وضو کرے اور کسی وجہ سے اس کے بعد اس کے جسم سے خون نکل آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، وہ اسی سابقہ وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس اختلاف کی روشنی میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ ’’ اگر وضو کے بعد امام کے جسم سے خون نکل آئے اور وہ دوبارہ وضو کے بغیر نماز پڑھائے تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔‘‘ امام احمد بن حنبل نے جواب دیا  میں مالک بن انس اور سعید بن مسیب کی اقتدامیں کیسے نمازادا نہ کروں(المغنی لابن قدامة، جلد 1 ،صفحہ 247)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسی طرح امام ابو یوسف خون نکلنے کی صورت میں وضو کے جاتے رہنے کے قائل تھے۔ ان کی موجودگی میں ہارون رشید نے نماز پڑھائی جب کہ اس نے وضو کے بعد پچھنا لگوایا تھا۔ مگر امام ابویوسف نے اعتراض نہیں کیا۔ انھوں نے ہارون رشید کے پیچھے نماز ادا کر لی اور پھر اس کو نہیں دہرایا۔

other sourceWords of another person or source

اس سے اجتماعیت کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ’’امام ‘‘ سے اگر ایسا فعل صادر ہو جو مقتدی کے نزدیک نماز کوفاسد کر دینے والاہو، تب بھی مقتدیوں کو اپنی نیت کے مطابق اس کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہیے ۔ حتی کہ بعد کو اپنی نماز کو دہرانا بھی نہیں چاہیے۔ کیوں کہ نماز کا دہرانا بھی غیرضروری خلفشار کا باعث ہوسکتا ہے۔

30 جولائی 1983

محمد بن اسحاق تابعی (85-150ھ) قدیم ترین سیرت نگار ہیں۔ ان کی اصل کتاب اگرچہ اب موجود نہیں، مگر ابن ہشام کی موجودہ سیرت میں ان کی پوری کتاب شامل ہے۔

ابن اسحاق علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ وہ امام مالک کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے اپنی معلومات کے مطابق امام مالک کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ وہ قبیلہ ذی اصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔ مگر خود امام مالک اپنے آپ کو حمیر کی شاخ اصبح میں سے خیال کرتے تھے۔ اس اختلاف کی بنا پر دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام مالک نے جب حدیث کی کتاب موطا تیار کی تو کہا جاتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ، اس کا معالج میں ہوں — اِيتُونِي بِهِ فَأَنَا بَيْطَارُهُ۔ یہ بات امام مالک تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایتیں نقل کرتا ہے— هَذَا دَجَّالٌ مِنَ الدَّجَّالِينَ، يَرْوِي عَنِ الْيَهُودِ) الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 382۔ ابن حبان نے کتاب الثقات میں لکھا ہے کہ محدثین کو محمد بن اسحاق پر یہ اعتراض تھا کہ خیبر، قریظہ، نضیر کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے، جن کے آباء و اجداد مسلمان ہو گئے تھے۔ اور چونکہ یہ باتیں انہوں نے یہود سے سنی ہوں گی ، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا( الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 382-383)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام مالک نے ابن اسحاق کی تردید میں جو الفاظ کہے، وہ تنقید سے بھی آگے کے ہیں۔ مگر اتنی سخت تنقید کے باوجود کسی نے اس کو برا نہیں سمجھا۔ دور اول میں جب مسلمان زندہ تھے تو اس قسم کا اختلاف رائے یا تنقیدیں عام تھیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہ بالکل مردہ ہو چکے ہیں، ان کے اندر زندگی کی قسم کی کوئی چیز باقی نہیں۔

21 ستمبر 1983

حج کے ارکان حنابلہ کے نزدیک چار ہیں الإِحْرَامُ، وَالْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ، وَطَوَافُ الْإِفَاضَةِ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔ شافعیہ کے نزدیک حج کے ارکان پانچ ہیں۔چار مندرجہ بالا اور پانچواں الحَلْقُ وَالتَّقْصِيرُ۔ احناف کے نزدیک حج کے ارکان صرف دو ہیں الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ، وَمُعْظَمُ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ۔

یہ تو صرف بڑے اختلاف کی مثال ہے۔ ورنہ حج کی تفصیلات ( اور اسی طرح دوسری عبادتوں کی تفصیلات) میں بے شمار اختلافات ہیں، جن کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے۔ میرے نزدیک یہ سب غیر ضروری ہے۔ مثلاً مذکورہ فرق کو لیجیے۔ فقہا کے درمیان اگرچہ ارکان ِ حج کی تعداد مقرر کرنے میں اختلاف ہے، تاہم اس میں سب متفق ہیں کہ مذکورہ ارکان میں سے کسی ایک رکن کا ترک بھی حج کو باطل کر دیتا ہے — كُلُّهُمْ مُتَّفِقُونَ عَلَىٰ أَنَّ تَرْكَ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْحَجِّ يُبْطِلُ الْحَجَّ۔ جب حج کی صحیح ادائیگی کے لیے مذکورہ تمام ارکان پر عمل کرنا ضروری ہو تو پھر غیر ضروری فنی بحثیں نکال کر ان کی تعداد میں فرق کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

29 اکتوبر 1984

خلیفہ منصور عباسی نے حج کیا تو دیکھا کہ لوگ طرح طرح سے مراسم حج ادا کر رہے ہیں۔ اس نے چاہا کہ امام مالک کی کتاب کی بہت سی نقلیں تیار کر کے تمام بلاد وامصار میں روانہ کرے اور لوگوں کو ہدایت کر دے کہ وہ اسی کتاب (موطا) کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ خلیفہ نے جب اپنے اس ارادہ کا ذکر امام مالک سے کیا تو انھوں نے کہا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَاتَفْعَلْ هَذَا (طبقات ابن سعد، جلد 7، صفحہ573)۔یعنی، اےامیر المومنین ایسا نہ کیجیے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ آیا۔ اس نے بھی سفر حج میں مذکورہ منظر دیکھا تو مدینہ پہنچ کر دوباره امام مالک سے وہی بات کہی جو خلیفہ منصور نے کہی تھی۔ امام مالک نے دوبارہ جواب دیا لَا تفعل فَإِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي الْفُرُوعِ وَتَفَرَّقُوا فِي الْبُلْدَانِ وَكُلّ مُصِيب (المیزان الکبریٰ للشعرانی، جلد1، صفحہ215)۔ یعنی، اے امیرالمومنین ایسا مت کیجیے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعی امور میں مختلف تھے اور وہ شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک درست ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ محدثین کا نقطہ نظر تھا۔ وہ صحابہ کے اختلاف کو توسع پر محمول کرتے تھے ۔ امام سفیان ثوری کا قول ہے  لَا تَقُولُوا اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي كَذَا اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي كَذَا قَدْ وَسَّعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى الْأُمَّةِ بِكَذَا (المیزان الکبریٰ للشعرانی، جلد1، صفحہ162)۔ یعنی،یہ نہ کہو کہ علما نے اس میں اختلاف کیا بلکہ یہ کہو کہ اس میں علما نے امت پر توسع کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فروعی امور میں صحابہ کے اختلافات جن کو محدثین نے توسع قرار دیا تھا ، انھیں اختلافات پر فقہا نے اپنی اپنی فقہ کی بنیاد رکھ دی۔ فقہا نے ان اختلافات کو لے کر یہ بحث شروع کردی کہ کون صحیح ہے اور کون غیر صحیح ۔ کون اولیٰ ہے اور کون غیراولیٰ۔ کون افضل ہے اور کون غیرافضل۔ یہ بحثیں یقینی طور پر بدعت تھیں ۔ انھیں بحثوں کے نتیجہ میں امت کے اندر وہ اختلافات و انتشار پیدا ہوا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ فقہا اگران فروعی اختلافات کو محدثین کی طرح توسع کے خانہ میں رکھتے تو امت بے شمار لایعنی جھگڑوں سے بچ جاتی۔

14 جنوری 1985

انڈیا کے ایک عالم دین لندن کی ایک مسجد میں امام ہیں۔وہ لندن جاتے ہوئے مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان کے فلاں عالم صاحب بہت بڑے عالم تھے۔ جزئیاتِ فقہ پر ان کی نظر جتنی وسیع تھی شاید ہی ہندو پاک میں کسی دوسرے عالم کی ہو‘‘۔ گویا جزئیاتِ دین کے عالم ہونے کا نام عالم ہے، اساسات دین کا عالم ہونے کا نام عالم نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فقہ جب ابتداء ً بنی تو اساساتِ دین کے مطالعہ کے لیے نہیں بنی بلکہ مسائل دین کے مطالعہ کے لیے بنی۔ اس طرح فقہ پر جزئیاتی ذہن غالب آگیا۔ اسی فقہ پر ہمارے موجودہ مدارس کی بنیاد قائم ہے۔ ہمارے مدارس میں جزئیاتی مسائل پر زبردست بحثیں ہوتی ہیں۔ حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ جزئیاتی مسائل کے عالم ہونے کا نام عالم ہے۔ اس طریقۂ تعلیم نے ملت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ زمانے کے دینی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مدارس کا تعلیمی نظام فقہ پر قائم ہے۔ اگر مدارس کا نظام قرآن و حدیث پر قائم کیا جائے تو اس قسم کے جھگڑے اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔

2 مارچ 1985

حُمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں یزید کی ولی عہدی کے وقت حضرت بُشیر کے پاس گیا ،جو صحابہ میںسے تھے۔ میں نے ان سے یزید کے بارے میں اظہارِ خیال کے ليےكها۔ انھوںنے کہا يَقُولُونَإِنَّما يَزيدُ لَيسَ بِخَيْرٍ لأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنا أَقُولُ ذَلِكَ، وَلَكِنْ لأَنْ يَجْمَعَ اللهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَفْتَرِقَ (تاریخ الاسلام للذہبی،جلد 4، صفحہ 87)۔ یعنی، لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کےبہتر لوگوں میں سےنہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن امتِ محمدي کا اتفاق سے رهنا، مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزيد کو ولی عہد بنایا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے۔ مثلاً حسین بن علی، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افراد ملت کے اندر موجود تھے۔ ایسی حالت میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہوسکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید كے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ اصحابِ رسول کی یہ خاموشی یقینی طورپر بزدلی کی بنا پر نہ تھی، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔

7مارچ 1985

ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون مصافحہ کے شرعی طریقہ کے بارے میں ہے۔ اس میں ’’احادیث نبوی‘‘ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دو نوںہاتھوں سے مصافحہ کرنا افضل ہے۔ تاہم ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میںکوئی حرج نہیں۔ یہ ایک حنفی عالم کا مضمون ہے۔ دوسری طرف اہلِ حدیث علما یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا افضل ہے، اور ان کے پاس بھی حدیث موجود ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کے امور میں افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑنا سراسر خلاف سنت ہے۔ جس معاملے میں بھی ایک سے زیادہ طریقہ حدیثوں میں موجود ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں توسع ہے۔ یعنی یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ ایسے تمام امور میں دونوں ثابت شدہ طریقوں کو درست قر ار دینا چاہیے، نہ کہ ایک کو افضل اور دوسرے کو غیر افضل ثابت کیا جائے۔

اسی لیے حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ میں یہ پسندنہیںکرتا ہوں کہ اصحابِ رسول اختلاف نہ کرتے۔ کیوں کہ اگر صرف ایک قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ وہ لوگ نمونہ تھے۔ ان کی اقتدا کی جاتی ہے، اگر کوئی آدمی ان میں سے کسی کے بھی قول کو اختیار کرلے تو وہ آسانی میں ہے  مَا أُحِبُّ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْتَلِفُوا؛ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ قَوْلًا وَاحِدًا كَانَ النَّاسُ فِي ضِيقٍ وَإِنَّهُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِهِمْ وَلَوْ أَخَذَ رَجُلٌ بِقَوْلِ أَحَدِهِمْ كَانَ فِي سَعَةٍ (جامع بیان العلم و فضلہ، جلد2 ،حدیث نمبر1689)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بعدکے لوگوں میں جو فقہی اختلافات ہوئے ان سب کا ابتدائی سبب صحابہ کے یہاں موجود تھا۔ مگر فرق یہ ہے کہ صحابہ کا ذہن ان اختلافات میںیہ تھا کہ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست۔ مگر بعد کے لوگوں نے یہ بدعت کی کہ ان اختلافات میںافضل اور غیر افضل تلاش کرنے لگے۔ بس یہیں سے شدت پیدا ہوئی، اور اختلاف آخر کار نااتفاقی بن گیا۔ اختلافی امور میں توسع کا ذہن ہو تو کوئی نقصان نہیںہوتا۔ مگر جب افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑ دی جائے تو وہیں سے تباہ کن اختلاف کا آغاز ہوجاتا ہے۔

13 مارچ 1985

جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اُس کے مقابلہ میں آدمی کی روش کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی رد عمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی رد عمل کا طریقہ۔جولوگ منفی ردعمل کی بنیاد پر جمع ہوتے ہیں، ان کی مثال بالکل جوار بھاٹا(tide)کی ہے۔جوار بھاٹا جتنی تیزی سے اوپر اٹھتا ہے، اسی تیزی سےوہ نیچے بھی اتر جاتا ہے۔

یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو کسی مخالفانہ نعرے کی بنیاد پر اکٹھا ہوں۔ کیوں کہ اس طرح اکٹھا ہونے والے لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ اگر اقتدار پر قبضہ پالیں تب بھی کوئی مثبت کام نہیں کرسکتے۔ وہ جتنی تیزی سے جمع ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے دوبارہ منتشر ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کا منفی اتحاد مسلمانوں میں بھی کثرت سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جذباتی رد عمل عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (allergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ الرجی نام ہے معتدل حالات میں غیر معتدل رد عمل کا

Abnormal reaction to normal things.

مثلا مخالفانہ نعرہ کو سُن کر مشتعل ہو جانا، توہین کے کسی معاملہ پر بھڑک اُٹھنا، اپنی سوچ کے خلاف سوچ کو برداشت نہ کرسکنا، یہ سب جذباتی ردِعمل کی صورتیں ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ دوسروں کے خلاف نفرت اور تشدد میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ زندگی کے مثبت اور تعمیری رخ کا تجربہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس کے برعکس، دوسرا طریقہ غیر جذباتی رد عمل کا طریقہ ہے۔ اسی کو قرآن میں ہجر جمیل کہا گیا ہے (73:10)۔ یعنی جب اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آئے تو مشتعل نہ ہو کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنا، اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت معتدل انداز میں تعمیری اقدام کرنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19 مارچ 1985

صحابي رسول بشیر بن خصاصیہ كا واقعه ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ سرکاری عمال صدقہ لینے میں ہم پر زیادتیاں كرتے هيں — إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، کیا هم اپنے مال میں سے زیادتی کے بقدر چھپالیں، بشير بن خصاصيه نے كها نہیں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 1586)۔ اسي طرح سعد بن ابی وقاص کی ایک روایت میں ہے ادْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ مَا صَلَّوُا الْخَمْسَ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر343)۔ یعنی، جب تک وہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، زکوٰۃ انھیں دیتے رہو۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظامِ خلافت بدل گیا اور حکام ظلم وتشدد پر اترآئے، تو بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ایسے لوگ ہماری زکوٰۃ کے کیوں امین سمجھے جائیں۔ لیکن تمام صحابہ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃ انھیں کو دینی چاهيے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عبد اللہ بن عمر سے ایک شخص نے پوچھاکہ اب زکوٰۃ کس كو دیں۔ کہا وقت کے حاکموں کو۔ انھوں نے کہا وہ تو زکوٰۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر خرچ کرڈالتے ہیں (إِذًا يَتَّخِذُونَ بِهَا ثِيَابًا وَطِيبًا)۔ ابن عمر نے کہا وَإِنِ اتَّخَذُوا ثِيَابًا وَطِيبًا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 10191)۔ یعنی، اگر چہ وہ کپڑے اور عطر لے لیں (پھر بھی تم انھیں کو زکوٰۃ دو)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابہ نے یہ جو کہا، يه کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں کہا۔ درحقیقت یہی اسلام کا حکم ہے۔ مسلمان کی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ اگر مسلم حکمرانوں میں خرابی نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر ناجائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلا شبہ مجرم ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21 ستمبر 1985

اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلاشرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ ان کی تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جاسکتا ہے — وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظرانداز کرکے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ جولوگ خود مسائل میں مبتلا ہوجائیں، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔

27جنوری 1986

پروفیسر علی اشرف(جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی) سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا میں ہر مہینہ باقاعدہ الرسالہ پڑھتا ہوں۔اس سے پہلے 1980ءمیں آپ کی تمام کتابیں خرید کر پڑھ چکا ہوں۔ بعض کتابیں ایک سے زیادہ بار بھی پڑھی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تحریروں میں جو فکر پیش کیا ہے اس سے مجھے صد فی صد اتفاق ہے۔اب تک کے مطالعے میں مجھے آپ کی صرف ایک بات کھٹکی ہے اور وہ آپ کا وہ مضمون ہے، جس کاعنوان ہے حسنین تاریخ کے دو علامتی کردار(ظہور اسلام، صفحہ 90)۔

other sourceWords of another person or source

اس مضمون کو پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گویا آپ یہ تلقین کر رہے ہیں کہ انسان کو برائی کے مقابلے میں کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کو برائی کے مقابلے میں اپنا سر جھکا کر بیٹھ جانا چاہیے۔

میں نے کہا کہ مجھے برائی کے خلاف اقدام کرنے پر اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسے اقدام پراعتراض ہے جب کہ اقدام سے نقصان ہوجائے مگر برائی وہیں کی وہیں باقی رہے۔

