← Hikmat-e-IkhtilafHikmat-e-Ikhtilaf
مشاہدات دنیا
Urdu · 42 min read
مشاہداتِ دنیا
ستمبر 1989ء کولیبیا کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔اس سفر میں میں نے لیبیا پہنچ کر اپنی گھڑی میں مقامی وقت کے مطابق تبدیلی نہیں کی تھی۔ جب مجھے وقت معلوم کرنا ہوتا تو میں ایسا کرتا کہ اپنی گھڑی میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق کر لیتاتھا۔ اس طرح مجھے مقامی وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے مقابلہ میں لیبیا کا وقت ساڑھے تین گھنٹہ پیچھے ہے۔ وقت کے آگے پیچھے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان نے اپنی سہولت کے لیے رات اور دن کی مدت کو 24 گھنٹے میں تقسیم کیا ہے۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ ہر ملک میں دوپہر کا وقت 12 بجے کا ہو گا۔ اب چونکہ زمین کی محوری گردش کی بنا پر ’’دوپہر‘‘ کا لمحہ ہر ملک میں الگ الگ وقت پر آتا ہے، ہر ملک کا وقت الگ الگ ہو گیا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں جس وقت دوپہر ہو گا، اس وقت لیبیا میں ابھی دوپہر کا وقت آنے میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹہ باقی ہوں گے۔ ہر ملک دوپہر کے وقت کو 12 بجے کا وقت مان کر اپنی گھڑی کا آغاز کرتا ہے، اس لیے ہر ملک کا وقت نسبتی طور پر الگ الگ ہو جاتا ہے۔
وقت کا یہ فرق قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’فرق‘‘ اس دنیا کی لازمی حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہمیں فرق کے باوجود مل کررہنا ہے۔ یہاں اختلاف کے باوجود اتحاد قائم کرنا ہے۔
٭٭٭٭٭
7دسمبر 1993کی صبح کو رشی کیش میں فجر کی نماز اول وقت پڑھی۔ اس کے بعد سوامی چیدانند سے رخصتی ملاقات کرنے کے لیے ان کے دفتر میں گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے بہت سے مرد اور عورت وہاں چلے آ رہے ہیں۔ سوامی جی نے بتایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ آج آپ جا رہے ہیں تو وہ آپ سے ملنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر یورپ کے ملکوں سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ انگریزی میں تقریباً10 منٹ تک ان کے سامنے خطاب کیا۔
میں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں روحانی اتحاد کے عنوان پر جمع ہوئے ہیں۔ اس نسبت سے چند باتیں میں قرآن کے حوالے سے کہوں گا۔ قرآن میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی صحیح فطرت پر پیدا کیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف، جھگڑے، غلط فہمیاں یہ سب چیزیں انسانی شخصیت کا اصل حصہ نہیں ہیں، یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ جہالت، حرص، تعصب، کینہ وغیرہ ان کے اسباب ہیں۔ یہ سب چیزیں وقتی طور پر آدمی کی فطرت کو ڈھک لیتی ہیں۔ اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اندر کی یکساں فطرت بے نقاب ہو کر سامنے آ جائے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی اتحاد تو اپنے آپ سارے انسانوں کے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اوپر کے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ پردہ ہٹنے کے بعد جو چیز حاصل ہوگی وہ وہی ہوگا جس کو ہم روحانی اتحاد کہتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
سینیگال کے سفر( 1990) میںایک بار ہوٹل کے لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھا کہ کچھ افریقی مقامی زبان میں بات کر رہے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل کے باہر نکلا تو جھاڑی میں ایک بلی تھی۔ اس نے ’’میاؤں میاؤں‘‘ کی آواز نکالی۔ اچانک خیال آیا کہ جانور تمام دنیا میں ایک ہی انداز پر بولتے ہیں۔ کوئی جانور جس طرح ہندوستان میں بولتا ہے، ٹھیک اسی طرح وہ یورپ اور افریقہ میں بھی بولتا ہے۔ مگر انسان کی بولیاں الگ الگ ہیں۔ حتی کہ دنیا بھر میں ان کی کئی ہزار بولیاں ہو گئی ہیں۔
پھر خیال آیا کہ یہ انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک پہلو ہے۔ جانوروں کا کوئی امتحان نہیں۔ اس بنا پر ان کی ہر نوع کے لیے ایک ہی بولی مقرر کردی گئی۔ مگر انسان اس امتحانی میزان پر کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ارادے سے متحد ہو۔ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثبوت دے۔ جانوروں سے امتحان مطلوب نہ تھا، اس لیے انہیں ازاول تاآخر حالتِ اتحاد میں رکھا گیا۔ اس کے برعکس انسان سے امتحان مطلوب تھا۔ اس لیے انہیں حالت اختلاف میں ڈال دیا گیا اور پھر کہا گیا کہ تم اپنے اختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دو۔
٭٭٭٭٭
4 مئی 1990ءکی سہ پہر کو جنیوا سے دکار کے لیے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ’’پر‘‘ لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر (wing)کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں
Do not walk outside this area.
ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا ۔ کیونکہ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔
ہوائی جہاز کے پَر (wing)کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو — وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 1111)۔ ’’حد‘‘ کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالَموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلاً کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جا سکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سبّ و شتم کے لیے زبان و قلم کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اسی طرح عمل کے معاملہ میں جائز حدود میں سرگرم ہونے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ مگر جائز حدود کے باہر کسی کو اجازت نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
امریکا میں بڑی تعداد میں ایسے مراکز قائم ہیں جن کو یہاں کی اصطلاح میں ’’اسلامک سنٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندستانی اصطلاح میں ان کو وسیع تر مسجد کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں مرکزی طور پر ایک مسجد ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسرے تعلیمی اور ثقافتی شعبے بھی۔ یہ مراکز یہاں کے مسلمانوں کے لیے نقطہ اتحاد یا اجتماعی شیرازہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس قسم کے ایک مرکز کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں کے وابستہ مسلمانوں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہاں میں نے لوگوں کے اجتماع میں ایک تقریر کی۔ اس میں میں نے بتایا کہ اتحاد کی واحد قیمت اختلاف کو برداشت کرنا ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے ہی کا دوسرا نام اتحاد ہے۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام کی بہت سی مثالیں دیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تقریر کے بعد بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کا یہ نظریہ ابھی تک ہم کو بتایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ اس معاملہ میں اہم ترین بات یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ مشرق کے مسلمان ہوں یا مغرب کے مسلمان، سب کی واحد کمی یہ ہے کہ ان میں حقیقی شعور موجود نہیں۔ ہمارے علما اور قائدین خود ہی بے شعوری کا شکار ہیں، پھر وہ دوسروں کو کس طرح شعور دے سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
23 ستمبر 1989ء کی شام کو دہلی سے پی آئی اے کی فلائٹ 293 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کی سروس انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق تھی۔ کراچی تک ایک گھنٹہ 45 منٹ کی پوری پرواز نہایت ہموار رہی۔ جہاز کے اندر مطالعہ کے لیے پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبار موجود تھے۔
اخبارات کامطالعہ میرے لیے کچھ زیادہ خوشی کا باعث نہ ہو سکا۔ اخبارات میں لفظی کشتی کا منظر دکھائی دیا۔ پنجاب کے ریاستی وزیر کی تقریر اسلام آباد کے مرکزی وزیر کے خلاف اور مرکزی وزیر کی تقریر پنجاب کے ریاستی وزیر کے خلاف ۔ جماعت اسلامی کے لیڈر کا بیان مہاجر لیڈر کے خلاف اور مہاجر لیڈر کا بیان جماعت اسلامی کے لیڈر کے خلاف ۔ اسی قسم کی خبریں اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ اس سے یہ تو اندازہ ہوا کہ موجودہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔ مگر اہل پاکستان شعوری اعتبار سے شاید ابھی اس درجہ کو نہیں پہنچے کہ وہ جمہوریت کا تحمل کر سکیں۔
پاکستان ہندو اور مسلم اختلاف سے بچنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ ’’خداداد ملک‘‘ میں مسلم اور مسلم اختلاف اس سے بھی شدید صورت میں موجود ہے۔
٭٭٭٭٭
مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی طرف سے اکثر یہ الفاظ سننے پڑتے ہیں کہ تمہارے یہاں تو ستر سے زیادہ فرقے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس سے بھی زیادہ فرقے ہیں۔امریکا کے ونسنٹ فوٹ(Vincent Foote) ایک بیپٹسٹ (Baptist) تھے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا میں 250 قسم کے بیپٹسٹ ہیں۔ اور مجموعی طورپر عیسائیوں میں تین ہزار فرقے ہیں۔ ابھی حال میں (35 سال پہلے) ایک نیا عیسائی فرقہ بنا ہے۔ اس کا صدر دفترامریکا(واشنگٹن ڈی سی) میں ہے۔ اس کا نام یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Church of Scientology International
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اور دوسرے مذاہب میں اصل فرق فرقے کی کثرت کا نہیں ہے بلکہ جھگڑے کی کثرت کا ہے۔ مسلمان بات بات پر آپس میں لڑتے رہتے ہیں اس لیے کم فرقہ ہونے کے باوجود وہ کثرت فرقہ کے لیے مشہور ہیں۔ جب کہ دوسرے مذاہب کے لوگ زیادہ فرقے ہونے کے باوجود اس طرح آپس میں نہیں لڑتے، اس لیے ان کا باہمی اختلاف دوسروں کو بہت کم دکھائی دیتا ہے۔(سفرنامہ غیرملکی اسفار)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
21 نومبر 1993کو عصر کی نماز گورنمنٹ کالونی(باندرہ، بمبئی) کی مسجد غوثیہ میں پڑھی۔ یہ ہائی وے کے عین کنارے ہے۔ نہایت وسیع اور خوبصورت مسجد ہے۔1974ء میں جب کہ جناب عبدالرحمن انتولے مہاراشٹر کے ہاؤسنگ منسٹر تھے، انہوں نے اس مسجد کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ کافی نمازی جماعت میں موجود تھے۔ میں نے سوچا کہ پنج وقتہ نماز اور ہفتہ وار جمعہ کی نماز کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی نعمت اہل اسلام کو عطا کی ہے۔ اس طرح ہر روز ہر علاقہ کے مسلمان روحانی مرکز کے ماحول میں ملتے ہیں۔ اس سے جو اجتماعی فائدے ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسجدوں کی تعداد ہزار گنا بڑھ گئی ہے۔ مگر مسجد کا عملی فائدہ اتنا ہی کم ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ نااہل لوگ ہر مسجد میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ مسجد کو اعتقادی اختلاف، سیاسی نزاعات، حتیٰ کہ متشدانہ تحریکوں کا اڈہ بنا دیتے ہیں۔ یہ اللہ کی مسجدوں کا غلط استعمال ہے۔ اس غلط استعمال نے مسلم آبادیوں کو مسجد کے حقیقی دینی فائدے سے محروم کر دیا ہے۔