میں نے کہا کہ میرا اختلاف برائی کے خلاف اقدام سے نہیں ہے بلکہ میرا اختلاف ایسا اقدام سے ہے جو نتیجہ خیز ہونے والا نہ ہو۔قبل از وقت اقدام یا تیاری کے بغیر اقدام ہمیشہ بے فائدہ ہوتا ہے۔اور اقدام کی یہی وہ قسم ہے جس سے مجھے اختلاف ہے۔برائی کے خلاف عملی اقدام صرف اس وقت کرنا چاہیے جب کہ اقدام کے ضروری اسباب فراہم ہوگئے ہوں۔بصورتِ دیگر برائی کے خلاف نصیحت اور تلقین کی سطح پرکام کیا جانا چاہیے، نہ کہ عملی اقدام کی سطح پر۔پروفیسر علی اشرف صاحب نے میری اس وضاحت سے اتفاق کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

26فروری 1986

ڈاکٹر عبدالاحدصاحب(بنگلور) ملنے کے لیے تشریف لائے۔ وہ الرسالہ کے قاری بھی ہیں اور دس پرچہ منگا کرتقسیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے بعض قارئین کا کہنا ہے کہ الرسالہ میںتنقید نہیں رہنا چاہیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ تنقید تو کسی قوم کی زندگی کی علامت ہے۔صحابہ کرام عام طور پر ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقید کرتے تھے۔مثلاً حضرت ابن عمر نے ایک بار حضرت ابو ہریرہ کے بارے میں کہا كَذَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ ( قبول الاخبار ومعرفۃ الرجال لابی القاسم بلخي، جلد 1، صفحہ 184)۔ یعنی، ابوہریرہ نے جھوٹ کہا۔ اس جملے کو اگر خالص لفظی معنیٰ میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابو ہریرہ ساقط الروایۃ ہیں۔کیوںکہ جو شخص جھوٹ بولے اس سے روایت نہیں کی جاتی۔مگر یہ صرف شدت کلام ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرنے میں کتنے شدید الفاظ استعمال کرتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں آیا ہے اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ،حدیث نمبر39)۔اس حدیث میں لوگ اختلاف کو انتشار کے معنیٰ میں لے لیتے ہیں۔اس لیے انھیں اس کی تاویل میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔حتیٰ کہ کچھ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سند کے اعتبار سے یہ روایت لینے کے قابل نہیں ہے۔مگر اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔کیوں کہ اس حدیث میں اختلاف کا لفظ انتشار کے معنیٰ میں نہیں ہے۔بلکہ اختلافِ رائے(dissent) کے معنی میں ہے۔اس کا مطلب ہے، ایک رائے کی جگہ دوسری رائے کو دلیل کے ذریعے پیش کرنا ہے، نہ کہ مختلف گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک حقیقت ہے کہ اختلاف رائے کی فضا کا ہونا کسی قوم کے لیے رحمت ہے۔جس قوم میں اختلاف رائے ہوگا اس کے اندر جمود نہیں ہوگا۔اگر ان کے اندرکوئی غلطی واقع ہوگی تو وہ بذریعہ تنقید اپنی اصلاح کرتی رہے گی۔ کسی غلط روش کا برقرار رہنا اس کے اندر ناممکن ہو جائے گا۔اس کے اندر یہ ذہن ہوگا کہ چیزوں کو ان کے جوہر (merit)کی بنیاد پر اہمیت دی جائے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔موجودہ دور میں سائنس کی ترقی اسی اختلاف کی بنیاد پر ہوئی ہے۔سائنس دانوں کے درمیان اختلاف رائے اگر ممنوع ہوتا تو کبھی سائنس ترقی نہ کرتی۔

26 اپریل 1986

مولانا کبیر الدین فاران(ہماچل پردیش)سے ملاقات ہوئی۔ وہ ذہین آدمی ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرے اندر تنقیدی مزاج ہے۔ مجھے کسی رائے سے اختلاف ہوتا ہے تو میں فوراً اس کا اظہار کر دیتا ہوں۔

میں نے کہا کہ یہ مزاج بذات خود صحیح مزاج ہے۔ مگر مسلمان عام طور پر’’ اختلافِ رائے‘‘ اور ’’ اختلافِ امر‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔اختلافِ رائے یعنی سوچ کا فرق اور اختلافِ امر یعنی عملی مخالفت۔ میرے نزدیک اختلافِ رائے ایک جائز عمل ہے ، مگر اختلافِ امر بالکل ناجائز ہے۔ اختلافِ رائے اور اختلافِ امر میں فرق کی مثالیںاصحابِ رسول کے یہاں بھی موجود ہیں۔ حضرت عثمان کے زمانے میں صحابیِ رسول ابو ذر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ۔ وہاں ان کومعلوم ہوا کہ خلیفہ ثالث عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے دوران چار رکعتیں پڑھی ہے، قصر نہیں کیا ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے سخت الفاظ میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ آپ نے صرف دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ابوبکر وعمر کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ اس کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی ۔ لوگوں نے کہا  آپ نے امیر المومنین پر چاررکعت کے لیے اعتراض کیا اور خود وہی کر رہے ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا  الْخِلَافُ أَشَدُّ (مسنداحمد، حدیث نمبر21460)۔ یعنی،عملی مخالفت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی قسم کا واقعہ مشہور صحابیِ رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ہے۔ انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے منیٰ میں چار رکعت پڑھنے پر بہت ہی سخت الفاظ میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پھر خود چار رکعت پڑھی ۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا  اختلاف کرنا برا ہے (‌الْخِلَافُ ‌شَرٌّ) سنن ابو داؤد، حدیث نمبر1960۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں رائے کے معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ امر اور نظم (system) سے اختلاف کرنا بھی ان کے لیے درست ہے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے مسلمانوں سے کوئی متحدہ کام نہیں ہو پاتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث ’’اخْتِلافُ ‌أُمَّتِي ‌رَحْمَةٌ‘‘ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی،حدیث نمبر39) کا مطلب بھی یہی ہے۔یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔اس حدیث میں اختلافِ رائے کے اظہار کو رحمت کہا گیا ہے، نہ کہ عملی اختلاف و انتشار کو۔افراد کو ہر کام میں اجتماعی نظم کا پابند رہنا چاہیے۔البتہ اختلافِ رائے كو مثبت طريقے سے ظاهر كرنے کے معاملہ میں ان پر کوئی پابندی نہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ کسی بھی شخص سے رائے کے معاملہ میں اختلاف کر سکتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

23 جون 1986

مجھے اپنی زندگی میں بار بار ایک ہی تجربہ ہوا ہے۔اس تجربہ میں ابھی تک کوئی استثنا ثابت نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ تجربات کی اس لمبی مدت میں اکابر کے نام بھی موجود ہیں اور اصاغر کے نام بھی۔

وہ تجربہ یہ ہے کہ ایک شخص ابتدائی تعلقات میں میرے ساتھ خوش اخلاقی برتتا ہے، وہ بڑے بڑے الفاظ میں میرا اعتراف کرتا ہے، وہ میرے مشن میں بھرپور ساتھ دینے کا اقرار کرتا ہے۔اس کے بعد جب تعلقات بڑھتے ہیں اور کوئی اختلافی بات سامنے آتی ہے یا کسی وجہ سے اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہی آدمی دوسرا آدمی بن جاتا ہے۔

میری تعریف کرنے والا میری برائی کرنے لگتا ہے۔ میرا ساتھ دینے والا میرا دشمن بن جاتا ہے۔ جو شخص پہلے میرے مقابلے میں خوش اخلاقی کا پیکر تھا، اب وہ میرے مقابلہ میں بداخلاقی کا مجسمہ نظر آنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ میری تخریب کاری اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اخلاق کے اعتبار سے عین اس مقام پر ہیں جہاں پہلے یہود تھے۔معمول کے حالات میں اچھا بنےرہنا اور غیر معمول والے حالات پیدا ہوتے ہی کچھ سے کچھ ہو جانا، یہ یقینی طور پر یہودیت ہے۔ اور یہی یہودیت ہے جس پر آج کے مسلمان قائم ہیں۔

مومن و مسلم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے، اور اللہ سے ڈرنے والا آدمی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ دوستی کے وقت اچھا بنا رہے اور اختلاف کے وقت تخریب کاری کا نمونہ پیش کرے۔

24 جنوری 1989

جمادی الاولی (1409ھ) میں کویت میں ایک نہایت اہم اجتماع ہوا۔ اس کی کاردائیاں کویت کے ہلٹن ہوٹل میں انجام پائیں ۔ اس میں عرب سربراہ اور مسلم حکومتوں کے نمائندے شریک تھے۔ پاکستان سے شمس الدین پیرزادہ نے شرکت کی جن کی حیثیت وزیر کی ہے ۔ اس اجتماع میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ پیمانہ پرمجمع الفقہ الاسلامی قائم کی جائے جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ ہو۔

اعلان کردہ مقاصد کے اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم ادارہ ہے ۔ مگر یقینی ہے کہ اس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس کے ’’المادة السابعة‘‘ کے مطابق ، مجمع الفقہ الاسلامی میں المؤتمر الاسلامی سے تعلق رکھنے والی ہر مسلم مملکت کا ایک ممبر ہوگا اور اس ممبر کا تعین متعلقہ حکومت کرے گی— يَكُونُ لِكُلِّ دَوْلَةٍ مِنْ دُوَلِ مُنَظَّمَةِ الْمُؤْتَمَرِ الْإِسْلَامِيِّ عُضْوٌ عَامِلٌ فِي الْمَجْمَعِ وَيَتِمُّ تَعْيِينُهُ مِنْ قِبَلِ دَوْلَتِهِ( صفحہ 121)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جو ادارہ مسلم حکومتوں کے نامزد کردہ افراد پر مشتمل ہو ، وہ یقینی طور پر ایک رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گا، وہ کوئی زندہ کام نہیں کرسکتا۔ مگر دوسری مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں کے جوغیر حکومتی ادارے ہیں وہ اختلافات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اجتماعی ادارے دو میں سے کسی ایک کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ حکومت کی سرپرستی میں ہیں تو وہ رسمی ہوکر رہ گئے ہیں اور اگر وہ آزاد ہیں تو اندرونی اختلافات کا شکار ہیں۔

2مارچ 1989

ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت امت کی اصل ضرورت اتحاد ہے، اور اس کے لیے آپ کچھ نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ آپ کے خیال سے کیا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے انھوں نے کہا کہ تمام مسلم اکابر کو جمع کیجیے اور اتحاد کے مسئلہ پر لوگوں کو توجہ دلائیے۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں سے اگر اتحاد قائم ہوسکتا تو اب تک اسے قائم ہو جانا چاہیے تھا کیوں کہ ملت کے اندر اتحاد کانفرنسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے کہاکہ پھر اتحاد کی تدبیرکیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد کے لیے اتحاد کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملت کے اندر وہ استعداد موجود نہیں جس پر اتحاد کی تعمیر ہوتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے کہا کہ استعداد سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے مراد ہے ملت کے افراد کے اندر اس شعور کی موجودگی کہ اتحاد اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں ۔ صحابہ کرام بلاشبہ اتحاد کی غیر معمولی مثال ہیں۔ مگر ان کا اتحاد اختلاف کے باوجود متحد ہونے کی زمین ہی پرقائم ہوا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ حضرت عمر نے خلیفہ ٔ اول ابوبکر صدیق کا ایک فرمان بر سرعام پھاڑ کر پھینک دیا(فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر 383)۔ مگروہاں کوئی کہرام نہیں مچا۔ آج اگر کوئی شخص کسی بڑے دینی ادارہ میں جائے اور وہاں کے اکابرکی ایک کتاب پھاڑ کر پھینک دے تو وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا۔ آج اگر کوئی شخص ایک اسلامی ادارہ میں ایسا کرے تووہ وہاں سے نکال دیا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے اندر اتحاد کی استعداد تھی، آج کے مسلمانوں میں اس کی استعداد نہیں ۔ ایسی حالت میں پہلا کام ذہنی استعداد پیدا کرنا ہے ، نہ کہ کوئی جذباتی اشو کھڑا کر کے بھیڑ جمع کرنا ۔ بھیڑ اور اتحاد کے فرق کو نہ جاننے والے ہی بھیڑ پرخوش ہوسکتے ہیں۔

16 مارچ 1989

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام’’ باوجود‘‘ کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں برے اخلاق کا جواب اچھے اخلاق سے دینے کا نام اخلاق ہے۔یہاں اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا نام صبر ہے۔

اس دنیا میں آدمی کو رکاوٹوں کے باوجود کامیابی کا راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ یہاں اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا رازجان گئے ہوں۔

14 مئی 1989

دھولیہ (مہاراشٹر) میں مارچ 1989 میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔دھولیہ کے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہولی کے موقع پر ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر پانی پھینکا تھا۔ مگرجب دونوں فرقوں میں جھگڑا ہوگیا تو مسلمانوں نے معاملہ کو بھیانک بنانے کے لیے خود رات کے وقت مسجد کی دیواروں پررنگ ڈال کر اس کو رنگین کر دیا تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ ڈالا تھا۔

میں نے کہا کہ میں اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھ دیتا ہوں ۔ مگر دھولیہ والوں نے سخت اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری تمام رپورٹیں، تمام کاغذات اور مقدمہ کے بیانات، سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں نے رنگ پھینکا۔ اب اگر آپ لکھ دیں کہ ہندوؤں نے پانی پھینکا تھا اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے رنگ ڈال دیا تو ہمارا کیس بگڑ جائےگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں کا یہی مزاج ہے جس نے انھیں خدا کی مدد سے محروم کر رکھا ہے اور وہ مسلسل بربادی کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کی مدد ہمیشہ سچ پر آتی ہے ۔ جھوٹ پر کبھی خدا کی مدد نہیں آتی، آپ لوگ جھوٹ پر خدا کی مدد اتارنا چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک آپ کے اوپر نہیں اتری۔

12 جون 1989

موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اتحاد کی باتیں کرتے ہیں ۔ مگرموجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اختلاف کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اس کے سبب پر غور کرتے ہوئے میری زبان سے نکلا مسلمان اتحادیوں کے ساتھ متحد ہوکر رہنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اختلافیوں کے ساتھ متحد ہوکر رہنے کا نام اتحاد ہے ۔ اتحاد کی یہی وہ اہم ترین حقیقت ہے جس سے ہمارے اصاغر بھی نا آشنا ہیں اور ہمارے اکابر بھی ناآشنا ۔

16 جون 1989

مکہ سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام الرابطۃ ہے۔ اس کے شمارہ ذوالقعدہ 1409ھ میں مدینہ کا مسجد نبوی کے امام الشیخ علی عبد الرحمٰن الحذیفی کا ایک خطبہ نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے وہاں کی مسجد نبوی میں دیا تھا۔ انھوں نے کہا يَا أُمَّةَ الْإِسْلَامِ، لِمَاذَا الِاخْتِلَافُ وَالدِّينُ وَاحِدٌ، إِلَى مَتَى الشِّقَاقُ وَالْأُمَّةُ وَاحِدَةٌ، إِلَى مَتَى التَّفَرُّقُ وَأَنْتُمْ تُدْرِكُونَ مَا فِيهِ مِنَ الضَّرَرِ وَالْفَسَادِ(صفحہ 6)۔یعنی، اے مسلم امت باہمی اختلاف کیوں، جب کہ دین ایک ہے ۔ باہمی جھگڑے کب تک، جب کہ امت ایک ہے ۔ باہمی تفریق کب تک حالاں کہ تم جانتے ہو کہ اس میں کتنا زیادہ نقصان اور بگاڑ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق کے لیے اس قسم کی جذ باتی اپیلیں سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے کی جارہی ہیں۔ مگر عملی صورتحال آج اس سے بھی زیادہ خراب ہے جتنا کہ سوسال یا پچاس سال پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرآدمی یہ فرض کر کے بول رہا ہے کہ امت اسلام واقعہ میں موجود ہے۔ جب کہ خود امت اسلام سرے سے موجود نہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ بھیڑ کو امت اسلام سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی قدیم شہر کے کھنڈروں کو دیکھ کر سمجھنا کہ خود وہ شہر زندہ حالت میں موجود ہے۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ دوبارہ ’’امت اسلام‘‘ وجود میں لائی جائے۔ اس کے بعد ہی اگلے مرحلہ کا کوئی کام کیا جاسکتا ہے۔

11 جولائی 1989

تفسیر قرطبی فقہی انداز کی تفسیر ہے ۔ قرطبی امام مالک کے مسلک کے تھے۔ تاہم انھوں نے بعض مقامات پر امام مالک سے اختلاف کیا ہے۔ مثلاً حج کے موقع پرجو رمی جمار کیا جاتا ہے، اس کے متعلق حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی کنکریاں (چنے کی دال کے برابر) ماری جا سکتی ہیں( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3029)۔ اس سلسلہ میں امام مالک نے کہا ہے کہ اس سے بڑی کنکری مجھ کو زیادہ محبوب ہے — أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ۔ قرطبی نے اس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امام مالک کے اس قول کے کوئی معنی نہیں — وَلَا ‌مَعْنَى ‌لِقَوْلِ ‌مَالِكٍ( تفسیر القرطبی، جلد3، صفحہ11)۔ اس تنقید میں استخفاف کا عنصر شامل ہے ۔ مگرکسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ موجودہ زمانہ میں تو لوگ تنقید کے بارے میں اتنے حساس ہو گئے ہیں کہ خالص علمی اور تجزیاتی تنقید بھی انھیں گوارا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

15 اگست 1989

آرسی زینر (R.C. Zaehner) ایک آکسفورڈ اسکالر ہیں۔انھوں نے مختلف مذاہب کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جو 1970 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے۔ہم آہنگ ناموافقت 

Concordant Discord

اس کتاب کے مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم مختلف مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بہت سے اختلافات نظر آتے ہیں لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاهر بے آہنگی (disharmony) میں آہنگ (harmony) موجودہے۔

بہت سے سیکولرعلما (مثلاً ڈاکٹر بھگوان داس) نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ تمام مذاہب ظاہری اختلافات کے باوجود ایک ہیں ۔ وہ اس طرح اہل مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں اس کو بے فائدہ سمجھتا ہوں ۔ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی تدبیر یہ نہیں ہے کہ تمام مذاہب کو ایک ثابت کیا جائے۔ اس کی واحد کارگر تدبیر یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر رواداری (tolerance ) کامزاج پیدا کیا جائے یعنی اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرنا اور اختلاف کا اظہار سنجیدہ علمی دائرہ میں کرنا ، نہ کہ مناظرہ اور تصادم کے دائرہ میں ۔ اس دنیا میں امن قائم کرنے کا راز اختلاف کو برداشت کرنا ہے ، نہ کہ اختلاف کو ختم کرنا۔ اس معاملہ میں دوسری کوئی صورت سرے سے ممکن ہی نہیں۔

20 ستمبر 1989

جھینگا مچھلی کو عربی میں اِربیان یا دود کہتے ہیں ۔کسی نادان نے مفتی صاحبان سے فتوی پوچھاکہ جھینگا حرام ہے یا حلال ۔مفتی کو کہنا چاہیے تھا کہ اس قسم کے سوال نہ کرو جب قرآن میں کہہ دیاگیا ہے  أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعامُهُ (5:96)۔یعنی، تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا۔ایسی حالت میں اس قسم کا سوال غیر ضروری ہے۔ مگر مفتی صاحبان نے اس نادانی پر یہ اضافہ کیا کہ فور ا ً اس کے حلال وحرام کافتوی دینے لگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بعد کے کچھ علما نے دیکھا کہ اس معاملہ میں اصحاب فقہ کے درمیان اختلاف ہے تو انھوں نے تیسری نادانی کی ۔ انھوں نے کہا کہ چوں کہ جھینگا کچھ علما کے نزدیک حرام ہے، اور کچھ دوسرے علما اس کو حلال بتاتے ہیں ، کیوں کہ اس کو مچھلی کہا جاتا ہے ،اس لیے احتیاط یہ کہ اس کو نہ کھایا جائے — الدَّوْدُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ جِهينْگا، حَرَامٌ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَلَالٌ، لِأَ نَّهُ يُسَمَّى بِاسْمِ السَّمَكِ، فَالِاحْتِيَاطُ أَنْ لَا يُؤْكَلَ(حاشیۃ جلالین، المائدۃ، آیت 96)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فقہ اورفتاوی کی کتابوں میں اس قسم کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگروہ سب کے سب انتہائی حد تک نامناسب اور بے معنی۔ جن چیزوں کو خدا اور رسول نے حرام نہ کہا ہو، ان کو حرام کہنا ایسی جسارت ہے جس کے لیے دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ صحابہ وتابعین کے زمانہ میں اس طرح حرام وحلال کی بحثیں نہیں کی جاتی تھیں۔ بعد کے علما ہر معاملہ میں حرام وحلال کی بحثیں کرنے لگے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے۔

4 مارچ 1990

مولا ناانیس لقمان ندوی کے ساتھ فجر کی نماز کالی مسجد (نظام الدین) میں پڑھی۔ نماز سے واپس آتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں اسلام کا ظاہری ڈھانچہ تو باقی رہا مگر اسلام کی اصل اسپرٹ کم ہوگئی۔ میں نے مثال دیتے ہوئے چند باتوں کا ذکرکیا۔ مثلاً مکہ اسپرٹ ،حدیبیہ اسپرٹ ،افْعَلْ ‌وَلَا ‌حَرَجَ (کر لو، کوئی حرج نہیں) اسپرٹ، حسن (بن علی)اسپرٹ ، وغیرہ۔

مکہ اسپرٹ سے مراد ہے یک طرفہ صبر کرتے ہوئے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچانا۔ حدیبیہ اسپرٹ سے مرادہے مشکلات کو چھوڑ کرمواقع کو استعمال (avail) کرنا۔ افْعَلْ ‌وَلَا ‌حَرَجَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 124) اسپرٹ یہ ہے کہ جزئیاتی مسائل کے اختلاف کو توسع کے خانہ میں ڈالتے ہوئے اصل دین پر تو جہ صرف کرنا۔ حسن (بن علی)اسپرٹ یہ ہے کہ باہمی اختلاف اگر دو طرفہ بنیاد پر حل نہ ہورہا ہو تو یک طرفہ دست برداری کے ذریعہ اختلاف کو ختم کر دینا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

افْعَلْ ‌وَلَا ‌حَرَجَ سے اِس روایت کی طرف اشارہ ہے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں قیام پذیر تھے، اس وقت لوگ آپ سے مختلف مسائل کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ چنانچہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا ’’مجھے علم نہ ہو سکا، اور میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔‘‘ پھر دوسرا شخص آیا اور کہنے لگا ’’مجھے علم نہ ہو سکا، اور میں نے رمی سے پہلے قربانی کر دی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے بھی اعمال حج کی ترتیب کے آگے پیچھے ہونے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ یہی فرمایا افْعَلْ ‌وَلَا ‌حَرَجَ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 83)۔ یعنی، کر لو، کوئی حرج نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک دوسری روایت میں ہےحضرت اسامہ بن شُریک کہتے ہیں کہ منیٰ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی۔ کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کر الیا۔ کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف مسائل پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے لاَ حَرَجَ،لاَ حَرَجَ (کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں)۔ حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2015)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یکم اپریل 1990

میرے اندر سوچنے کی عادت ہے۔ میں اکثر کسی آیت یاکسی حدیث کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ آج نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ صف بندی کے لیے حدیث میں جوحکم آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی صف میں خوب مل کر کھڑے ہو۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صف کے درمیان میں بکری کے بچہ کی طرح داخل ہورہا ہے — إِنِّي لَأَرَى ‌الشَّيْطَانَ ‌يَدْخُلُ ‌مِنْ ‌خَلَلِ ‌الصَّفِّ ‌كَأَ نَّهَا ‌الْحَذَفُ ( سنن أبي داؤد، حدیث نمبر667)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث میں خلل کا مطلب مجرد جگہ (space) نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ جب لوگ پاؤں کو پھیلا کر ایک دوسرے سے ملیں گے تو خود ایک آدمی کے دونوں پیروں کے درمیان میں اتنی جگہ ہو جائے گی کہ اس کے اندر سے ’’بکری کا بچہ‘‘ گزرسکے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں خلل سے مراد دو آدمیوں کے درمیان خلل ہے، نہ کہ دو پیروں کے درمیان خلل۔

اس حدیث میں اصل زور باہم مل کر کھڑے ہونے پر ہے ۔ باہم مل کر کھڑا ہونا اتفاق کی علامت ہے اور منتشرانداز میں کھڑا ہونا اختلاف کی علامت۔ چنانچہ یہی بات دوسری روایت میں ان لفظوں میں ہے‌اسْتَوُوا ‌وَلَا ‌تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 432)۔ یعنی، صفوں میں برابرکھڑے ہو جاؤ اور آگے پیچھےنہ ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3 2مئی 1991

قرآن میں ہے کہ بچہ والی عورتیں اپنے بچوں کو دو برس کامل دودھ پلائیں (2:233)۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے کہ ماں کا اپنے بچہ کو دودھ چھڑانا دو برس میں ہوتا ہے (31:14)۔ اسی طرح حدیث میں ہے لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الحَوْلَيْنِ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4364)۔ ر ضاعت صرف وہ ہے جو دو سال میں ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن و حدیث میں دو سال کی واضح صراحت کی بنا پر جمہور کے نز دیک رضاعت کی مدت دو سال ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ اس کی مدت ڈھائی سال بتاتے ہیں، اور امام زفر نے اس کی مدت تین سال بتائی ہے — قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ  ثَلَاثُونَ شَهْرًا، وَقَالَ زُفَرُ ثَلَاثُ سِنِينَ (التفسير المظهرى، جلد 1 ، صفحہ323)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدما کے یہاں اس طرح کا اختلافِ رائے کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کے اختلافات کی بنیاد پر وہ لوگ ایک دوسرے کو مطعون نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ وہ تاویل سے کام لیتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی شخص اس طرح اپنی مختلف رائے ظاہر کرے تو فوراً اس کی تنقیص و تفسیق کی مہم شروع کر دی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدما زندہ لوگ تھے اور آج کل کے لکھنے اور بولنے والے مردہ لوگ۔

15 جون 1991

بعد کے دور میں جو فقہی مذاہب بنے ، ان میں حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی کو زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں سے ہر ایک کے علما کا کہنا ہے کہ انھیں کا فقہی مسلک صحیح ہے اور دوسرے مسالک غلط ہیں ۔ تاہم چوں کہ حدیث کی کتابوں میں ہر قسم کی روایتیں ہیں۔ کسی روایت سے ایک مسلک کی تائید ہوتی ہے اور کسی روایت سے دوسرے مسلک کی۔ اس لیے ان میں سے کوئی مسلک کامل یقین کا دعوی نہیں کر سکتا۔

اس نزاکت کی بنا پر ایک فقیہ نے فقہا کی پوزیشن کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے ‌مَذْهَبُنَا ‌صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَمَذْهَبُ مُخَالِفِينَا خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الاشباہ و النظائر لابن نجیم،صفحہ 330)۔ یعنی، ہمارا فقہی مذہب درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور دوسرے کا فقہی مذہب نادرست ہے احتمال صحت کے ساتھ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تطبیق دین یسر (آسان)کو دین عسر (مشکل)بنانا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسالک کا اختلاف تنوع کی بنا پر ہے ، نہ کہ اس بنا پر کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔

17 ستمبر 1991 ء

اسلام کے علمی مطالعہ کے سلسلہ میں بہت بڑا مسئلہ اختلافات کا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تقریباً تمام امور میں علمائے اسلام کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی عالم کے حوالے سے اپنی بات کہہ سکے۔

مثلاً ابن مسعود اور معوذتین کے مسئلہ کو لیجیے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود معوذتین کو قرآن سے خارج سمجھتے تھے وہ ابن حجر عسقلانی کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے صحیح بخاری کی شرح میں امام احمد اور امام ابن حبان کی روایت سے یہ لکھا ہے کہ ابن مسعود معوذتین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے (فتح الباري لابن حجر، جلد8، صفحہ 742)۔ اور جو لوگ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ محدث ابن حزم نے لکھا ہے کہ یہ ابن مسعود پر ایک الزام ہے اور یہ ایک موضوع قول ہے کہ ابن مسعود معوذتین کو داخل مصحف نہیں سمجھتے تھے— مَا رُوِيَ عَنْ ‌ابْنِ ‌مَسْعُودٍ مِنْ أَنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَأُمَّ الْقُرْآنِ لَمْ تَكُنْ فِي مُصْحَفِهِ فَكَذِبٌ مَوْضُوعٌ لَا يَصِحُّ(المحلی بالآثار ، جلد1 ، صفحہ32)۔ اسی طرح امام نووی لکھتے ہیں کہ معوذتین کو داخل قرآن نہ سمجھنے کے بارے میں ابن مسعود کا جو قول نقل کیا گیا ہے وہ سراسر باطل ہے — مَا نُقِلَ عَنْ ‌ابْنِ ‌مَسْعُودٍ فِي الْفَاتِحَةِ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ بَاطِلٌ لَيْسَ بِصَحِيحٍ عَنْهُ( المجموع شرح المهذب للنووی، جلد3، صفحہ 396)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4 نومبر 1991ء

4 نومبر کو میں پونے(مہاراشٹر) میں تھا۔ وہاں انعام دار صاحب ایک بلڈر ہیں۔ انھوں نے وقف کی ایک جائداد کو لے کر اس کے اوپر تعلیمی ادارہ بنانے کا ارادہ کیا ۔ نقشہ یہ تھا کہ کئی منزلہ عمارت بنا کر اس کے اندر مختلف تعلیمی کلاس چلائیں گے ۔ اس دوران وہ رقم حاصل کرنے کے لیے دبئی گئے۔ وہاں وہ شیخ کے یہاں پہنچے تو چندہ مانگنے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی ۔ ان کو بھی قطار میں بٹھا دیا گیا اور باری آنے پر دوسروں کی طرح انھیں ایک معمولی رقم دے دی گئی۔ انعام دار صاحب نے اس تجربہ کے بعد طے کیا کہ وہ چندہ کا طریقہ ختم کر دیں ۔ انھوں نے مجوزہ عمارت کا پورا حصہ کرایہ پر دینے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لوگوں سے بڑی قم بطور ایڈوانس حاصل کی اور اس سے بلڈ نگ تیار کی۔ اب اوپر کی منزلوں میں تعلیمی ادارے ہیں اور نیچے کے تمام حصے کرایہ پر ہیں جن سے 30 لاکھ روپیہ سالانہ کرایہ آئے گا۔

اس تبدیلی پر کچھ ممبران نے مخالفت کا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پہلے پوری عمارت تعلیم میں لینے کا منصوبہ تھا۔ پھر آپ نے اس کے نیچے کے حصوں کو کرایہ پر کیوں دے دیا۔ میں نے مخالفین سے کہا کہ آپ اتنی سی بات پر مخالفت کا جھنڈا اٹھارہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اس سے بہت زیادہ بڑے قسم کے اختلافات کو برداشت کیا۔ اس کے بعد ہی اسلام کی تاریخ بن سکی۔

8 دسمبر 1991 ء

فقہ کا ایک اصول وہ ہے جس کو استحسان کہا جاتا ہے۔ فقہائے اربعہ میں سے تین نے اس کو مانا ہے۔ خاص طور پر احناف نے اس کو بہت استعمال کیا ہے۔ استحسان سے مراد یہ ہے کہ ظاہری قیاس کو چھوڑ کر اس طریقہ کو اختیار کرنا جو لوگوں کے لیے زیادہ مناسب ہو  الاِسْتِحْسَانُ تَرْكُ القِيَاسِ وَالأَخْذُ بِمَا هُوَ أَوْفَقُ لِلنَّاسِ (المبسوط للسرخسی، جلد10، صفحہ145)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلاً ایک آدمی کسیجو تا ساز کے یہاں جاتا ہے۔ وہ اس سے جوتے کی قیمت طے کرتا ہے اور اپنا ناپ دے کر اس کو اپنے لیے ایک جو تا بنانے کا آرڈر دیتا ہے۔ قیاس کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیث کے مطابق ، شریعت کا اصول یہ ہے کہ سودے کی موجودگی اس کی بیع کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اور مذکورہ مثال میں سودا (جوتا ) ابھی موجود نہیں۔ مگر عرف عام کی بنا پر اس کو درست قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا نام استحسان ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر امام شافعی اس کے سخت خلاف ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ جس آدمی نے استحسان سے کام لیا اس نے نئی شریعت بنائی  مَنِ اسْتَحْسَنَ فَقَدْ شَرَعَ، أَي وَضَعَ شَرْعًا جَدِيدًا (بیان المختصر شرح مختصر ابن الحاجب ،جلد 3، صفحہ 280)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

اس قسم کے بے شمار اختلافات فقہا کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مگر آج ایسا کوئی اختلاف کیا جائے تو اس کو نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔

9دسمبر 1991ء

قرآن میں ہے  قُلْ ‌كُلٌّ ‌يَعْمَلُ ‌عَلى ‌شاكِلَتِهِ ‌فَرَبُّكُمْ ‌أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدى سَبِيلاً (17:84)۔ یعنی، کہو کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی شاکلہ سے مطابقت کی بنا پر سمجھ لیتا ہے کہ یہ حق ہے۔ حالاں کہ حق وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق حق ٹھہرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہر آدمی کا ایک مزاج (mindset)ہوتا ہے جو اس کے حالات کے تحت اس کے اندر بن جاتا ہے۔ اسی کا نام شاکلہ ہے۔ اپنے اس شاکلہ کی بناپر کوئی چیز اس کے لیے قابل قبول ہوتی ہے اور کوئی چیز ناقابل قبول۔ اپنے مخصوص مزاج کے تحت وہ کسی مسلک کو اختیار کر لیتا ہے اور آخر کار اس سے اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی حق و صداقت ہے۔ مگر کسی کا ایک چیز سے مانوس ہو جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حق بھی ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی شاکلہ سے اپنے آپ کو نکالے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کیا چیز ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہے۔

6 جنوری1992 ء

موجودہ زمانہ میں اختلاف کو ایک بھیانک چیز سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ دورِ اول میں اختلاف بالکل ایک عام بات تھی۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ التکاثر امام بخاری کے نزدیک مدنی ہے ، جب کہ تمام مفسرین اس کو مکی قرار دیتے ہیں (الجامع لاحكام القرآن تفسیر القرطبی ، جلد20 ، صفحہ168)۔ اس طرح کے بے شمار اختلافات ہیں۔ مگر دور اول میں اس قسم کے اختلاف کو برا نہیں مانا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف کا نام آتے ہی لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ زوال کی علامت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 جنوری1992 ء

امام شافعی اور ان کے پیروؤں کا مسلک یہ تھا کہ نماز میں بسم اللہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے ۔ اس کے مقابلہ میں امام مالک اور ان کے پیروؤں کا مسلک یہ تھا کہ نماز میں بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ اس قسم کے اختلافات ہمیشہ استنباطی ہوتے ہیں اور استنباط میں اختلاف سے بچنا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے استنباطی امور میں یہی صحیح مسلک ہے کہ ذاتی طور پر ایک رائے رکھنے کے با وجود دوسرے کی مختلف رائے کا احترام کیا جائے۔ اسی کو ایک مشہور قول میں ان لفظوں میں کہا گیا ہے رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الجواھر من فقہ الحنفیة ، صفحہ574)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12اگست 1992 ء

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اجتہاد کا مزاج کھو دیا ہے۔ وہ صرف تقلید کے اوپر قائم ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عام طور پر تنقید کو برداشت نہیں کرتے۔ میں نے کہاکہ تنقید اور اختلاف رائے سے ذہنی ترقی ہوتی ہے۔ اور جہاں تنقید اور اختلاف کا ماحول ختم ہو جائے وہاں صرف ذہنی جمود باقی رہ جائے گا اور آج مسلمان پوری طرح ذہنی جمود کا شکار ہو چکے ہیں۔