٭٭٭٭٭
امریکہ کے موجودہ سفر (1988)میں میں نے جو نئی باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کی طاقت کا اصل راز ان کی تنظیم ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) نےامریکا میں یہودیوں کی تعداد58 لاکھ بتائی ہے۔ اس قلت تعداد کے باوجود انہوں نے اپنے تمام قابل ووٹ افراد کو ووٹر لسٹ میں درج کرا رکھا ہے۔ ہر الیکشن میں ان کے بیشتر افراد ووٹ دیتے ہیں اور ہمیشہ متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے تمام ادارے شیرازہ کی طرح باہم مربوط ہیں۔ ا پنے قومی مقاصد کے لیے وہ بے دریغ دولت خرچ کرتے ہیں۔ ان میں انفرادی سطح پر اختلافات ہیں، مگر قومی نوعیت کے معاملہ میں وہ ہمیشہ متحد رہتے ہیں۔ وہ اربابِ کار سے مسلسل ربط رکھتے ہیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہر کام منظم انداز میں کرتے ہیں، نہ کہ اس طرح متفرق انداز میں جس کا ہمارے یہاں عام رواج ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
ایک سفر میں فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائرپورٹ پر ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں۔ حتی کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نورمیسواری (Nur Misuari, b. 1939) تھے۔ ہاشم سلامات (Hashim Salamat, 1939-2003) ان کے نائب تھے۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے ملے۔ انہوں نے نورمیسواری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا (إِنْ لَمْ تُغَيِّرْ سِيَاسَتَكَ الآنَ فَالثَّوْرَةُ سَتَفْشَلُ)۔ مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگرچہ اپنے اختلاف اور علاحدگی کے لیے اصولی الفاظ بولتے ہیں، مگر اصلاً یہ قیادت کا جھگڑا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آ رہا ہے۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں۔ کام شروع کرتے ہیں۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقتاً اسلام کے لیے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا (جیسا کہ دو اصحابِ رسول ابوعبیدہ بن جراح اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماکے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے، دیکھیے زیر نظر کتاب کا مضمون آخرت رخی سوچ)۔ مگر جب اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی پیش آتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
3 جنوری (1994)کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے ساتھ امریکا میں ایک صاحب سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم لوگ ایک مقام سے گزرے۔ صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پہلے ہم لوگ یہاں رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس چھ ہزار مربع فٹ کا مکان تھا۔ خوبصورت پارک کے کنارے کا یہ مکان بہت وسیع اور بہت شاندار تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے اس کو چھوڑ کر مسجد کے قریب چھوٹا مکان لے لیا۔ یہ دوسرا مکان دو ہزار مربع فٹ کا ہے۔ علاقہ کے لحاظ سے بھی پہلا مکان نہایت اہم علاقہ میں تھا۔ جب کہ موجودہ مکان دوسرے درجہ کے علاقہ میں ہے۔ جب انہوں نے یہ مکان بدلا تو اکثر لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ اتنا اچھا مکان چھوڑ کر معمولی مکان میں آگئے۔
یہاں ہر آدمی بچوں کے بگڑنے کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر یہ شکایت میرے نزدیک بے معنی ہے۔ اس لیے کہ اس معاملہ کا تعلق بچوں سے زیادہ ان کے بڑوں سے ہے۔ بڑے لوگ اپنے چاہنے کی قیمت ادا نہیں کرتے اسی لیے وہ اپنے بچوں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کے ماحول کو دنیوی شان و شوکت سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے اپنے آپ کو مسجد والے ماحول سے قریب کرنا ہوگا۔
یہی معاملہ پوری ملت کا ہے۔ لوگ جو کچھ چاہتے ہیں اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے وہ تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوب چیز بھی ان کو نہیں ملتی مثلاً ہر آدمی اتحاد کی بات کرتا ہے مگر وہ اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ یہ اتحاد کی واحد قیمت ہے۔ لوگ سچائی کی بات کرتے ہیں، مگر وہ راہِ حق میں لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ صبر کے بغیر خدا کے پیغام کو عام کرنا ممکن ہی نہیں۔ لوگ ملت کی تعلیم و ترقی کی بات کرتے ہیں مگر وہ نزاعات کو اوائڈ کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ تعلیم و ترقی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نزاعات کو ہر حال میں اوائڈ کیا جائے۔
٭٭٭٭٭