7 دسمبر 1992 ء

دار العلوم دیوبند کے تحت ایک عربی جریدہ نصف شہر یہ 16 سال سے نکل رہا ہے۔ اس کے شمارہ 25 نومبر 1992 کے صفحہ اول پر ایک مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے  أَهْلُ الْبَاطِلِ يَتَّحِدُونَ، وَأَهْلُ الْحَقِّ يَخْتَلِفُونَ (اہل باطل متحد ہیں اور اہل حق مختلف ہو رہے ہیں)۔

دو صفحہ کے اس مضمون میں بڑے جذباتی اندازمیں مسلمانان عالم کے موجودہ مسائل، مثلاً فلسطین، افغانستان، برما، سری لنکا، صومالیہ، بوسنیا اور ہندستان کا ذکر کیاگیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ ہر جگہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ مسلمانوں کے دشمن متحد ہیں مگرمسلمانوں کے درمیان اتحاد نہیں، مثلاً ہندستان میں مسلمان بابری مسجد تحریک کے عنوان پر متحد نہ ہو سکے۔ مگر ہندو بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کے سوال پر متحد ہو گئے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مضمون کے آخر میں کہا گیا ہے کہ یہ عجیب مسئلہ ہے کہ باطل والے باطل میں متحدہور ہے ہیں۔ مگر حق والے حق میں متحد نہیں۔ ایک معمہ ہے جس کو ہم اہل دانش کے اوپر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس کا مطالعہ کریں اور اس کا حل معلوم کریں إِنَّهَا قَضِيَّةُ اتِّحَادِ أَهْلِ الْبَاطِلِ فِي بَاطِلِهِمْ وَاخْتِلَافِ أَهْلِ الْحَقِّ فِي حَقِّهِمْ – قَضِيَّةٌ عَجِيبَةٌ أَوْ لُغْزٌ مِنَ الْأَلْغَازِ، نَتْرُكُهُ لِلْعُقَلَاءِ أَنْ يَدْرُسُوهُ وَيَحُلُّوهُ۔

یہ سارامعاملہ ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ جن مسلمانوں کو اہل حق کہا جارہا ہے ، وہ در اصل اخلافِ اہل حق ہیں۔ موجودہ مسلم نسلیں حقیقتاً ایک ایسا گر وہ ہیں جو قرآن کے الفاظ میں قساوت اور موت کے مرحلہ کو پہنچ چکے ہیں (57:16-17)، اور جو گروہ ایسے مرحلہ کو پہنچ جائے اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو آج ہم کو نظر آرہا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زندہ انسان کی صفت برداشت ہے ، اور مردہ انسان کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ برداشت کو کھو دیتا ہے۔ اتحاد کی لازمی قیمت برداشت ہی ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے سے اتحاد پیدا ہوتا ہے اور اختلاف کو برداشت نہ کیا جائے تو اس کا نام اختلاف ہے۔ زندہ انسان چوں کہ برداشت کی صفت کے حامل ہوتے ہیں اس لیے ان میں اتحاد پایا جاتا ہے۔ اور مردہ انسان چوں کہ برداشت سے خالی ہوتے ہیں اس لیے وہ بہت جلد اختلاف کا شکار ہو جاتے ہیں۔

10 مئی 1993

جمیل اختر صاحب مدینہ میں کام کرتے ہیں۔ آ ج کل چھٹی پر آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک مولوی صاحب کو آپ کی کتاب ’’تجدید دین‘‘ پڑھنے کے لیے دی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا  سب ہفوات (بکواس) ہے۔یہ شخص تو مجھے دشمنان اسلام کا ایجنٹ معلوم ہوتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ میرے مخالفین اکثر اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہیں۔ وہ بلا دلیل محض الزامی الفاظ بولتے ہیں ۔ اس طرح کسی کو مطعون کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں ۔کسی مومن کی عزت پر حملہ کرنا اسلام میں ناجائز ہے۔ اور اس قسم کے تبصرے بلاشبہ عزت پر حملہ کےہم معنی ہیں — اسلام میں اختلاف جائز ہے مگر دشنام طرازی بلاشبہ حرام ہے۔

24 اگست 1993

آج دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بہت بڑی تعداد میں دہلی اور دہلی کے باہر کے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ہند و جمع تھے۔ منچ پر ان کے اکثر بڑے بڑے لیڈر موجود تھے۔ مجھے بھی تقریر کے لیے بلایا گیا تھا۔

میں نے کہا کہ زندگی کے دو طریقے ہیں الگاؤ واد اور ملاپ واد ۔ اسلام کا طریقہ ملاپ واد کا ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے  وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128) ۔یعنی، اور صلح بہتر ہے ۔اور فرمایا  وَاللهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ (10:25)۔یعنی، اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مارکاٹ کی کتاب ہے، وہ قرآن سے انجان ہیں۔ وہ اپنے گیان کو قرآن کے آئینہ میں دیکھ رہے ہیں۔ مسٹر نراد چودھری (مقیم لندن) کا انٹرویو ٹائمس آف انڈیا اگست 1993 میں چھپا ہے۔ وہ بجا طور پر کہتے ہیں قرآن کے ٹکسٹ میں مجھ کو کوئی بے ٹھیک بات نہیں ملی۔ جو بے ٹھیک باتیں ہیں وہ سب کمنٹری میں ہیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) کمنٹری کی بنیاد پرلکھی ہے ، نہ کہ قرآن کے ٹیکسٹ کی بنیاد پر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ کمنٹری ہر آدمی کا اپنا انٹر پریٹیشن ہوتا ہے ۔ اور انٹر پریٹیشن میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ گیتا کے متعلق کچھ ہندو شارحین کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کی کتاب ہے۔ مگر اسی گیتا کو مہاتما گاندھی نے امن کی کتاب بتایا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 ستمبر 1993

ایک ہند و جر نلسٹ مسٹر یشونت دیش مکھ انٹرویو کے لیے آئے۔ ان کے مختلف سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں آلو چنا (تنقید) کو برداشت نہیں کیا جاتا؟ میں نے کہا کہ یہ تو الٹی بات ہے۔ اسلام میں تو تنقید یا اختلاف کو پسند کیا جاتا ہے ۔ ایک حدیث ہے که  ‌اخْتِلافُ ‌أُمَّتِي ‌رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی،حدیث نمبر39)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس میں اختلاف سے مراد وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں ڈسنٹ (dissent) کہا جاتا ہے یعنی اختلاف رائے۔ اسلام کے دور اول میں اختلاف رائے یا تنقید عام تھی۔ کوئی بھی آدمی کسی شخص پر تنقید کر سکتا تھا۔ اس سلسلہ میں میں دور اول کے کئی واقعات بتائے۔

مذکورہ جرنلسٹ بہت خوش ہوا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا کہ اسلام کے بارے میںمیرے بہت سے شبہات تھے۔ آج سب ختم ہو گئے۔

28 اپریل 1994

حدیث میں منافق کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے وَإِذا ‌خاصَمَ ‌فَجَرَ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر34 ؛صحیح مسلم،حدیث نمبر58)۔ یہ حدیث صحیح البخاری اور صحیح مسلم دونوں میں کتاب الایمان کے تحت آئی ہے۔ ابن حجر اور نووی دونوں نے فاجر کی تشریح  مَالَ عَنِ الْحَقِّ کے لفظ سے کی ہے۔ اس کے مطابق ، حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ و ہ شخص منافق ہے کہ جب اس سے اختلافی بحث پیش آئے تو وہ انصاف سے ہٹ جائے (فتح الباری لابن حجر،جلد1، صفحہ90؛ شرح النووی علی مسلم ،جلد 2 ،حدیث نمبر 48)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت کا علم تو اللہ کو ہے۔ مگر مجھ سے اختلاف کرنے والے تمام مسلمان انصاف سے ہٹ گئے۔ میں نے کہا کہ مسلمان صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو مخالفین نے کہا کہ وہ بزدلی کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ 2 دسمبر 1992 کے بعد میں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد کے مسئلہ پر اپنا ایجی ٹیشن ترک کر دیں تو مخالفین نے کہا کہ وہ کہتے ہیں مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیں۔ میں نے کچھ مفکرین پر علمی تنقید کی تو کہا گیا کہ دیکھو، یہ علما پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ہندو مسلم نزاعی معاملات میں مسلمان پر امن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر یں تو کہنے والوں نے میرے بارے میں کہا کہ وہ ملی تشخص سے دست برداری کی دعوت دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ قومیں مسلمانوں کی حریف نہیں ہیں انسانی رشتہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی خیرخواہی کے مستحق ہیں، تو کہا گیا کہ یہ اسلام دشمنوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں کسی کو منافق نہیں کہہ سکتا، مگر حدیث کی روشنی میں یہ ضرور کہوں گا کہ مذکورہ قسم کی باتیں بلاشبہ منافق والی باتیں ہیں۔ یہ مخلصانہ ایمان والی باتیں نہیں۔

21 جون 1994

آج اپنے گھر کی تمام خواتین کو دفتر میں بٹھا کرسمجھایا کہ تم لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہیے۔ کیوں کہ باہمی اختلاف سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں اعتکاف میں تھے۔ آپ کو شب قدر کا علم دیا گیا۔ آپ مدینہ کی مسجد سے باہر نکلے کہ مسلمانوں کو اس کی متعین تاریخ بتا دیں۔ اس دوران انصار کے دو آدمی لین دین کی بات پر جھگڑ نے لگے۔ اس پر شب قدر کا علم اٹھالیا گیا( صحیح البخاری ،حدیث نمبر49)۔ اسی طرح احد کی جنگ میں مسلمانوں کی فتح ہو گئی۔ اس کے بعد کچھ مسلمان آپس میں نزاع کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیتی ہوئی جنگ دوبارہ ہار میں تبدیل ہو گئی ۔ اس طرح کی مختلف مثالیں دے کر میں نے کہا کہ آپ لوگ مل جل کر رہیں تو یہاں برکت اور رحمت برسے گی۔ اور اگر جھگڑا اور نزاع شروع کر دیا تو آئی ہوئی برکت ختم ہو جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تمام خواتین رونے لگیں۔ دل سے یہ عہد کیا کہ سب کی سب مل جل کر محبت کے ساتھ رہیں گی۔ اختلاف یا شکایت ہو تب بھی ان کے باہمی تعلق میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہر گھر میں ایسا ہو نا چاہیے کہ گھر والوں کا ہفتہ وار یا ماہوار اجتماع گھر کے اندر ہو ۔ اس میں گھر کا بڑا مردیا بڑی عورت لوگوں کو نصیحت کرے۔ اس سے گھر کے ماحول کو درست رکھنے میں بہت مدد ملے گی۔

3 اگست 1994

ابن ماجہ (کتاب الفتن ) میں ایک روایت کے تحت آیا ہے ‌فَإِذَا ‌رَأَيْتُمُ ‌اخْتِلَافًا ‌فَعَلَيْكُمْ ‌بِالسَّوَادِ ‌الْأَعْظَمِ (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر3949)۔یعنی، پھر جب تم اختلاف دیکھو تو تم سواد اعظم کے ساتھ رہو ۔ اس حدیث کا مفہوم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اختلاف کے وقت سواد اعظم کا جو مسلک ہو وہی مسلک حق ہو گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔ اس کی غلطی اس سے واضح ہے کہ آج بر صغیر ہند میں 75 فیصد سے زیادہ لوگ اہل بدعت ہیں۔ پھر کیا اہل بدعت کا مسلک درست قرار دیا جائے گا۔ اس حدیث کا تعلق فتنہ کے مسئلہ سے ہے ، نہ کہ حق کے مسئلہ سے۔ فتنہ کے وقت سواد اعظم کے ساتھ رہنا اسی طرح وقتی مصلحت کے معنی میں ہے جس طرح وقتی مصلحت کے تحت حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں شرک کرنے والوں سے تعلق کو برداشت کیا تھا(طٰہٰ، 20:94)۔ ایسے موقع پر اصل سوال چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا ہوتا ہے اور فتنہ کے وقت سواد اعظم کے ساتھ رہنا اسی لیے ہے کہ اس سے ٹکر اؤ زیادہ بڑے شر کا باعث ہوگا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

سواد اعظم اگر اس وقت حق پر ہو تو معاشرہ میں فساد کی نوبت ہی نہ آئے ۔ کیوں کہ اقلیت ہمیشہ اکثریت کے تابع ہوتی ہے ، نہ کہ جو اکثریت ہے وہ اقلیت کے تابع ہو جائے۔

4 اگست 1994

شیخ محمد اکرام آئی سی ایس سرسید کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں  سرسید کی تصانیف میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جن سے نہ صرف مخالف بلکہ ان کے موافق بھی بدظن ہو جاتے تھے۔ سرسید نے جب بائبل کی نامکمل تفسیر لکھی تو نواب محسن الملک کو اس کی عبارت اتنی شاق گزری کہ اس وقت سرسید سے تعارف نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اس کے خلاف سرسید کو ایک طویل خط لکھا اور جب تک ان سے نہ ملے انھیں یقین نہ آتا تھا کہ سرسید قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے ہیں (موج کوثر ، صفحہ 91)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور غلط فہمی میں کتنا قریبی تعلق ہے۔ نواب محسن الملک کو سرسید کی تفسیر بائبل سے اختلاف ہوا۔ مگر یہ اختلاف یہاں تک پہنچ گیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ سرسید نماز بھی اگر پڑھتے ہیں تو اسلامی قبلہ کی طرف رخ کر کے نہیں پڑھتے ہیں۔ حالاں کہ یہی نواب محسن الملک اختلاف کے بعد سرسید کے اتنے گرویدہ ہو گئے کہ ان کے قریبی رفیق بن گئے۔

7 دسمبر 1994

عبد الحسیب خاں صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ وہ کراچی (گلشن اقبال )میں رہتے ہیں۔ ان کا دواؤں کا بزنس ہے ۔

گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بھوپال میں میرے عزیز ہیں ۔ ان سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔ مگر میں صرف چار دن رہ سکوں گا۔ کراچی میں میرے بچے ہیں۔ اور وہاں زندگی اس قدر غیر محفوظ ہے کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہاں زیادہ ٹھہرنا ممکن نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں ہر روز ایک درجن آدمیوں کے قتل کا اوسط ہے۔

میں نے کہا کہ 1947 سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہمیں پاکستان کی ضرورت ہے۔ پھر پاکستان میں مسلمان کیوں نہیں مل کر رہ رہے ہیں۔ وہ اس کا کوئی خاص جواب نہ دے سکے ۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مثلاً میاں بیوی کے تعلق کو لیجیے ۔ شہزادہ چارلس سے لے کر اب تک کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کے اور اس کی بیوی کے درمیان بار بار اختلاف نہ ہو تا ہو ۔ مگر ہم اس کو ایڈ جسٹمنٹ کا مسئلہ بناتے ہیں ، نہ کہ تفریق کا مسئلہ ۔ اگر اختلاف کو تفریق کا مسئلہ بنایا جائے تو ہر شادی آخر کار طلاق پر ختم ہوگی۔

ہندو اور مسلمان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ قانون فطرت کے تحت دونوں میں اختلافات واقع ہوں گے۔ مگر ان اختلافات کو ہمیں ایڈ جسٹمنٹ کا اشو بنانا تھا ، نہ کہ تقسیم ملک کا اشو ۔ اختلافات کو تفریق کا اشو بنانے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں میں ایڈ جسٹمنٹ کا ذہن نہیں۔ پہلے وہ ہندوؤں سے لڑتے تھے ، اب خود آپس میں لڑتے ہیں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے۔

17جنوری1995

المیزان الکبری میں عبد الوہاب شعرانی (وفات 973ھ)نے سفیان ثوری (وفات 161ھ)کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ’’لَا تَقُولُوا اخْتَلَفَ العُلَمَاءُ فِي كَذَا، وَقُولُوا قَدْ وَسَّعَ العُلَمَاءُ عَلَى الأُمَّةِ بِكَذَا (المیزان الکبریٰ للشعرانی، جلد1، صفحہ162)۔سفیان ثوری نے کہا کہ یہ نہ کہو کہ اس مسئلے میں علما نے اختلاف کیا ہے۔ بلکہ یہ کہو کہ علما نے ایسا کرکے امت کے لیے گنجائش پیدا کردی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ میں اہل علم کی کئی رائیں ہوتی ہیں۔ ایسے معاملے میں ایک صورت یہ ہے کہ اس کو محض اختلاف قرار دیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع اور تنوع کے معنی میں لیا جائے۔ پہلی صورت میں لوگوں کے اندر منفی ماحول بنتا ہے اور دوسری صورت میں مثبت ماحول۔

26اپریل1995

بعد کے زمانہ میں جو فقہ مرتب ہوئی اس میں ایک عجیب و غریب برائی یہ داخل ہوگئی کہ فرضی مثالیں وضع کرکے اس کی بنیاد پر احکام بتائے جانے لگے۔ مثلاً کسی زرخیز دماغ نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے ( قَالَ ‌كُلُّ ‌امْرَأَةٍ ‌أَتَزَوَّجُهَا ‌فَهِيَ ‌طَالِق ) تو ایسے آدمی کے لیے شرعی مسئلہ کیا ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب فقہا نے ’’الجواب‘‘ کہہ کر اس کا شرعی مسئلہ بیان کرنا شروع کردیا۔ حنابلہ اور شوافع نے کہا کہ اگر وہ آدمی یہ بیان دے کہ میری مراد صرف فلاں بستی یا فلاں محلہ کی عورتوں سے تھی تو دوسری بستیوں سے نکاح اس کے لیے جائز ہوگا۔ کیوں کہ لفظ عام کی تخصیص نیت کے ذریعہ جائز ہے(الحاوی الکبیر للماوردی، جلد10، صفحہ25؛ مسائل حرب الكرماني، جلد1، صفحہ 382)۔ مگر احناف نے کہا کہ نہیں، اس آدمی کی نیت دیانۃً تسلیم ہوسکتی ہے مگر وہ قضاءََ تسلیم نہیں۔ وہ دنیا کی جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، اس پر از خود ایک طلاق واقع ہوجائے گی(البحر الرائق، جلد4، صفحہ18)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس قسم کے فرضی مسائل نے صرف امت کے اختلافات میں اضافہ کیا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ شاید ہی کبھی کسی مرد نے ایسی قسم کھائی ہوگی۔ مگر اس کو فرض کرکے مسائل وضع کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیر ضروری بحثیں پیداہوئیں، اور اختلاف واقع ہوگیا۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ فرضی سوالات کو ہرگز فتویٰ کا موضوع نہ بنایا جائے، نیز بہت کم مسائل پر فتویٰ دیا جائے۔ بیشتر مسائل کواسْتَفْتِ ‌قَلْبَكَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006) پر چھوڑدیا جائے۔یعنی، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10جون1995

آج ٹائمس آف انڈیا میں جواہر لال نہرو کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ باہم مل کر رہنے کا واحد بدل یہ ہے کہ باہم ایک دوسرے کو تباہ کر دیا جائے

other sourceWords of another person or source

The only alternative to co-existence is co-destruction.