لندن کے سفر (1992)میں ماہنامہ صراط مستقیم کے مدیر محترم نے ایک انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایک سے اختلاف ہے اور آپ دوسری جماعتوں سے کٹ کر اپنا ایک نیا دین پیش کر رہے ہں۔ میں نے کہا کہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اساسیات میں اختلاف، اور دوسرا فروع میں اختلاف۔ میرا اساسیات میں کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً تمام لوگ رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتے ہیں تو میں بھی رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتا ہوں۔ میرا جو کچھ اختلاف ہے وہ فروعات میں ہے اور فروعات میں اختلاف صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہا اور علما کے درمیان ہمیشہ رہا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ غیر ضروری حساسیت کا ہے۔ لوگ غیر ضروری طور پر اختلاف کے معاملہ میں حساس ہوگئے ہیں۔ اس بنا پر وہ فروع میں اختلاف کو وہ درجہ دینے لگے ہیں جو اساسیات میں اختلاف کا درجہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی یہی غیرضروری حساسیت ہے جس نے مسئلہ پیدا کیا ہے، نہ کہ نفس اختلاف نے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے کہا کہ آپ کی تحریروں میں اختلاف رائے اور تنقید بہت ہوتی ہے۔ یہاں کے کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ آپ کو تنقید کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے۔ آپ کسی بھی مہینہ کے الرسالہ کو اٹھاکر دیکھیے اور ہر مضمون کو پڑھ کر پتہ کیجیے کہ اس میں اختلاف رائے والا پہلو کتنا ہے۔ آپ پائیں گے کہ کسی پرچہ میں سرے سے ایسا کوئی مضمون نہ ہوگا اور کسی میں ہوگا بھی تو صرف ایک یا دو فیصد۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے کہا کہ اصل مسئلہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لوگوں کی غیر ضروری حساسیت ہے۔ صحابہ کے زمانہ سے لے کر ہر اگلے دور تک علما کے درمیان اختلاف ہوتا تھا مگر کبھی کسی نے اختلاف کو برا نہیں بتایا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابو یوسف دونوں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ دونوں نے امام ابو حنیفہ کی رایوں سے 182 معاملہ میں اختلاف کیا ہے۔ مگر اس کو کبھی کسی نے برا نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف رائے یا علمی و فکری تبصرہ قوموں کی زندگی ہے۔ اس کو اسلام میں اتنا زیادہ جگہ دی گئی ہے کہ آدم کی پیدائش کی کہانی کا ایک جزء جو بائبل میں حذف ہوگیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا۔ یہ خود اللہ تعالیٰ سے فرشتوں کا یہ کہنا تھا أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها وَيَسْفِكُ الدِّماءَ (2:30)۔ یعنی،زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس اختلاف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو کوئی سزا نہیں دی۔
٭٭٭٭٭
بمبئی کے سفر (نومبر 1993)میں عشا کی نماز کے بعد جناب جمشید علی سید کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ افراد اور الرسالہ کے قاری اس میں شریک ہوئے۔ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ الرسالہ مشن اور موجودہ حالات میں اسلام کا طریق کار کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں گفتگو دیر تک جاری رہی۔ عام طور پر لوگوں نے الرسالہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔
اجتماع میں موجودجناب خلیل زاہدی صاحب نے میری ایک بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر مسلمان ہندوؤں سے ذاتی تعلق میں اعراض اور ہم آہنگی کے اصول ہی پر عمل کرتا ہے مگر جب ملت کے پلیٹ فارم سے بولنا ہو تو وہ ٹکراؤ کی زبان بولنے لگتا ہے۔ اس دو عملی کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حاجی مستان مرزا(67 سال) بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے بہت تجرباتی زندگی گزاری ہے۔ یہ بتایئے کہ مخالف کو جیتنے کا طریقہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا محبت، پیار۔ اگر آپ اپنے مخالف سے محبت کا سلوک کریں گے تو وہ بھی آپ ہی کی بولی بولنے لگے گا۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بقیہ علما سے میرا کوئی اختلاف نہیں۔ ان کے دل میں جو کچھ ہے اگر وہ وہی کرنے لگیں تو ان سے میرا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جائے۔ حاجی مستان صاحب نے اس کو سن کر کہا’’پھر علمائے دین کے دل میں جو ہے وہ اس کو اپنی زبان سے کہہ دیں۔ تمام علمائے دین ایک اسٹیج پر آ کر اپنے دل کی بات تمام اہل اسلام کو بتا دیں۔‘‘
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جمشید سید صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ بزنس کرتے ہیں۔ بتایئے کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا کنٹروورسی (controversy)سے بچنا اور اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو میز پر بیٹھ کر اس کو طے کرلینا۔ میں نے کہا کہ یہ اصول جو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کیے ہوئے ہے، اسی کو ہم کہتے ہیں کہ ملی معاملات میں بھی اختیار کر لو تو لوگ فوراً کہنے لگتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ آخر لوگوں کی زندگی میں یہ دو عملی کیوں ہے۔ کیا دوعملی کا نام اسلام ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
لندن میں ایک علمی ادارہ ہے جس کا نام ہے مسلم انسٹی ٹیوٹ۔ اس ادارہ کے تحت لندن میں حج کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار(4 تا 7 اگست 1982ء) ہوا۔ اس سیمینار میں شرکت کے لیے مجھے بھی دعوت دی گئی تھی۔ مرکزی لندن کے ایک ہوٹل میں ہمارے لیے قیام کا انتظام تھا، اس میں ایک بڑا کمرہ نماز کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ یہاں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی تھی، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کے مسلک بھی الگ الگ تھے۔ کوئی ایک ہاتھ کان پر رکھ کر اذان دیتا تھا اور کوئی دونوں ہاتھ۔ کوئی ہاتھ لٹکا کر نماز پڑھتا تھا کوئی ہاتھ باندھ کر۔ کوئی نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتا تھا اور کوئی بغیر دعا کے نماز ختم کر دیتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان اختلافی مسائل پر یہاں نہ کوئی بحث ہوئی تھی اور نہ اختلاف ۔ ہر ایک دوسرے کے مسلک پر اعتراض کیے بغیر اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھتا اور پھر باہم اس طرح ملتا جیسے ان کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ’’مغربی علما‘‘ ان مشرقی علما سے بہتر ہیں، جو انہیں امور پر باہم لڑتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ دینی مسجدیں اور مدرسے الگ الگ بنا لیتے ہیں۔ یہ دراصل میدان اختلاف میں فرق کا سوال ہے، نہ کہ خود اختلاف کا۔ مشرقی علما جب کسی مختلف مسلک والے آدمی پرتنقید کرتے ہیں تو وہ کفر و فسق کی اصطلاحوں میں کلام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، مغربی تعلیم یافتہ لوگ اس معاملہ میں اپنے مغربی اساتذہ کی نقل کرتے ہیں، وہ اپنی اختلافی شدت کو سیکولر الفاظ اور اصطلاحات تک محدود رکھتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