یہ بات صاف ہے۔ یہ دنیا اختلافات کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں لازماً ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے کے درمیان شکایت کی بات ہوجائے۔ یہاں باہمی شکایتوں کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ اس لیے عقلمندآدمی کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے اور قابلِ شکایت باتوں کو نظر انداز کرکے جینے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس اگر وہ ہر ایک شکایت پر بلڈوزر چلانا چاہے تو اس غیر فطری کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خود اپنے آپ کو تباہ کر لے گا۔

29ستمبر1995

قرآن میں ہے  وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ(11:119)۔ یعنی، اور اس نے اسی لیے ان کو پیدا کیا ہے۔اس کی تفسیر کرتے ہوئے امام حسن بصری نے کہا وَلِلِاخْتِلَافِ خَلَقَهُمْ (تفسیر ابن کثیر، جلد4 ، صفحہ485) یعنی، خدانے ان کو اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیاق و سباق کے اعتبار سے یہ نہایت صحیح تفسیر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ پھر جو لوگ اختلاف کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یا اختلاف رائے پرغصہ ہوتے ہیں، وہ گویا کہ خود فطرت سے لڑنا چاہتے ہیں۔ اور فطرت سے لڑنے والا کبھی برسرحق نہیں ہوسکتا۔

25جنوری1996

ہندستان کے ایک معروف عالم دین نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ تاریخ اسلام پر نظر رکھنے والے ایک طالب علم کی یہ بات سن لیجیے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے اندرونی اختلافات سے شکست کھائی ہے۔ (بانگ درا، لکھنؤ، جنوری1996)۔عرب دنیا کے مشہور عالم الشیخ محمد الغزالی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا إِذَا عَجَزَالمُسْلِمُونَ عَنْ الوَحْدَةِ وَالِاتِّفَاقِ فَلَيْسُوا أَهْلًا لِلْبَقَاءِ(العالم الاسلامی، مکہ،13-17شعبان1406)۔ یعنی، مسلمان جب اپنے درمیان اتحاد و اتفاق قائم نہ کرسکیں تو وہ اس دنیا میں قیام وبقا کے اہل نہیں رہتے۔

other sourceWords of another person or source

آج تمام دنیا کے مسلمان یہی بات کہہ رہے ہیں۔ سارے لوگ مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ اختلافات کو فتح کرکے متحد ہوجائیں تاکہ وقت کے چیلنج کا مقابلہ کر سکیں ۔ مگر یہ بات ادھوری ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے متحد ہوجائیں۔ کیوںکہ انسانوں کے درمیان اختلافات کا ختم ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہی کہ اختلافات کو نظرانداز کرکے اتحاد پیدا کیا جائے۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں جو اتحاد تھا وہ اسی طرح تھا اور آئندہ جب بھی اتحاد ہوگا اسی طرح ہوگا۔ اتحاد ہمیشہ صبر کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے ، نہ کہ خاتمہ اختلاف کی قیمت پر۔

5جون1996

الاحنف بن قیس تابعی حلم و بردباری کے لیے مشہور ہیں۔ لوگوں کی سختیوں کے مقابلہ میں وہ اتنا تحمل کرتے تھے کہ ان کو ابوبحر کہا جانے لگا۔ یعنی سمندر کا باپ۔ وہ عرب کے قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے اور72ھ میں ان کا انتقال ہوا۔

وہ اگرچہ حلم وبردباری میں ضرب المثل بن گئے تھے۔ مگر وہ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ إِنِّي لَسْتُ بِحَلِيمٍ وَلَكِنِّي أَتَحَالَمُ (طبقات ابن سعد، جلد7، صفحہ66)۔ یعنی میں بردبار نہیں ہوں بلکہ میں بہ تکلف بردباری اختیار کرتا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تقریباً یہی معاملہ میرا بھی ہے۔ میں گھر سے باہر تک ہر جگہ تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہوں۔ حتیٰ کہ میں اس کا مشن چلارہا ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے اندر بے پناہ غصہ ہے۔ اصول کے خلاف معمولی بات پر بھی مجھے غصہ آجاتا ہے۔ مگر دو چیزوں نے مجھے ٹھنڈا کررکھا ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کو تحمل پسند ہے۔ دوسرے یہ کہ موجودہ دنیا میں یہی واحد قابل عمل روش ہے۔ عدم تحمل کا طریقہ موجودہ دنیا میں سرے سے چلنے والا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12جون1996

جابر بن سلیم ایک صحابی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلیم سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجیے ۔ آپ نے فرمایا لَا ‌تَسُبَّنَّ ‌أَحَدًا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4084)۔یعنی کبھی کسی شخص کو گالی نہ دینا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں غورکرنے کی بات یہ ہے کیا کوئی شخص نارمل حالت میں کسی کو گالی دیتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ گالی کسی کے منھ سے صرف اس وقت نکلتی ہے جب اس کو اشتعال دلادیاجائے۔ گالی دراصل جوابی اشتعال ہے۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اشتعال انگیزی کرے تب بھی تم مشتعل نہ ہونا۔ تم اپنے آپ کو منفی ردعمل سے مکمل طور پر بچانا۔

17جون1996

تحریک ہمیشہ متحدہ طاقت سے کامیاب ہوتی ہے، اور کسی تحریک کے متحدہ قوت بننے کی واحد شرط یہ ہے کہ اس کے افراد شکایت اور اختلاف سے اوپر اٹھ کر متحد ہونا جانتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اصحاب  بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار)کی طرح متحد ہوگئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں اختلاف یا شکایتیں نہ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں بھی ہرقسم کی انسانی شکایتیں موجود تھیں۔ مگر اصحاب رسول نے ان سے اوپر اٹھ کر ہر جہاں میں اپنا اتحاد برقرار رکھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلاًغزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچادشمنوں کی طرف سے آئے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی ان کو قتل نہ کرے۔ ابو حذیفہ صحابی نے کہا، کیا ہم اپنے باپ اور اپنے بیٹوں، اپنے پوتوں، اپنے بھائیوں کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑدیں۔ یہ لمبا قصہ ہے جو سیرۃ ابن ہشام (جلد2 ،صفحہ197)میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حضرت علی جن کے عقد میں فاطمہ بنت محمد تھیں، انہوں نے بنومخزوم کی لڑکی سے دوسراعقد کرنا چاہا تو رسول اللہ نے نہایت سختی کے ساتھ منع کردیا۔ اس کی تفصیل صحیح مسلم فضائل فاطمہ کے تحت دیکھا جا سکتا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2449)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دورِاول میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو جماعت مسلمین میں زبردست اختلاف وانتشار پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ مگر ہر بار ایسا ہوا کہ اصحابِ رسول تمام شکایتوں کو پی گئے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے اتحاد کو آخر وقت تک برقرار رکھا۔ موجودہ زمانہ میں خود میرے ساتھ بار بار ایسا پیش ہوا ہے کہ لوگ میرے مشن کے ساتھ جڑے اور پھر معمولی شکایت پیش آنے پر ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم ہوتا اور نہ کوئی بڑا کام انجام پاتا۔

30ستمبر1996

مکہ سے نکلنے والا عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (13-2ربیع الاولا1417ھ) کا صفحہ2میرے سامنے ہے۔ اس میں ایک مضمون السید علی احمد الصوری کے قلم سے ہے۔ اس کا عنوان ہے  السَّبِيلُ إِلَى الخُرُوجِ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ ۔ یعنی ہم جس حالت میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے نکلنے کا راستہ۔ مضمون نگار کے نزدیک یہ راستہ توحید صفوف ہے۔ یعنی مسلمانوں کے درمیان اتفاق واتحاد۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ بات کم از کم سوسال سے کہی جارہی ہے۔ مگر آج تک مسلمانوں میں اتحاد قائم نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے اتحاد، اتحاد تو کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتاپاتے کہ اتحاد پر کس طرح قائم رہیں۔ تمام لکھنے اور بولنے والے اتحاد کا راز یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اختلاف کرنا چھوڑدیں۔ وہ اختلاف کو ختم کرکے اتحاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مگر یہ ایک ممکن چیز کو ناممکن تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ اختلاف تو خود فطرت میں شامل ہے، پھر اس کو کیوں کر ختم کیاجاسکتا ہے۔ امت سے کہنے کی اصل بات یہ تھی کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا سیکھو۔ مگر رہنمایانِ امت لوگوں کو یہ بات بتانہ سکے۔ پوری کی پوری ملت شعوری طور پر اتحاد کے اس راز سے بے خبر ہے۔ پھر اس کے اندر اتحاد آئے تو کس طرح آئے۔

26جنوری1997

ہندوستان کے لیڈر لوکمانیہ تلک نے1944میں کہا تھا۔ انگلینڈ کی مشکل ہماری آسانی ہے۔ یہی عام طور پر لوگوں کا نظریہ ہے۔ لوگوں کو جس شخص یا قوم سے اختلاف ہوجائے وہ اس کے لیے دشواریاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے سہولت کا باعث سمجھتے ہیں۔ مگر یہ پالیسی نہایت مہلک ہے۔ یہ ایک بوم رینگ سیاست ہے جو مخالف کو نقصان پہنچانے کے ساتھ خود اپنے لیے بھی نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کےمقابلہ میں زیادہ صحت مند سیاست یہ ہے کہ دشمن تمہارے خلاف منفی کارروائی کرے تو تم اس کے مقابلہ میں مثبت کارروائی کرو۔ وہ نفرت کی فصل اگائے تو تم محبت کی فصل اگاؤ۔ تم دشمن کے مقابلہ میں رد عمل کا طریقہ نہ اختیار کرو بلکہ اپنی پالیسی خود اپنی ٹھنڈی سوچ کے تحت بناؤ۔ یہی دوسری پالیسی کامیابی کی پالیسی ہے۔

16مارچ 1997

مولانا وارث مظہری سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تنقید اور اختلاف کا حق ہر آدمی کو حاصل ہے۔ آپ کسی بھی شخص کے خلاف تنقید کر سکتے ہیں۔ آپ کا ایسا کرنا اپنے جائز حق کو استعمال کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری سنگین حقیقیت یہ ہے کہ دلیل سامنے آجانے کے بعد آدمی کو اپنا اختلاف ختم کر دینا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ دلیل کو نہ ماننا گویا خداکے سامنے سرکشی کرنا ہے۔ ایسا آدمی بلاشبہ خود اپنا نقصان کرتا ہے، نہ کہ دلیل پیش کرنے والے کا۔

9مئی1997

مولانا محمد منظور نعمانی (لکھنؤ)92سال کی عمر میں5مئی1997کو انتقال کرگئے۔ مجھے ان کے افکار ونظریات سے مناسبت نہیں تھی۔ مگر ان کی شخصیت میں ذاتی تجربہ کے تحت میں نے ایک ایسی خوبی پائی جو کسی اور عالم میں مجھے نہیں ملی۔ 15اپریل1967میں لکھنؤ کی مسجد(کچہری روڈ)میں ان سے میری ایک سخت اختلافی گفتگو ہوگئی۔ اس زمانہ میں مولانا منظورنعمانی(1905-1997)، مولانا ابو الحسن علی ندوی (1913-1999)، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (1913-1974) جو مسلم سیاست چلارہے تھے اس سے مجھے سخت اختلاف تھا۔ میں نے ڈھائی گھنٹہ تک اس پالیسی پر تنقیدی گفتگو کی مگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے۔ آخر کار میں اٹھا۔ میرا حال یہ تھا کہ میں رورہا تھا۔ میں نے ان کو رخصتی سلام نہیں کیا۔ صرف یہ شعر پڑھ کر باہر نکل آیا

إِذَا كَانَ الْغُرَابُ رَئِيسَ قَوْمٍ سَيَهْدِيهِمْ إِلَى دَارِ الْبَوَارِ

other sourceWords of another person or source

اس سخت تنقید کے باوجود ان کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ میرے بارے میں معتدل رہے۔ بعد کو انہوں نے خود ہی مذکورہ مسلم سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔

4جون1997

حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا کہ بیشک حق لوگوں سے نہیں پہچانا جاتا ہے، بلکہ لوگ حق کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں ( ‌إِنَّ ‌الحَقَّ ‌لَا ‌يُعْرَفُ ‌بِالرِّجَالِ، ‌وَإِنَّمَا ‌يُعْرَفُ ‌الرِّجَالُ ‌بِالحَقِّ) جامع المسائل لابن تیمیہ، جلد7، صفحہ466۔ اسی طرح مولانا رشید احمد گنگولی نے اپنے شیخ طریقت حاجی امداد اللہ صاحب پر ایک فقہی مسئلہ پر تنقید کی۔ کسی نے کہا کہ آپ اپنے شیخ پر تنقید کررہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ شیخ ہم کو محبوب ہیں لیکن حق ہم کو اس سے بھی زیادہ محبوب ہے۔

quoted sourceQuoted from another author or source

5جون1997

دمشق کے مشہور عالم دکتور محمد سعید البوطی(1929-2013) اور دکتور احسان بعد رانی (پیدائش 1947)کے درمیان ایک مباحثہ ہوا۔ دکتور بعد رانی نے کہا کہ فقہ کی تدوین جدید ہونی چاہیے۔ دکتور البوطی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ فقہ ظاہر ہے کہ قرآن اور سنت ہی سے مستنبط ہوگی اور جب ایسا ہوگا تو وہ محض ایک تکرار ہوگی۔ کیوں کہ قدیم فقہ قرآن و سنت میں سے مستنبط کرکے مدون کی گئی ہے۔ گویا جدید فقہ محض ایک حاصل شدہ چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش ہوگی ۔

other sourceWords of another person or source

میں کہوں گا کہ قدیم فقہ عہد عباسی میں مدون کی گئی۔ یعنی عہدِنبوی،عہدِ خلفائے راشدین، عہد نبی امیہ کے بعد۔ اگر عہد عباسی میں مدون کی جانے والی فقہ وہی تھی جو اسلام کے ابتدائی تین عہدوں میں موجود تھی تو وہ محض تکرار تھی اور اگر تکرارِ اول درست ہو تو تکرارثانی کیوں کر نادرست قرار پائے گی۔ اور اگر قدیم فقہ اس لیے مدون کی گئی کہ عہد عباسی میں اسلامی معاشرہ کو نئے نئے مسائل پیش آگئے تھے۔ تو دورجدید کے مسلم معاشرہ کو اس کے مقام میں ہزارگنا زیادہ نئے مسائل پیش آگئے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر پہلی تبدیلی کے موقع پر فقہ کی ازسرنو تشکیل و تدوین ضروری تھی تو وہ کون سی دلیل ہے جس کی بناپر دوسری تبدیلی کے موقع پر فقہ کی دوبارہ تشکیل وتدوین غیر ضروری ہوگی۔

6جون1997

ابن القیم نے اپنی کتاب مدارج السالکین میں اپنے استاذ شیخ ابن تیمیہ سے اختلاف کیا ہے۔ پھر اپنی اس روش کو درست قرار دینے کے لیے لکھا ہے کہ ہدہد اور اللہ کے نبی سلیمان کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہے ۔ اس کے باوجودقرآن کے مطابق، ہدہد نے سلیمان سے کہا کہ میں ایک ایسی بات جانتا ہوںجو آپ کو معلوم نہ تھی(27:22)۔ چنانچہ شیخ الاسلام اللہ کے نبی سے زیادہ بڑے عالم نہیں۔ اورشیخ الاسلام پر اعتراض کرنے والا ہدہد سے زیادہ کم علم نہیں فَكَمْ بَيْنَ الْهُدْهُدِ وَنَبِيِّ اللهِ سُلَيْمَانَ؟ وَهُوَ يَقُولُ لَهُ‌أَحَطتُ ‌بِمَا ‌لَمْ ‌تُحِطْ ‌بِه(النمل،22)۔ وَلَيْسَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ أَعْلَمَ مِنْ نَبِيِّ اللهِ۔ وَلَا الْمُعْتَرِضُ عَلَيْهِ بِأَجْهَلَ مِنْ هُدْهُدٍ (مدارج السالکین، جلد2، صفحہ52)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

28جولائی1997

ایک ندوی عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب فکر اسلامی پڑھی۔ اس میں آپ نے عصر حاضر کے اکابر امت پر تنقید کی ہے۔ ہم کو تنقید سے اختلاف نہیں مگر آپ تو ہمارے اکابر کی جڑاکھاڑرہے ہیں۔ آخر اس کو کس طرح برداشت کیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے سوچا کہ مذکورہ ندوی عالمنے ایسا کیوں کہا۔ میں نے جن شخصیتوں پر تنقید کی ہے اس میں ان کی نیت، ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، تقویٰ اور دیانت داری پر کوئی تنقید نہیں کی۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ ان حضرات نے موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو نہیں سمجھا اور اس کے مطابق امت کو رہنمائی نہ دے سکے۔