نئی دہلی میں سینیگال کی ایمبیسی موجود ہے۔ جو صاحب اس سفر(مئی 1990ء)کے لیے سینیگال ایمبیسی میں میرا ویزا لینے کے لیے گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ویزا افسر نے پاسپورٹ میں میری تصویر دیکھی تو کہاکہ میں ان کو جانتا ہوں۔ ہم کو خوشی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں جا رہے ہیں۔
ویزا افسر کے اس طرح ’’پہچاننے‘‘ کا سبب یہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا (10 دسمبر 1989 ء) میں میرا انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انٹرویور نے میری تصویر بھی چھاپ دی تھی۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا تھا اور اس میں ان کی تصویر دیکھی تھی۔ یہ تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ موجودہ زمانہ کے نئے امکانات میں سے ایک امکان یہ ہے کہ ایک شخص کسی آدمی کو براہ راست نہ دیکھے، اس کے باوجود وہ اس کو اس کی صورت سے پہچانتا ہو۔
اس زمانہ میں تصویری صحافت نے انسان کے اوپر جو نئے مواقع کھولے ہیں، ان کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ہندوستان کے علما تصویر کو ناجائز بتاتے ہیں، مگر یہی علما عرب شخصیتوں کا اپنے اداروں میں استقبال کر رہے ہیں، جب کہ یہ عرب لوگ تصویر کو عین جائز سمجھتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہندوستان کے دو عالموں کے درمیان اگر اختلاف ہو تو دونوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ مگر یہی اختلاف ہندستانی عالم اور عرب عالم کے درمیان ہو تو ہندستانی عالم اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ گوارا کر لیتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے، یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ مگر اس سے پردہ اٹھانا شاید خدا کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں۔
٭٭٭٭٭
پونے کے سفر ( 1991) میں ایک شام کو جناب عبدالصمد صاحب کی رہائش گاہ کے سامنے کھلی زمین پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے پڑھے لکھے لوگ جمع ہوئے۔ اس اجتماع میں ایک گھنٹہ کی تقریر میں میں نے بتایا کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے۔ اور اتحاد پیدا ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا مزاج پیدا ہو جائے۔
اسی سفر کے دوران ایک مجلس میں حدیث رسول، صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 1768) — یعنی نیک اور فاجر ہر ایک کے پیچھے نماز پڑھو— کی تشریح کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برے لوگوں کو لا کر امام کی جگہ کھڑا کر دو۔ اس حدیث کا خطاب حقیقتاً امام کی طرف نہیں ہے۔ بلکہ مقتدیوں کی طرف ہے۔ یعنی مسجد میں کسی کو امام بنا دیا گیا۔ اب ایک شخص کے اندر خیال پیدا ہوا کہ امام کے اندر تو فلاں خرابی ہے۔ تو جس شخص یا جن لوگوں کے دل میں اس طرح کا خیال آئے انھیں اپنے اس خیال کے پیچھے نہیں دوڑنا چاہیے بلکہ اس کو نظرانداز کر کے امام کے پیچھے نماز پڑھتے رہنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
اخوانی فکر کے حامل ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ امراء المسلمین سے سیاسی نزاع کرنا اسلام میں جائز نہیں ۔ حالاں کہ امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر محدث نے عباسی حکومت سے نزاع کی۔ میں نے کہا کہ آپ کا حوالہ درست نہیں۔ امام احمد نے کبھی بھی عباسی حکومت سے سیاسی نزاع نہیں کی۔ یعنی انہوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ وہ عباسی خلافت کو توڑ کر نیا سیاسی نظام بنائیں۔ ان کا اختلاف صرف ایک مخصوص اعتقادی مسئلہ میں تھا۔ اس کے آگے ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
کراچی(چاندنی چوک، ناظم آباد) کی محمدی مسجد کے خطیب جناب سید عبدالرؤف صاحب کو ایک تلخ تجربہ ہوا۔ انہوں نے ایک بار جامعہ کراچی میں قرآن کی تلاوت کی۔ تلاوت کے خاتمہ پر، عام قاریوں کے معمول کے خلاف، انہوں نے صدق اللہ العظیم نہیں کہا۔ اس پر ایک طالب علم نے انہیں ٹوکا اور کہا جناب، آپ ایک آیت چھوڑ گئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جناب عبدالرؤف صاحب پر اس کا سخت ردعمل ہوا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ چونکہ علما اور قرّاءنے اختتام تلاوت پرصدق اللہ العظیم کہنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ لہٰذا اس تواتر عمل نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی قرآن کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید ہوا کہ وہ تلاوت قرآن کے آخر میں اس کلمہ کے کہنے کو بدعت و گمراہی سمجھنے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سخت مضمون لکھا جو لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن(نومبر، دسمبر1989) میں دو قسطوں میں چھپا۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد جوابی ردوکد ہوئی۔ یہاں تک کہ حکمت قرآن(مارچ1990) میں مدیر محترم نے لکھا کہ یہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر دور اول میں اس کا معمول نہ ہو تب بھی تلاوت قرآن کے آخر میں صدق اللہ العظیم کہنا بدعت اور گمراہی نہیں۔ یہ گویا اختتام تلاوت کی علامت ہے اور اس اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
میں نے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران کہا کہ مذکورہ طالب علم کی بات محض ایک انفرادی بات تھی، اس کو اتنی زیادہ اہمیت دینا اور اس کو عمومی گمراہی سمجھ کر اس پر بحث جاری کر دینا صحیح نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر یہی ذہن چھایا ہوا ہے۔ اور اختلاف کا اصل سبب یہی مزاج ہے۔
٭٭٭٭٭
1984کے مدینہ کے سفر میں بعض اشخاص نے عالم اسلام کے دینی مدارس کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں اور دوسرے ملکوں میں جو اسلامی ادارے قائم ہیں وہ اپنے اعلان کردہ مقصد کے برعکس نتائج پیدا کررہے ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کا نظام جدلی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کے یہاں سارا زور اساسیات کے بجائے جزئیات پر ہے۔ ان میں سے کسی کا زور اعتقادی اختلافات پر ہے، کسی کا فقہی اختلافات پر اور کسی کا سیاسی اختلافات پر۔ اب چوں کہ جزئیات میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں کے ماحول میں جس کی تربیت ہوتی ہے وہ اختلافات کا ماہر ہو کر نکلتا ہے۔
٭٭٭٭٭
28ستمبر کو ظہر کی نماز قاہرہ کی مسجد ابی بکر الصدیق(شارع عبدالعزیز فہمی) میں پڑھی۔اس پر تعمیر کا سن1957لکھا ہوا تھا۔ مسجد کشادہ تھی۔ مسجد سے متصل ایک کمرہ تھا جس میں امام کا دفتر تھا۔ اس میں میز کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ نمازیوں کی اکثریت کے سر پر ٹوپی نہ تھی۔ امام نے نماز ختم کی تو اجتماعی دعا کے بغیر اٹھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے۔ اس قسم کی چیزیں ہندوستان میں اجنبی سمجھی جائیں گی۔ مگر عرب دنیا میں اس قسم کی چیزیں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی جھگڑے صر ف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس قسم کے جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔
اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ عرب حضرات سے میں نے کہا کہ عبادت میں کچھ ارکان ہیں اور کچھ آداب۔ ارکان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر آداب کے بارے میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جب احادیث جمع کی گئیں اور یہ اختلافات سامنے آئے تو محدثین نے ان کو توسع پر محمول کیا اور کہا کہ اِس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے، اور اُس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر فقہا نے کہاکہ الحق لا يتعدد(حق کئی نہیں ہو سکتا)۔ اس وقت عالم اسلام، بڑی تقسیم میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں محدثین کا نقطہ نظر مقبول ہوا۔ اس بنا پر وہاں توسع کا مزاج پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس،برصغیر ہند میں فقہا کا نقطہ نظر پھیلا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں محدثین کا نقطہ نظر ہی درست ہے۔ اور اگر عرب دنیا کی طرح برصغیر میں بھی محدثین کا نقطہ نظر آجائے تو تمام غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
29 ستمبر کو عصر کی نماز قاہرہ کی مسجد الامین (شارع اسماعیل صبری باشا) میں پڑھی۔ یہ ایک چھوٹی مگر صاف ستھری مسجد تھی۔ اس کے ایک گوشہ کو منبر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر دو الماری میں کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ اور علم العقائد وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔
وقت ہوا تو امام مصلے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اقامت کہی، اس کے بعد خود ہی نماز پڑھائی۔ نمازیوں کی تعداد ایک صف سے زیادہ نہ تھی۔ نماز پوری کرنے کے بعد امام نے اپنے دائیں طرف چہرہ کرکے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے بغیر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔
برصغیر ہند میں فقہی اختلاف نے ملت کو مختلف طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ عالم عرب میں یہ چیزیں موجود نہیں۔ البتہ ایک اور چیز مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اور وہ سیاسی اختلاف ہے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر عبد الحلیم عویس مصری سے بات چیت ہوئی انھوں نےکچھ مسلم لیڈروں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے غلط عمل کے ذریعہ ملت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مگر مسلمانوں کے درمیان اب بھی ان کو بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے مفسدین کو عظمت کا درجہ دیتے ہیں(امۃ’‘ تُعَظِّمُ مفسدِیھا)۔
other sourceWords of another person or source
٭٭٭٭٭
امریکا کے سفر (1993) میں ایک فلسطینی نوجوان سے اسلامک سوسائٹی(آرنج کاؤنٹی) میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے بعد انہوں نے فرائڈے رپورٹ(The Friday Report) کے تین شمارے برائے مطالعہ دیے۔ یہ دارمکہ ڈینور(Denver) کی طرف سے ہر ماہ’’اسلامک نیوزلیٹر‘‘ کے طور پر شائع ہوتا ہے۔اس نیوز لیٹر کے شمارہ اکتوبر۔ نومبر1993(جمادی الاول4141ھ) میں فتویٰ کا ایک صفحہ تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ یہ فتاویٰ اہل السنۃ و الجماعۃ کے علما کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک غیر اسلامی ملک میں ایک مسجد بیچ کر دوسری زیادہ بڑی جگہ خریدی جائے۔ اس کے جواب میں بتایاگیا تھا کہ بیچنا اور جگہ کا بدلنا دونوں جائز ہے۔