یہ ان کی شخصیت پر صرف ایک جزئی تنقید ہے پھر مذکورہ ندوی عالم نے ایسا کیوں کہا کہ آپ ہمارے اکابر کی جڑاکھاڑرہے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ یہ تنقید کی غلطی نہیں ہے بلکہ اکابر کے معتقدین کی سوچ کی غلطی ہے۔ اگر وہ ان اکابر کو ایمان و اخلاص اور عبادت وتقویٰ کے اعتبار سے اونچا درجہ دیے ہوئے ہوتے تو ان کو میری تنقید پر مذکورہ شکایت نہ ہوتی۔ اس کے بجائے وہ ان اکابر کی حیثیت امتیازی یہ قرار دئے ہوئے ہیں کہ وہ عصر حاضر کے مجدد ہیں۔ انہوں نے دور جدیدکے لحاظ سے امت کو رہنمائی دی۔ اور چونکہ میری تنقید سے ان کی یہ حیثیت امتیازی مشتبہ نظر آئی اس لیے ان کو محسوس ہوا کہ میں ان کی جڑاکھاڑرہا ہوں۔

17فروری1998

کسی کا قول ہے کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ ہم سب لوگ یکساں سوچ رہے ہوں۔ سوچ میں فرق سوچ میں ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ بلاشبہ نہایت صحیح بات ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی فکری پسماندگی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہ اختلاف رائے کو پسند نہیں کرتے۔ وہ صرف اتحاد رائے سے خوش ہوتے ہیں۔ ایسے کسی گروہ کے درمیان کبھی فکری ارتقا ممکن نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

20مارچ1998

برادرم محمد خالد عطاءاللٰہ ندوی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اختلاف اور مشورہ دونوں ایک ہی چیز کے دو الگ الگ نام ہیں جب آپ اختلاف کو کھلے طور پر سنیں اور بشرط صحت اس کو مان لیں تو اسی کا نام مشورہ ہے۔ اور جب آپ اختلاف پر بھڑک اٹھیں اور اس کو ذاتی وقار کا مسئلہ بنالیں تو اس کا نام جھگڑا ہے۔ صحت مند ماحول میں اختلاف یا تنقید مشورہ کی صورت اختیار کرکے عبادت بن جاتاہے اور جب ماحول غیر صحت مند ہو تو اختلاف یا تنقید صرف باہمی نزاع بن کر رہ جائے گا۔

30جولائی1998

ایکصاحب نے ایک بات یہ کہی کہ آپ دوسرے اکابر سے کٹ کر اپنا مشن چلا رہے ہیں، آپ کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ آپ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ میں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مل کر کام کرنا چاہا اور آج بھی مل کر ہی کام کرنا چاہتا ہوں مگر اس سلسلہ میں میرے تجربات بے حد تلخ ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سلسلہ میں ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے ایک معروف عالم دینکے ایک قریبی ساتھی سے عین اس موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ کو مذکورہ عالم دینکے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں مگر اس سلسلہ میں میری ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ مجھ کو مذکورہ عالم دینسے اختلاف رائے پیش آئے گا۔ ایسے موقع پر میں منافق نہیں بن سکتا۔ میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ مذکورہ عالم دین اگر میرے اظہارِ اختلاف کو برداشت کرسکیں تو میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے جواب میں مذکورہ عالم دین کے ساتھی نے کہا کہ جب آپ کو حضرت مولانا سے اختلاف ہو تو آپ اس کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو متہم کرلیا کریں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

If you find yourself in disagreement with the Hazrat Maulana, do not voice it. Instead, take the blame upon yourself.

میں نے کہا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ عام انسان تو درکنار خود اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس کی مخلوق پیشگی طور پر اپنے آپ کو متہم کرلیا کرے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں کو ایک اشکال پیش آیا تو انہوںنے کہا ‌أَتَجْعَلُ ‌فِيها ‌مَنْ ‌يُفْسِدُ ‌فِيها ‌وَيَسْفِكُ الدِّماءَ (2:30)۔ یعنی، کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فرشتوں نے ایسا نہیں کیا کہ اپنے آپ کو متہم کرکے چپ ہوجائیں۔

17ستمبر1998

مولانا شبلی نعمانی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے — فطرت انسانی جس قدر اختلاف کے لیے موزوں ہے، اتفاق کے لیے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف کی حالت میں جس طرح تمام جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں، اتفاق کی حالت میں نہیں ہوتے (مقالات شبلی، جلد8، صفحہ 170)۔

other sourceWords of another person or source

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اختلاف کے وقت زیادہ بھڑک اٹھتا ہے۔ کیوں کہ اختلاف کے وقت اس کی انا (ego)جاگ اٹھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا امتحان سب سے زیادہ اختلاف کے وقت ہوتا ہے، اتحاد کے وقت نہیں۔ اختلاف کے وقت ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسان کیا ہے اور کیا نہیں۔

6دسمبر1998

کوئی آدمی کیسا ہے اس کو پہچاننے کا سب سے زیادہ صحیح وقت وہ ہے کہ اس آدمی سے آپ کا اختلاف ہوجائے۔ اختلاف پیدا ہونے سے پہلے تو ہر آدمی ٹھیک ہی رہتا ہے۔ اس لیے بے اختلافی کی حالت کسی آدمی کو پہچاننے کے لیے کارآمد نہیں۔

8ستمبر2000

عباسی خلافت کے زمانہ میں فقہائے اسلام نے ایک بہت اچھا اصول وضع کیا۔ فقہ کے جز ئیاتی مسائل میں ان کے درمیان بہت اختلاف تھا۔ اس اختلاف کو قابلِ برداشت بنانے کے لیے انہوں نے ایک اصول مقررکیا ‌مَذْهَبِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَمَذْهَبُ الْخَصْمِ خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الردود والنقودللبابرتى الحنفي، جلد1، صفحہ636)۔ یعنی، میری رائے درست ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط بھی ہو۔ فریق ثانی کی رائے غلط ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صحیح بھی ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اصول کا یہ فائدہ ہوا کہ فقہا اختلافات کے باوجود اجتماعیت پر قائم رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید جمہوریت، اسی اصول کے سیاسی انطباق کا نام ہے۔ موجودہ جمہوریت میں ہر آدمی اپنی ایک سیاسی رائے رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ دوسرے کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی رائے کو درست سمجھے اور یکساں طور پر اقتدار میں شرکت کا حقدار ہو۔

بدقسمتی سے مسلمانوں میں مذکورہ اصول فقہی جزئیات کے دائرے میں محدودرہا، وہ سیاسی دائرے میں رائج نہ ہوسکا۔ اس کا یہ نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان شخصی حکمرانی یا بادشاہت والی سیاست تو دنیا میں چلا سکے، مگر وہ جمہوری سیاست کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ خلافت راشدہ کے بعد جمہوری سیاست مسلمانوں میں نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہے۔ سیاسی اعتبار سے یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس کمزوری کے ساتھ وہ جدید دو رمیں کبھی بھی کوئی طاقت ور سیاسی نظام نہیں بنا سکتے۔

11جنوری2001

قرآن کے بعد حدیث اسلام کا سب سے بڑاماخذ ہے۔ پچھلے چودہ سو سال میں سب سے زیادہ کام حدیث پر ہوا ہے۔ مگر جو شخص بھی حدیث پڑھتا ہے اس کو حدیث سے کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن ایک فکری کتاب ہے۔ اس میں عملی تفصیلات نہیں۔ اس لیے قرآن کے مضامین میں فرق و اختلاف کا سوال نہیں۔ مگر حدیث میں اسلامی زندگی کی عملی تفصیلات ہیں۔ اس لیے حدیث میں ہزاروں کی تعداد میں فرق اور اختلاف پائے جاتے ہیں۔

حدیث میں یہ فرق و اختلاف فطری تنوع کی بنا پر تھا۔ مگر علما اور فقہا نے غلط طورپر یہ سمجھا کہ حدیث کو قرآن کی طرح ہوناچاہیے۔ تمام حدیثوں سے ایک ہی مسلک اور ایک ہی مسئلہ نکلنا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے حدیث میں لامتناہی بحثوں کا سلسلہ چھیڑدیا۔ ہر عالم اور ہر فقیہ حدیث میں وحدتِ مسلک تلاش کرنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں وحدت تو حاصل نہیں ہوئی البتہ علم حدیث اختلافات کا ناقابلِ عبور جنگل بن گیا۔

میں نے اللہ کی توفیق سے یہ دریافت کیا کہ حدیثوں میں فرق و اختلاف فطری تنوع کی بنا پر ہے۔ یعنی ہر ثابت شدہ مسلک اپنی جگہ پر درست ہے۔ ان میں نہ کوئی افضل ہے اور نہ کوئی غیر افضل، ان میں نہ کوئی راجح ہے اور نہ کوئی مرجوح، ان میں نہ کوئی ناسخ ہے اور نہ کوئی منسوخ۔ اس دریافت کے بعد میں نے اپنی زندگی کا مشکل ترین کام شروع کیا ہے۔ یعنی آج کل مطالعہ حدیث (شرح مشکاۃ)کے نام سے میں شاید اپنی آخری کتاب لکھ رہا ہوں، جس میں تقریباً 7000حدیثوں کی تشریح ہوگی۔ آج کی تاریخ تک1211 حدیثوں کی تشریح ہوچکی ہے اور610صفحات لکھے جاچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کام کی تکمیل کا انتظام فرمائے۔

یکم فروری2001

دورِ سائنس میں جو اچھی چیزیں ظہور میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دواختلافی رائے رکھنے والے میز پر بیٹھ کر سنجیدہ تبادلۂ خیال کریں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی جاری کرنا چاہیے۔مختلف مذاہب کو ایک ثابت کرنے کے بجائے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان سنجیدہ بحث کو رواج دیا جائے۔ لوگ جذبات اور تعصّبات سے الگ ہوکر خالص علمی انداز میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ ہر ایک اپنے نقطۂ نظر کو خالص دلیل کی زبان میں بیان کرے۔ اور دوسرا بھی خالص دلیل کی زبان میں اس کا جواب دے۔ اس طرح سنجیدہ علمی بحث کے ذریعہ سچائی کو دریافت کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ سب کچھ علمی طریقہ پر ہو ، نہ کہ مناظرانہ طریقہ پر۔

14فروری2001

گلبرگہ (کرناٹک)کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ گلبرگہ کے ایک مدرسہ میں پڑھاتے ہیں اور وہاں کی مسجد میں امام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلبرگہ میں بدعات کا بہت زیادہ رواج ہے۔ مثلاًوہ لوگ مجھ سے فاتحہ دلواتے ہیں، جومجھ کو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے۔ میں نے ان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا  فاتحہ دیجیے، مگر فتوی نہ دیجیے۔ میں نے کہا کہ فاتحہ دینا صحیح ہے یا غلط اس کی بحث نہ کیجیے۔ اپنی نیت کو درست رکھتے ہوئے جو وہ کہیں اس کو کردیجیے۔ اس کے ساتھ مثبت انداز میں ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیے۔ دھیرے دھیرے حالات اپنے آپ درست ہوجائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ نے فتویٰ کا انداز اختیار کیا تو صرف اختلاف بڑھے گا اور کچھ فائدہ نہ ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یکم جولائی2001

عبادت کے مسائل میں جو اختلافات فقہا کے درمیان پائے جاتے ہیں، ان کی تطبیق امام شافعی نے اس طرح کی ہے‌مَذْهَبِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَمَذْهَبُ الْخَصْمِ خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الردود والنقودلابن محمودالبابرتى الحنفي، جلد1، صفحہ636)۔ میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتھ۔ میرے نزدیک تطبیق کا زیادہ درست فارمولا یہ ہے کہ یہ کہا جائے رَأْيِي وَرَأْيُ غَيْرِي كِلَاهُمَا يَحْتَمِلَانِ الصَّوَابَ۔ یعنی میری رائے بھی درست اور میرے علاوہ دوسرے شخص کی رائے بھی درست۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آمین بالجہر تھی درست اور آمین بالسربھی درست، رفع یدین کرنا بھی درست اور رفع یدین نہ کرنا بھی درست، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19اکتوبر2002

بیدر سے محمد ظفراللہ صاحب کا خط مورخہ6اکتوبر ملا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ آپ کی فکر اندھیرےمیں مرکزِ روشنی ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں یہ فکر پھیلے۔ تمام انسانوں میں رواداری،تحمل،برداشت اور اعراض آجائے تو پھر یہ زمین قابل رشک ہوجائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس خط کا مختصر جواب دیتے ہوئے میں نے لکھا کہ صبروتحمل کا مقصد زمین کو قابل رشک بنانا نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو قابل جنت بنانا ہے۔

22نومبر2002

ایک کتاب دیکھتے ہوئے اس میں یہ کلمہ نظر سے گزرا۔ شوہر اور بیوی میں برابر تکرار ہوتی رہی، یہاں تک کہ دونوں نے طلاق لے لیا

The couple quarrelled constantly and finally got a divorce.

زوجین کے درمیان علیحدگی اکثر اسی طرح ہوتی ہے۔ مگر علیحدگی اور طلاق کی یہ کوئی صحیح بنیاد نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے اختلاف اور نزاع بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ جب بھی زوجین کے درمیان غصہ اور نزاع کی حالت پیدا ہو تو حکمت کے ساتھ اس کو ڈیفیوز (defuse)کرنا چاہیے، نہ کہ اس کو علیحدگی کا سبب بنالیا جائے۔ یہ زوجین علیحدگی کے بعد دوبارہ اسی انسانی سماج میں رہیں گے اور دوبارہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا وہی نزاع ہوجائے گا جو اس سے پہلے میاں بیوی کی حیثیت سے ان کے درمیان ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کے مسئلہ کا حل علیحدگی نہیں ہے بلکہ نزاع کو ٹالریٹ کرنا ہے۔

16فروری2003

شیخ مصطفیٰ احمد الزرقاء حلب میں1904میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات2002 میں سعودی عرب میں ہوئی۔ ان کی خاص صفت یہ تھی کہ ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ وہ عربی کے علاوہ جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔ انہوں نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔ فقہ کے بارے میں ان کی معلومات بہت وسیع تھیں۔ ان کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے

1960میں شام کی راجدھانی دمشق میں ’’فقہ اسلامی ہفتہ‘‘ منعقد کیا گیا۔ مسلم فقہا اور علمائے دینکی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ان میں شیخ مصطفیٰ الزرقاء، شیخ محمد ابوزہرہ اور ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی بھی تھے۔ ایک عصری فقہی مسئلہ میںشیخ زرقاء اور شیخ ابوزہرہ کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ مسئلہ انشورنس (بیمہ )کا تھا۔ دونوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے مگر دونوں میں اتفاق نہ ہوسکا۔

ڈاکٹر السباعی سےدونوں کے اختلاف رائے کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا۔ استاذ ابوزہرہ فقہ کا کتب خانہ ہیں اور استاذ زرقاء کو فقہ میں ملکہ حاصل ہے۔(ترجمان دارالعلوم، فروری2003، صفحہ43)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7مئی2003

دہلی کے ایک تعلیم یافتہ ہندوخاتون لورین چوپڑا ملاقات کے لیے آئیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہندومسلم جھگڑوں کی جڑمذہبی اختلاف ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذہب برابرہیں اور سب مذہب یکساں طور پر سچے ہیں تو یہ آپس کا جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ سوامی وویکانند اور مہاتماگاندھی جیسے بہت سے لوگ یہی بات کہتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے اپنے لمبے مطالعہ کے بعد اس موضوع پر ایک تفصیلی کتاب تیارکی۔ وہ929صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The Essential Unity of All Religions by Bhagavan Das, Madras, 1932

other sourceWords of another person or source

میں نے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقی اور غیر عملی نظریہ ہے۔ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے، تب بھی موجودہ مذہبی جھگڑے ختم نہیں ہوں گے۔ اس لیے کہ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ مذہبوں کے ٹکسٹ کو یکساں ثابت کریں۔ مگر آپ انٹر پریٹیشن کے اختلافات کو ختم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھگوت گیتا ایک کتاب ہے۔ مگر بال گنگادھرتلک نے گیتا کا انٹر پریٹیشن ہنسا کے روپ میں دیا اور مہاتما گاندھی نے اہنسا کے روپ میں۔ ایسی حالت میں نتیجہ رخی کام تمام مذاہب کو یکساں ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اہل مذاہب میں رواداری کا مزاج پیدا کرنا ہے۔

14مئی2003

آج مسٹر یاسرملاقات کے لیے آئے۔ وہ ریسرچ کے طالب علم ہیں اور جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ جماعت اسلامی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ایک نوجوان ہیں اور تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کو اختلافی مسائل میں الجھاؤں۔ اس موضوع سے ہٹ کر آپ کو میں صرف دو چیز کا مشورہ دوں گا۔ اور وہ ہے— اخلاص اور علم۔میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ نیت کا اخلاص ہے۔ آپ اس اعتبار سے اپنا جائزہ لیتے رہیے۔ اور دوسری چیز یہ کہ آپ اپنی علمی تیاری میں کمی نہ کیجیے۔ اپنے علم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیجیے۔

25مئی2003

امام حسن بصری21ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور110ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔ ان کے تفسیری اقوال کو لے کر پانچ جلدوں میں ایک تفسیر چھپی ہے

ماثر المفسر الاثري تفسير الحسن البصري ، شیر علي شاه، کراچی، 1993

other sourceWords of another person or source

حسن بصری کے بہت سے عارفانہ قول مشہور ہیں۔ وہ انس بن مالک صحابی کے شاگرد تھے۔ ان کی روایت کردہ ایک حدیث یہ ہے‌ إِنَّ ‌مِنَ ‌السَّرَفِ ‌أَنْ ‌تَأْكُلَ ‌كُلَّ ‌مَا اشْتَهَيْت َ(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر3352)۔یعنی، یہ بھی اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کی تمھیں خواہش ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام حسن بصری آج ایک معروف اور مسلّم بزرگ اور عالم جانے جاتے ہیں۔ مگر اپنے زمانہ میں وہ ایک نزاعی (controversial) شخصیت تھے۔ بہت سے لوگ ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مشہور کیا کہ حسن بصری شیعیت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ وہ جبروقدر کے معاملہ میں عام علما سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ وہ حلول کے قائل ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ حدیثیں وضع کرتے ہیں، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آج کسی شخص سے لوگوں کو کچھ اختلاف ہوجائے تو فوراً وہ اس کو نزاعی شخصیت قرار دے دیتے ہیں۔ حالاں کہ محض اختلاف رائے سے کوئی شخص نزاعی شخصیت نہیں بنتا۔ مثلاً جیسا کہ معلوم ہے کچھ لوگوں کو حضرت عثمان سے سخت اختلاف ہوا۔ اس طرح کچھ لوگوں کو حضرت علی سے سخت اختلاف ہوا۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو حسن اور حسین سے اختلاف ہوا۔ اسی طرح حسن بصری، محدث البخاری، احمد بن حنبل النصرانی، ابن تیمیہ، ابن رشد اور شاہ ولی اللہ وغیرہ وغیرہ ہر ایک سے ان کے ہم عصروں نے سخت اختلاف کیا۔ مگر اس بناپر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ نزاعی شخصیت تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص رواجی اسلوب سے ہٹ کر کچھ کہے تو لوگ اس کو نزاعی شخصیت قرار دے دیتے ہیں۔

27جون2003

آج کلdialogueکا لفظ بہت بولاجاتا ہے یعنی اختلافی مسائل میں باہم بات چیت۔ مگر دنیا بھر میں ہزاروںdialogueکے باوجود اس کا کوئی فائدہ نہ ہوسکا۔ اس کا سببdialogue کا غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے۔ انگریزی لغت کی کتاب ویبسٹر میںdialogueکی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Dialogue means discusion between different ideas in seeking harmony.