Q. Is it permissible to sell a mosque in a non-Islamic country in order to buy a bigger one?
A. If the mosque is ruined or not big enogh and they have to demolish or sell it, it is permissible to sell it and to buy or build another one or transfer it to another place for the interest of the Muslims. (p.3)
اس کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہاکہ اس قسم کا فتویٰ اگر انڈیا کا کوئی عالم دے تو شاید فوراً ہی دوسرا جوابی فتویٰ شائع ہوگا جس میں اعلان کیا جائے گا کہ جس شخص نے ایسا فتویٰ دیا ہے وہ مباح الدم ہے، اس کو ذلت کے ساتھ قتل کر دینا چاہیے۔ مگرامریکا میں یہ فتویٰ چھپ رہا ہے اور انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں وہ تقسیم کیا جا رہا ہے مگر کوئی اس کے خلاف احتجاج کرنے والا نہیں۔ ہندوستان اورامریکا کا یہی فرق ہے جس نے ایک ملک کو مسلمانوں کے لیے فساد کا ملک بنا دیا ہے اور دوسرے کو امن کا ملک۔
٭٭٭٭٭
4 مارچ 1984کو مدینہ کے سفر میں ایک صاحب عبدالقادرالنماری(الجزائر) نے انٹرویو لیا۔ وہ اخبار المدینہ کے نمائندہ تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات لکھ رکھے تھے۔ میں نے کچھ سوالات کے جوابات دیے اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کے جوابات سے معذرت کی۔ میں نے دیکھا کہ میرے جوابات کے بعد دوبارہ وہ نئی شق نکال کر سوال نہیں کرتے تھے اور میری معذرت فوراً قبول کر لیتے تھے۔
عبدالقادر جزائری تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور کسی جماعت کے ساتھ دہلی (نظام الدین) بھی جا چکے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحثوں میں نہیں الجھتے۔ اور نہ اختلافی امور میں زیادہ شدت ظاہر کرتے۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں ان سے گفتگو کے دوران اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہے۔ کوئی بھی جواب انہیں چپ نہیں کرتا۔ ہر جواب کے بعد وہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال کر نئی بحث شروع کر دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
3اکتوبر 1990ء کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 720 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ 4 اکتوبر کو صبح ساڑھے چار بجے کراچی پہنچا۔ یہاں ٹرانزٹ پسنجر کے طور پر دو دن قیام رہا۔
4 اکتوبر کو ظہر کی نماز گلشن اقبال (بلاک نمبر 7) کی جامع مسجد میں پڑھی۔ پوری مسجد ایک بڑے ہال کی صورت میں ہے۔ اس کے اندر اور باہر بالکل فطرت کا ماحول ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ایسامحسوس ہوا کہ میں ایک روحانی مرکز میں ایک روحانی عمل اداکررہا ہوں۔ جب میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا، مجھے خیال آیا کہ اگر مسلمان ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیں جن کو وہ اسلام کے نام پر غیرضروری طور پر جاری کیے ہوئے ہیں اور اسلام کی نمائندگی کے لیے صرف اس قسم کی مسجدیں دنیا میں باقی رہیں تو دنیا کی آدھی آبادی صرف ان مسجدوں کو دیکھ کر اسلام قبول کر لے۔ دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کے مقابلہ میں مسجد کا ماحول نہایت فطری اورسادہ ہوتا ہے۔ مگر مسلمانوںکی بے فائدہ سیاسی اور مادی اور قومی ہنگامہ آرائیوں نے اسلام کے اس فطری حسن پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اگر مسلمان صرف اتنی قربانی کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تو اسلام اپنے آپ دنیا کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ جوق در جوق دین فطرت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے۔
ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس سال ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ہندو لڑکے تعلیم کے میدان میں مسلمان لڑکوں سے آگے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہاں ، یہ بات صحیح ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے ایک استاد نے ایک مرتبہ یہی بات ہم لوگوں سے کہی۔ انہوں نے اس کا راز یہ بتایا کہ ہندو لڑکوں میں مل کر پڑھنے (combined study)کا رواج ہے۔ مل کر پڑھنے سے ہر ایک کو دوسرے کی معلومات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، ایک طالب علم ذاتی طور پر پڑھے تو اس کو ایک درجہ فائدہ ملے گا۔ مگر جب کئی طالب علم مل کرمطالعہ کریں تو ہر ایک کو کئی گنا زیادہ فائدہ ملنے لگتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کراچی کے روزنامہ جنگ (3 اکتوبر) میں ’’جنگ الیکشن سیل‘‘ کی طرف سے ایک تجزیہ چھپا تھا اس میں 1988ء میں ہونے والے الیکشن کی ان 34 نشستوں کا ذکر تھا جو اسلامی جمہوری اتحاد اور دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مل گئیں۔ ان جماعتوں میں ووٹ بٹ جانے کے باعث پیپلز پارٹی جیت گئی۔