فرق و اختلاف فطرت کا ایک حصہ ہے، اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں فرق و اختلاف کو ختم کرنے کے لیے dialoguesکرنا ایک بے معنی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ فرق واختلاف کو اپنے موافق استعمال کرنے کے لیےdialogueکیا جائے۔

10جولائی2003

امام ابویوسف (وفات 182ھ)اور امام محمد دونوں امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیں۔ ان کے درمیان صرف چند سالوں کا فرق ہے۔ امام ابوحنیفہ کی وفات153ھ میں اور امام محمد کی189ھ میں ہوئی ۔ یعنی ان کے درمیان صرف ایک تہائی صدی کا فرق ہے۔ اس کے باوجود ان دونوں ( ابویوسف اور محمد) نے ایک تہائی مسائل میں امام صاحب سے اختلاف کیا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ جو حالات ان دونوں نے دیکھے وہ امام صاحب نے نہیں دیکھے تھے اور جو چیزیں انہوں نے سنیں وہ امام صاحب نے نہیں سنی تھیں۔ امام محمد نے فرمایا اگر میرے استاد نے وہ کچھ دیکھا اور سنا ہوتا جو میں نے دیکھا اور سنا ہے تو وہ بھی وہی کہتے کہ جو میں نے کہا ہے۔اگر تیس سال سے اتنا فرق ہوسکتا ہے تو تیرہ صدیوں سے کتنا فرق ہوجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

24دسمبر2001کو کویت میں ایک سمینار ہوا۔اس کا موضوع تھا اسلامی ثقافت میں اعتدال اور میانہ روی (ثَقَافَةُ الْأُمَّةِ الْوُسْطِ)۔ مذکورہ موضوع پر لکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے یہ بات کہی۔

30جولائی2003

دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک خاص مشن پر انڈیا آئے ہیں۔ ان میں سے ایک برونئی کے تھے اور دوسرے ملیشیا کے۔ ان کے نام یہ ہیں

Seah Ling Pau (Brunoi)

Dr. Happy Tong Chan Wah M.D (Malaysia)

انہوں نے کہا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہر مذہب کا پیغام صرف ایک ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس مشترک مقصد کے اوپر تمام مذاہب کو متحد کریں۔ ان کے بیان کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً دس ملین آدمی ان کے حامی بن چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بہت سے لوگ پیش کرچکے ہیں۔ مگر ہر ایک اس میں ناکام ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ، ہر مذہب میں کچھ منتخب اجزاء لے کر اس قسم کی یکسانیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالاں کہ کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کی ساری تعلیمات کو سامنے رکھنا ہوگا، نہ کہ صرف بعض تعلیمات، میں نے کہا کہ اختلاف فطرت کا حصہ ہے اور یہ اختلاف مذاہب کے درمیان بھی موجود ہے۔ آپ ان اختلافات کو ختم نہیں کرسکتے۔ اس لیے اتحاد کا صحیح فارمولا یہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Follow one and respect all.

8اپریل2004

مزماریہ کی پیدائش پولینڈ میں ہوئی۔ وہ ایک عیسائی ہیں مگر اسلام کا انہوں نے کافی مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک سکھ نوجوان سے شادی کی اور دہلی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے جامعہ سے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا ہے اور اب جامعہ سے پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پولینڈ میں مختلف مذاہب کی ایک کانفرنس ہوئی اس میں کئی عرب علما بھی شریک تھے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اسلام کو ایک تاریخی subjectکے طور پر لیتے ہیں

unverifiedAttribution could not be verified automatically

We take Islam as a historical subject.

ماریہ نے بتایا کہ پروفیسر کے اس بیان پر عرب علما نے سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک تاریخی subjectنہیں ہے۔ اسلام ایک عقیدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں غلطی عرب علما کی تھی،نہ کہ مذکورہ پروفیسر کی۔ مسلم علما کو اگر یہ حق ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کو محرف مذاہب یا منسوخ مذاہب قرار دیں تو دوسرے اہل علم کو بھی یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے نظریہ کے مطابق اسلام اور دوسرے مذاہب کو تاریخی مظاہرہ (historical phenomenon)بتائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی بھی یک طرفہ نہیں ہوسکتی۔ اگر ہم اپنے لیے رائے کی آزادی چاہتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی ہمیں رائے کی آزادی دینا ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری بات یہ کہ اس طرح کے اختلافات ہمیشہ ڈائلاگ کا موضوع ہوتے ہیں ، نہ کہ احتجاج یا شوروغل کا موضوع۔

26مئی2005

پاکستان سے ایک صاحب کا ٹیلیفون آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلک کے جھگڑے بہت زیادہ ہیں۔ فلاں مسلک والے امام کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ فلاں مسلک کا آدمی مرجائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔ فلاں مسلک کے خاندان میں رشتہ نہ کرو۔ فلاں مسلک کے آدمی کے دسترخوان پر کھانا نہ کھاؤ، وغیرہ۔ انہوں نے پوچھا کہ اس معاملے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ میں اس قسم کے اختلافات کو غلو سمجھتا ہوں۔ اور غلو اسلام میں سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی غلو آمیز تحریکیں انگریزی نوآبادیات کے زمانے کی دین ہیں، اس سے پہلے ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ چوں کہ مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، اس لیے مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے انگریزوں نے مختلف پہلوؤں سےتفریقی کوشش کی گئیں۔ انگریزوں کا یہ فعل اسلام دشمنی کی بنا پر نہ تھا جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ وہ اپنے دفاع کے طور پرتھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ ان اختلافات کا کوئی تعلق اسلامی شریعت سے نہیں ہے، بلکہ وہ انگریزوں کی وراثت ہے۔ آج بھی یہ جھگڑے صرف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عرب ملکوں میں ان جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔ عرب ملکوں میں اخوان المسلمین نے سیاسی جھگڑے ضرور کھڑے کیے ہیں۔ مگر جہاں تک مسلکی جھگڑوں کا تعلق ہے وہ عرب ملکوں میں موجود نہیں۔

2ستمبر2005

دارالعلوم دیوبند کے پڑھے ہوئے دو عالم ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ الرسالہ پڑھتے ہیں۔ آپ کی اکثر باتوں سے ہم کو اتفاق ہے البتہ کچھ باتوں میں اختلاف ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اختلاف توہر ایک سے ہوسکتا ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نےامام مالک کا یہ قول دہرایا كُلُّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُتْرَكُ إِلَّا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد8، صفحہ93)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اس موقع کے لیے آپ کا یہ حوالہ درست نہیں۔ امام مالک نے یہ بات جزئیات شرع کے لیے کہی ہے، ان کی یہ بات کلیات شرع کے لیے نہیں تھی۔ اور اگر آپ الرسالہ پابندی سے پڑھتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم جزئیاتی مسائل کو اپنا موضوع نہیں بناتے۔ ہم صرف اساسی مسائل دین کو اپنا موضوع بناتے ہیں اور اساسی مسائل دین میں اختلاف کا کوئی سوال نہیں۔

میں نے کہا کہ ایک بے حقیقی اختلاف اور دوسرا غلط فہمی کی بناپر اختلاف۔ الرسالہ سے کسی کو حقیقی بنیاد پر اختلاف نہیں ہوسکتا۔ البتہ غلط فہمی کی بنیاد پر اختلاف ہوسکتا ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ آپ صاحب تحریرسے رجوع کرکے اس معاملے کی وضاحت معلوم کرلیں۔

16ستمبر2005

ایک لمبی حدیث ہے جس کے اندر یہ الفاظ آئے ہیں الْجَمَاعَةُ ‌رَحْمَةٌ، ‌وَالْفُرْقَةُ ‌عَذَابٌ (مسند احمد،حدیث نمبر18449)۔ جماعت رحمت ہے، اورنا اتفاقی عذاب ہے۔ اس حدیث میں عام طور پر لوگ جماعت کو تنظیم کے معنی میں لے لیتے ہیں، یعنی تنظیمی گروہ۔ مگر یہ غلط ہے۔ اس حدیث میں جماعت سے مراد ملّی اتحاد ہے۔ اور فرقہ سے مراد ملّی انتشار ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ملت کے اندر اتحاد ہوگا تو وہ ہر اعتبار سے کامیاب ہوگی اور جب اس کے اندر انتشارہوگا تو وہ بے عزت اور ناکام ہوجائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

29ستمبر2005

CPS ٹیم کے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ مجھے ٹیم کے لوگوں میں ہرقسم کی اعلیٰ صلاحیت نظر آتی ہے۔ مگر یاد رکھیے کسی بھی انسانی گروہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف ایک ہوتا ہے۔ اور وہ ہے اختلاف کے وقت برداشت کا ثبوت نہ دینا۔ اختلاف کو نظرانداز کرکے بدستور متحد نہ رہنا۔ اس صلاحیت کو میں آرٹ آف ڈفرینس مینجمنٹ کہتاہوں۔

میں نے کہا کہ ڈفر ینس یا اختلاف ایسی چیز ہے جو ہمیشہ پیداہوتی ہے۔ اصحاب رسول میں اختلافات پیدا ہوئے۔ یہاں تک کہ ایک زمانے میں دو پیغمبرہوں تو ان میں بھی اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ اور ہارون کے درمیان اختلاف پیداہوا اور وہ صورت پیش آئی جس کو قرآن میں حضرت ہارون کی زبان سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے لا ‌تَأْخُذْ ‌بِلِحْيَتِي ‌وَلا ‌بِرَأْسِي (20:40)۔ یعنی، تم میری داڑھی نہ پکڑو اور نہ میرا سر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3مارچ 2007

2مارچ 2007کو اردو صحافت کے پندرہ صاحبان آئے۔ یہ لوگ مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی (حیدر آباد )کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ پروفیسر عبد الرحیم بھی تھے جو یو نیورسٹی میں صدر شعبہ صحافت ہیں۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان متنازعہ شخصیت بن گئے ہیں۔ زیادہ اچھا یہ تھا کہ آپ اپنے آپ کو اس سے بچاتے ہوئے کام کرتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اختلاف اور نزاع میں فرق ہے۔ مجھ سے بعض معاملات میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مسلمانوں کے درمیان متنازعہ شخصیت ہو ں ۔ مجھ سے جن لوگوں کو اختلاف ہے، وہ صرف بعض امور میں طریقِ کار کو لے کر ہے۔ متنازعہ شخصیت بننےکے لیے ضروری ہے کہ اُس سے کسی مسئلہ عقیدے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہو، جب کہ میرے بارے میں ایسا نہیں ہے۔اگر محض اختلاف سے کوئی شخص متنازعہ شخصیت بنتا ہو تو مسلم تاریخ کی تمام شخصیتیں متنازعہ شخصیت بن جائیں گی ۔ کیوں کہ پوری مسلم تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس سےکسی نہ کسی معاملے میں اختلاف نہ کیا گیا ہو۔

7مئی 2007

قرآن کی سورہ نمبر 2میں یہ آیت آئی ہے  فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ (2:102)۔یعنی، وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہمارے مفسرین عام طور پر اِس آیت کو یہود سے جوڑتے ہیں ۔ اِس کو پڑھ کر لوگ صرف یہ سمجھتےہیں کہ اس میں صرف یہود کی ایک برائی کا ذکر ہے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا ایک توسیعی مفہوم بھی ہے ، وہ یہ کہ ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کر کے میاں بیوی بن جائیں تو ایسی کوئی حرکت کرنا ، سخت شیطانی کام ہے جس سے دونوں کے درمیان تعلق بگڑ تا ہو اور طلاق کی نوبت آتی ہو۔

11جولائی 2007

ایک بڑے عالم دین کا اسی مہینہ میں انتقال ہوگیا۔ وہ ایک مخلص اور با اصول آدمی تھے ، ان کے بارے میں ایک مضمون ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ)جولائی 2007میں چھپا ہے ۔ مضمون نگار مولانا کے شاگرد ہیں ۔ اُن کے بارے میں وہ لکھتے ہیں 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’مولانا کو فقہ حنفی سے خاص مناسبت تھی ۔ بلکہ اس کے بارے میں شدید تھے۔ ایک مرتبہ خود فرمایا کہ میرا ذہن حنفیت کے لیے دلائل ڈھونڈنے میںویسے چلتا ہے ، جیسے ڈھال پر پانی ۔ لیکن اِس کے باوجوددیگر مسالک کے علما وائمہ کے احترام اور ان کے مسالک کے بیان میں کوئی کمی نہ ہوتی تھی ۔ ‘ ‘ (صفحہ 46)

حنفیت کیا ہے ۔ حنفیت ، دراصل جزئیات شریعت میںمختلف ترجیحات کے درمیان ایک ترجیح کو اختیار کرنے کا نام ہے ۔ میںسمجھتا ہوں کہ اِس معاملے میں تصلّب ، غلو کی تعریف میںآتاہے ۔ میری سمجھ کے مطابق ، جزئیات میں تصلّب درکار نہیں ہے ، بلکہ توسّع اور تنوّع درکار ہے ۔ یہ بات خود حدیث سے ثابت ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَصْحَابِي ‌كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی، میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔ اس حدیث ِ رسول سےمعلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے درمیان جزئیات شریعت میں اختلاف ہوگا۔ اگر اختلاف نہ ہو تو یہ کہنے کا کوئی مطلب نہیں کہ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ( تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے)۔ ایسی حالت میں جو لوگ فقہی جزئیات میںتشدد دکھاتے ہیں ، وہ صرف یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انھیں دین کی معرفت ِاعلیٰ حاصل نہیں ہوئی ۔ میرے تجربے کے مطابق، معرفت ِ اعلیٰ کے ساتھ یہ ذہن جمع نہیں ہو سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5جنوری 2008

آج مسٹر میگھانی (Mihir Meghani, M.D)ملاقات کے لیے آئے ۔ وہ امریکا میں پیدا ہوئے اور اب وہیں رہتے ہیں ۔ وہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن کے صدر ہیں۔میں نے پوچھاکہ آپ کی تنظیم کا مقصد کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مذہب کے دائرے میں پلورلزم (pluralism) کو فروغ دینا ہے ، یعنی یہ نظریہ کہ تمام مختلف مذاہب سب کے سب یکساں طور پر حق ہیں ، ان میں کوئی فرق نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اِس قسم کا نظریہ مذہب کے دائرےمیں ڈائلاگ کو ختم کرنے کے ہم معنی ہے ۔ دوسرے تمام علمی شعبوں میں اختلاف رائے کوبرداشت کرتے ہوئے ڈائلاگ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ کیوںکہ اِس سےعلمی اور ذہنی ارتقا کا عظیم مقصد حاصل ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مذہب کے معاملہ میں یہ تضاد کیوں۔ میں نے کہا کہ اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسرے علمی شعبو ں میں توارتقا (development)کا عمل جاری رہے گا، اور مذہب کے دائرے میں یہ عمل رک جائے گا ۔ انھوں نے اِس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

5مئی 2008

آج کشمیر کے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نےاپنا نام عبد الرحمٰن بتایا۔ انھوںنےکہا کہ امت میں اتفاق نہیں ، آپ لوگ جو قوم کے رہنماہیں ، اسٹیج پر کیوں نہیں جمع ہوتے ۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ ایک اسٹیج پر آکر اور ایک آواز کی صورت میںسب کو اتفاق کی تلقین کریں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میں نےکہاکہ علما اور رہنمائوں کا ایک اسٹیج پر آنا، قوم کے اندر اتفاق پیدا نہیں کرسکتا۔ ہمارے علما اور رہنما بار بار ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئےہیں ۔ مثلاً آزادی سےپہلے تمام لوگ آل انڈیا مسلم لیگ کے اسٹیج پر اکٹھا ہوئےہیں، مگر آج پاکستان میں علما اور رہنما آپس میں لڑرہے ہیں ۔ آزادی کے بعد آل انڈیامسلم مجلس مشاورت بنی ۔ اُس میں بھی علما اور رہنما ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے۔ اس کے بعد آپس میںلڑ کر الگ الگ ہو گئے ۔ اس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبنا۔اس میں بھی علما اور رہنما ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے ، مگر اس کے ذریعے قوم میں اتفا ق نہ آسکا، وغیرہ ۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ اتفاق کی اپیل کا نہیں ہے ۔اتفاق کی اپیل تو ہزاروں بار کی جا چکی ہے ۔ اصل چیز یہ ہے کہ لوگوں کو اتفاق کا فارمولا معلوم نہیں۔ وہ فارمولا ہے — اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اتحاد قائم ہوتا ہے اختلاف کو برداشت کرنے سے ، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔

23مئی 2008

مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب انصار اور مہاجرین کے درمیان اختلاف ظاہر ہوا، تو ایک صحابی، ابوعبیدہ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تم لوگ سب سے پہلے خدا کےدین کی نصرت کرکےخدا اور اس کےرسول کے انصار بنے تھے (إِنَّكُمْ ‌أَوَّلُ ‌مَنْ ‌نَصَرَ)، اب تم دین میں اختلاف اورانتشار کی پہل کرنے والے نہ بنو۔ یہ سننا تھا کہ انصار اختلاف سے رک گئے (تاریخ الطبری، جلد3، صفحہ221)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ رول ہر زمانے میں مطلوب ہے ۔ اصل یہ ہےکہ عوام مخلص ہوتے ہوئے بھی جذبات کا شکار ہو جاتےہیں ۔ ایسی حالت میں خواص میں سےایک شخص کو کھڑا ہونا پڑتا ہے جو امرِ حق کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ مگر موجودہ زمانےکے علما نے یہ رول انجام نہیں دیا۔ بار بار ایسا ہواکہ عوام نےجذباتی تحریکیں اٹھائیں ، مگر خواص علما ایسےموقع پر خاموش رہے، غالباً اس ڈر سے کہ وہ عوام سے کٹ جائیں گے ۔ خواص علما کے اِس رویے کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ مل سکی۔مسجدکان پور(1913)، مسجد ایودھیا (1992)، قضیہ فلسطین (1948)، اور قضیہ کشمیر(1979) اِس کی چند مثالیں ہیں۔

19دسمبر 2008

عباسی دورمیں فقہا نے احکامِ شریعت کی تدوین کی۔ اس وقت ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش آیا کہ عبادت کے فارم کے بارے میں صحابہ کی رائیں اور اُن کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ فقہا نے اِس معاملے کے حل کے لیے ترجیح (preferance)کا اصول اختیار کیا، یعنی کسی ایک کو راحج قرار دےکر دوسری رایوں کو چھوڑ دینا۔

ترجیح کا یہ اصول خالص قانونی معاملات میںدرست تھا، جن کا تعلق عدالت سےہوتا ہے ، نہ کہ عام انسان سے۔ مگر انھوں نے عبادت کے معاملے میں بھی ترجیح کے اصول کو اختیار کیا۔ اِس بنا پر مختلف فقہی اسکول بن گئے ۔ میرے نزدیک فقہا کا یہ مسلک درست نہیں۔ عبادت کےمعاملے میں فرق کو تنوع (diversity)اور توسع پر محمول کیا جائے گا ، جیساکہ حدیث میں آیا ہے  بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ(جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی، تم ان(صحابہ) میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21دسمبر 2008

بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو اختلافات ہوئے ، اُن کی دوقسمیں ہیں — ایک وہ جو منحرفانہ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور دوسرے ، وہ جن کی حیثیت منحرفانہ گروہ کی نہیں ہے ۔ مثلاً انکارِ حدیث منحرفانہ گروہ کی مثال ہے ۔ اور فقہی مسالک غیر منحرفانہ گروہ کی مثال۔ تاہم فقہی طرز فکر نے ایک بہت بڑا نقصان پیدا کیا ہے ۔اور وہ ہے شفٹ آف امفیسس (shift of emphasis)۔یعنی عبادت کی اسپرٹ پر زور دینے کے بجائے ، عبادت کے فارم پر زور دینا۔ اِس کی وجہ سے امت کے اندر فقہی عبادت کی دھوم کے باوجود اسپرٹ والی عبادت ناپید ہے۔

دوسری بڑی غلطی اجماع کو مصدرِ شریعت کی حیثیت دینا ہے ۔ اجماع کسی معاملے میںصرف ایک وقتی حل ہے ، وہ شریعت کا کوئی نظریاتی ماخذ نہیں ۔کیوں کہ بعد کے زمانے میںاس اجماع پر عمل ناممکن ہو جاتاہے ۔ مثلاً شاتم کے قتل پر اجماع ،وغیرہ ۔

30دسمبر 2008

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر اختلافات پیدا ہوتے ہیں ۔ اِس اختلاف کو لے کر لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ اتحاد اُسی وقت ممکن ہے ، جب کہ اختلاف نہ ہو۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ اس دنیا میں اتحاد ہمیشہ اختلاف کے باوجود ہوتا ہے ، نہ کہ اختلاف کے بغیر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12جنوری 2010

عام طور پر لوگ تنقید یا اختلاف ِ رائے کو بری چیز سمجھتے ہیں ۔ مگر میں اس کو ایک نعمت سمجھتا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید یا اختلاف ِ رائے سے ذہن کو ایک نیا رخ حاصل ہوتا ہے، نیا تصور ذہن میں ایمرج کرتا ہے ۔ میں اپنے مزاج کے اعتبار سے تنقید کو ہمیشہ معتدل انداز میں لیتا ہوں ۔ میں تنقید کو برا نہیں سمجھتا ۔

اِ س کی ایک مثال آج سامنے آئی۔ آج کل میں اپنی پوتی سعدیہ سے روزانہ انگریزی آرٹکل لکھواتا ہوں۔ وہ لیپ ٹاپ لے کر اس پر ٹائپ کر تی رہتی ہیں۔ آج میں قرآن کی سورہ فصلت کی اِس آیت پر لکھوا رہا تھا ادْفَعْ ‌بِالَّتِي ‌هِيَ ‌أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے سعدیہ کو آرٹکل کا عنوان اِن الفاظ میں بتایا 

Making Friend out of Enemy

سعدیہ نے اِس عنوان سے اختلاف کیا۔ سعدیہ نے کہا کہ یہ مضمون ہم انگریزی پرچے کے لیے لکھ رہے ہیں ۔ enemyایک نیگٹو لفظ ہے او ر انگریزی پرچے والے نیگٹو لفظ کو پسند نہیں کریں گے ۔ میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم اُس وقت موجود تھیں ۔ انھوں نے دوسرا عنوان یہ تجویز کیا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Transforming enmity into Friendship

اِس طرح بحث ہوتی رہی ۔ میرا ذہن مزید سوچتا رہا ، یہاں تک کہ انگریزی شاعر کولریج (Samuel Taylor Coleridge, 1172-1834) کی مشہور نظم کی ایک لائن (water, water everywhere)مجھے یاد آئی اور اس کے مطابق ، یہ عنوان میرے ذہن میں آگیا 

Friends, Friends Everywhere.

اِس آخری عنوان کو سب نے فوراً پسند کر لیا۔

16جولائی 2010

حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام میں دَخَن پیدا ہو جائے گا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3606)۔ یعنی نقص یا کمزوری ۔

hadithQuotes a hadith

یہ پیشن گوئی پوری طرح درست ثابت ہوئی ۔ بعد کے زمانے کے مسلمانوں نے صرف ایک کام آئڈیل انداز میں کیا۔ وہ ہے قرآن کی حفاظت ۔ یہ کام آئیڈیل انداز میں اس لیے ہو سکا کہ براہ راست خدا نے اس کا ذمہ لے لیا ہے۔ اس کے سوا ہر کام جو مسلمانوں نے کیا اس میں کوئی نہ کوئی نقص شامل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں نے قرآن کی تفسیر کی تو اس سے منصوبۂ تخلیق سے آگاہی کو حذف کر دیا۔ اسی طرح انھوں نے احادیث رسول کی تدوین کی تو اس میںہر قسم کے ابواب موجود تھے، مگر یہاں بھی منصوبۂ تخلیق سے آگاہی کا باب حذف تھا۔ پھر مسلمانوں نے فقہ کی تدوین کی تو اختلافات کو توسع پر محمول کرنے کے بجائے اس میں ترجیح کا اصول منطبق کر دیا۔ اسی بنا پر کئی فقہی اسکول بن گئے۔ انھوں نے تاریخ لکھی تو اسلامی تاریخ کی تصغیر کر کے اس کو محض سیاست نامہ بنا کر رکھ دیا۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی زوال ہو ا تو دوبارہ مسلمانوں کو سیاسی احیا پر ابھارنے کے لیے اسلام کی سیاسی تفسیر کر ڈالی ۔ اس طرح وہ چیز جو ایک عملِ مسلک کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16مئی2011

حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے میں نے ہر کام چھوڑدیا ہے اور صرف کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے پایا کہ علما اور مفسرین کی رایوں کے درمیان بہت زیادہ تضادملتا ہے۔اس حالت میں صحیح رائے تک کیسے پہنچا جائے۔

میں نے کہا کہ تضاد ایک اضافی لفظ ہے۔ رایوں میں اختلاف یقیناً پایا جاتا ہے، لیکن اس کو تضاد کہنا درست نہیں۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مطالعے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آپ ایک اتفاقی رائے تک پہنچ جائیں۔ اتفاقی رائے ایک خارجی لفظ ہے۔ مطالعے کا صحیح معیار یہ ہے کہ مطالعے کے ذریعے خود آپ کے اندر ذہنی ارتقا ہوتا ہے یا نہیں۔

میں نے کہا کہ میری ملاقات بہت سے ایسے لوگوں سے ہوئی ہے جنہوں نے کتابوں کا بہت زیادہ مطالعہ کیا تھا۔ جب میں نے ان کا حاصلِ مطالعہ پوچھا تو وہ دوسروں پر تنقید کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا ہوں۔ بلکہ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ خود آپ کو وزڈم کی کوئی بات ملی۔ بار بار پوچھنے کے باوجود وہ کوئی ایک بھی وزڈم کی بات نہ بتاسکے۔ میں نے کہا کہ مطالعے کا مقصد دوسروں کی غلطیوں کو دریافت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے لیے کوئی مثبت حقیقت کو دریافت کرنا ہے۔

10جون2011

Voltaire on democracy: I disapprove of what you say, but I will defend to the death your right to say it. (The Friends of Voltaire by S. G. Tallentyre, London, 1960, p. 199)

other sourceWords of another person or source

یہ فرنچ فلاسفر والٹیر (1694-1778)کا قول ہے۔ اس نے کہا کہ جو تم کہہ رہے ہو، اس سے مجھے اختلاف ہے، لیکن میں مرتے دم تک تمہارے حق اختلاف کی حمایت کروں گا۔

other sourceWords of another person or source

یہی موجودہ ڈیموکریسی کی روح ہے۔ مسلم ملکوں میں ڈیموکریسی کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ روحِ جمہوریت موجودنہیں۔ پاکستان اور ایران اور لیبیا جیسے کئی مسلم ممالک جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن وہاں جمہوریت قائم نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان ملکوں کے مسلمانوں میں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا مزاج نہیں۔ ان کا نظریہ برعکس طورپر یہ ہے کہ تم اپنے اختلاف کو ختم کرو، ورنہ میں تم کو گولی ماردوں گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

24ستمبر2011

فرنچ فلاسفر والٹیر (1694-1778)کا ایک قول یہ ہے

I disapprove of what you say, but I will defend to the death your right to say it.

(The Friends of Voltaire, 1960, p. 199)

والٹیر کا مذکورہ قول جمہوریت کی روح کو بتاتا ہے۔ جمہوریت کی روح ایک لفظ میں یہ ہے کہ لوگوں کو اختلاف رائے کا مطلق حق حاصل ہو۔ یہ تصور فرنچ انقلاب (1789)کے بعد اپنی موجودہ شکل میں آیا۔ اس کو آج کل کی زبان میں، حق اختلاف (right to dissent) کہا جاتا ہے۔ یہ حق بہت زیادہ اہم ہے۔ قدیم زمانے میں یہ حق تسلیم شدہ نہیں تھا۔ چنانچہ اکثر ذہین لوگ مار ڈالے گئے۔ مثال کے طور پر پچھلے سوسال میں افغانستان میں ٹاپ کے بارہ لوگ محض اختلاف کی بناپر مارڈالے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں علمی اور ذہنی ارتقا مغربی ملکوں میں ہوا، وہ مشرقی ملکوں میں نہ ہوسکا۔

10اکتوبر2011

میں نے اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص میرے بارے میں تنقید یا اختلاف کرے تو آپ ہرگز اس سےبحث نہ کریں، بلکہ صرف یہ کریں کہ اس کو ہمارے مشن کی کوئی کتاب پڑھنے کے لیے دے دیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ جب آپ اس سے بحث کریں گے تو بہت جلد یہ بحث دو آدمیوں کے درمیان ’’ انا ‘‘کا ٹکراؤ(ego clash) بن جائے گا۔ مگر جب آدمی کتاب پڑھتا ہے تو اس وقت کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے نہیں ہوتا جس کے ساتھ ’’انا‘‘ کا ٹکراؤ پیش آئے۔ یہی طریقہ حکمت کے مطابق ہے۔ تنہائی میں جب آدمی کتاب پڑھتا ہے تو وہ اس پوزیشن میں پڑتا ہے کہ وہ معقول ذہن کے تحت کتاب کے مضامین پر غور و فکرکرے اور معتدل ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کرے۔

18نومبر2011

نئی دہلی میں ایک کرشچن سینٹر ہے۔ اس کا نام ہےCISہاؤس (جنگپورہ)۔ 17نومبر 2011کو اس سینٹر کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عیسائی حضرات شریک تھے۔ اس میں ناروے کے تین پیس ایکٹوسٹ بھی موجود تھے۔ اس اجتماع میں صرف میری تقریر تھی۔ اس میں مجھ کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دیا گیا، 45 منٹ تقریر اور45 منٹ سوال وجواب۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اس موقع پر میرے ساتھیوں نے تمام شرکا کو تعارفِ اسلام پر مبنی لٹریچر دیا۔

اجتماع کے خاتمے پر اس کے کنوینر اور ناظم ڈاکٹر سموئل تھامس (فادر) نے ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا کو ایک لفافہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ آپ نے پروگرام میں جو لٹریچر تقسیم کیا ہے، یہ اس کے لیے ہے۔ اس لفافے میں5ہزار روپے تھے۔ یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اس اجتماع کا پورا انتظام مسیحی حضرات نے کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے ساتھیوںکو پورا موقع دیا کہ وہ شرکا کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کریں۔ پھر آخر میں انہوں نے تقسیم کیے جانے والے لٹریچر کی قیمت بھی شکریہ کے ساتھ ادا کردی۔

یہ واقعہ دورجدید کے مزاج کو بتاتا ہے۔ دورجدید کے انسان کا مزاج یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ہر ایک کا احترام اور اعتراف کرو۔ موجودہ زمانے کے مسلم علما اور رہنماؤں نے دورجدید کے اس مزاج کو نہیں سمجھا۔ وہ فرضی شکایتوں کو لے کر دور جدید کے خلاف ہوگئے۔ اپنے اس منفی مزاج کی بناپر وہ دور جدید کے ذہن کو اور اس کے امکانات کو سمجھ نہ سکے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ موجودہ زمانے میں دنیا کے سامنے مذہب کا مثبت تعارف پیش نہ کرسکے۔

2مئی 2012

انسانوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے ۔کچھ لوگ جذباتی مزاج کے ہوتے ہیں ، اور کچھ لوگ متحمل مزاج ۔ اِ س فرق کا ایک تجربہ ہمارے مشن میں ہوا ۔ لکھنؤ میں ہمارے مشن سے وابستہ ایک گروپ ہمارے یہاں کے شائع شدہ لٹریچر کو لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا ۔ اِس پر ایک دینی ادارہ کےذمہ دار سے ان کا اختلاف ہوا۔ چنانچہ ادارے کے ذمہ دار اور ان کے درمیان گفتگو ہوئی۔ دورانِ گفتگو لٹریچر تقسیم کرنے والے ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے گرد جو لوگ جمع ہیں، وہ منافق قسم کے لوگ ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرے نزیک یہ ایک جذباتی اور پرسنل ریمارک ہے ، وہ کوئی علمی تبصرہ نہیں ۔دوسری طرف ساؤتھ انڈیا میں موجود ہمارے مشن سے وابستہ دوسرے گروپ کا ان کے ادارے سے اختلاف ہوا۔ اس وقت انھوں نے اپنے ادارے سے جواب میں صرف ایک بات کہی ، وہ یہ کہ ہم کو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر درکار ہے ۔ آپ اگر سی پی ایس (نئی دہلی ) کے سوا کوئی دوسرا لٹریچر دے دیں تو ہم اُسی کو استعمال کریں گے اور سی پی ایس کے لٹریچر کو چھوڑ دیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اختلاف ایک فطری امر ہے ، لیکن اختلاف کے وقت آدمی کو چاہیے کہ وہ علمی اسلوب میں اظہار خیال کرے۔ پرسنل ریمارک دینے سے وہ سختی کے ساتھ پر ہیز کرے۔

21دسمبر 2013

انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ صفت وہ ہے کہ جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality)کہا جاتا ہے ۔ ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے ۔ انسان کی اِسی تخلیقی صفت سے اختلاف ِ رائے کا مسئلہ پیدا ہو تا ہے۔ انسانوں کے اندر اختلاف ِ رائے ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا ، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے گرفت سے بچ جائے ۔ مطالعے کے مطابق ، اِس معاملے میں محفوظ موقف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی فہم کی نسبت سے آزاد ہو، لیکن حکم لگانے کا حق کسی کو حاصل نہ ہو۔ اسی کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ آزادی ہو کہ وہ دیانت داری (honesty)کے ساتھ جس چیز کو حق سمجھے اُس پر قائم رہے۔ دوسرے شخص کے بارے میں اگر وہ محسوس کرے کہ اِس کی رائے غلط ہے تو اِس اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجہ میں رکھے، اس کو فیصلہ (judgement)کے درجے تک نہ لے جائے ۔ یہ وہی بات ہے جس کو سیکولر علما ا س طرح کہتے ہیں کہ 

Everyone has right to dissent, but no one has right to pass value judgement.

14 جنوری 2015

میرے تجربے کے مطابق شاید دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ جس شخص سے کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے اس کے بارے میں آدمی درست رائے پر قائم رہے،وہ غلط رائے قائم کرنے سےاپنے کو بچائے۔کسی کے بارے میں غلط رائے قائم کرنا بلاشبہ ایک برائی ہے ۔ا گر چہ ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ملیں گےجو اس غلطی سے اپنے آپ کو بچائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourcequoted sourceQuoted from another author or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it