مضمون میں بتایا گیا تھاکہ یہ پوری سچائی نہیں۔ مضمون نگارنے نام بنام تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہی واقعہ خود پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ اس کے اپنے دائرہ میں بھی کئی جگہ امیدواروں کی کثرت کی بنا پر اس کے ووٹ بٹ گئے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے مقابلہ میں ہار گئی۔ مضمون نگار نے لکھا تھاکہ اس نے باقاعدہ تفصیلات جمع کیں تو حیرت انگیز طور پر ان نشستوں کی تعداد بھی 34 ہی تھی جو پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر کھو دیں۔ یعنی اپنے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی 34 نشستیں کھوئیں اور اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر 34 نشستیں کھو دیں۔
اختلافی معاملات میں لوگ اکثر ایساکرتے ہیں کہ وہ اپنے موافق آدھی بات کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے مخالف آدھی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ طریقہ نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کریں وہ ہمیشہ حقیقت کی دریافت میں ناکام رہتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
اندور، مدھیہ پردیش کے سفر (مئی 1993ء)میں اندور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے رکنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے کمرہ میں ’’مدھیہ پردیش شاسن‘‘ کا ہندی کا کیلنڈر لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ہر صفحہ پر دو تاریخیں درج تھیں۔ کھلے ہوئے صفحہ پر ایک طرف ’’مئی 1993ء ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف ’’ویشاکھ۔ جیٹھ 1915‘‘ درج تھا۔ یہ کیلنڈر اگر کسی مسلم ادارہ نے چھاپا ہوتا تو اس پر’’ مئی 1993ء ‘‘کے ساتھ ’’ذی الحجہ 1413 ھ‘‘ چھپا ہوا ہوتا۔
میں نے سوچا کہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو بڑھا کر دو قومی نظریہ کا پرچار کیا گیا۔ اور ملک کا بٹوارہ کرایا گیا۔ اور اب دوبارہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو لے کر ہمارے لیڈر باہمی نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہ فرق یا اختلاف کسی انسان کے گھڑے ہوئے نہیں۔ وہ فطرت کے نقشۂ تخلیق پر مبنی ہیں جن کو نہ انسان نے بنایا اور نہ وہ ان کو بنانے پر قادر ہے۔ مثلاً فطرت کا نظام یہ ہے کہ سورج الگ طریقہ سے گردش کرتا ہے اور چاند الگ طریقہ سے ۔ اگر خود فطرت میں یہ فرق نہ ہوتا تو ایک سے زیادہ کیلنڈر بھی نہیں بن سکتے تھے۔ اس اختلاف کو تنوع سمجھ کر قبول کرنا چاہیے، نہ کہ اس کو دو انسانی گروہوں میں ٹکراؤکا اشو بنایا جائے۔
٭٭٭٭٭
ایک انٹرفیتھ پروگرام میں میں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ روزانہ کی زندگی میں گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہم طرح طرح کے اختلافات سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہاں ہم کیا کرتے ہیں۔ وہاں ہم برداشت کے اصول پر عمل کر کے زندگی گزارتے ہیں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی اختیار کرنا ہے۔ یعنی مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود ٹالرنس (tolerance) ۔
٭٭٭٭٭
ایک مجلس میں بات چیت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا میں جو ہندو مسلم معاملہ ہے اس کا بہت کم تعلق نام نہاد انتظامیہ سے ہے۔ اس کا زیادہ تر تعلق مسلم عوام اور ہندو عوام سے ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات پیدا کریں اور لوگوں کو یہ نصیحت کریں کہ وہ اختلافی معاملات میں صبر و ضبط اور حکمت و تدبیر سے کام لیں، نہ کہ جوش اور مشتعل مزاجی سے۔ اس کے سوا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے وہ تباہ کن ثابت ہو گا۔
٭٭٭٭٭
ایک مرتبہ سیوا گرام کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ وہاں پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے میں نے یہ کہا کہ دیش کی ترقی کے لیے بلاشبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پرامن طور پر طے کر لینا
Peaceful resolution of conflicts.
اس مقصد کے لیے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہو گا۔
٭٭٭٭٭
مالٹا کے سفر (1991)میں ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ڈائیلاگ کی کامیابی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ کوشش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف کو نظر انداز کیجیے۔ اور اتحاد کے گوشوں کی تلاش جاری رکھیے
I will give the answer in a single sentence: avoid the differences and continue the dialogue to seek the points of agreement.
٭٭٭٭٭
کینیڈا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کچھ لٹریچر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینیڈا میں سرکاری سطح پر ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس کو وہ لوگ ملٹی کلچرلزم (Multiculturalism) کہتے ہیں۔ یہ اسی قومی ایکتا کے لیے ہے جس کو ہندوستان میں نیشنل انٹگریشن (National integration) کہا جاتا ہے۔ مگر مجھے کینیڈا کی اصطلاح، ہندوستان کی اصطلاح سے زیادہ پسند آئی۔ ہندوستان کی اصطلاح میں بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان یک جہتی کوکلچرل یکسانیت کے ذریعہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ جب کہ کینیڈا کی اصطلاح واضح طور پر کلچرل تعدد کو تسلیم کرتے ہوئے سماج کے اندر ہم آہنگی لانا چاہتی ہے۔
جس طرح ہندوستان میں مختلف تہذیبی گروہ ہیں، اسی طرح کینیڈا (اور دوسرے ملکوں) میں بھی مختلف تہذیبی گروہ ہیں۔ اس ’’اختلاف‘‘ کو ’’اتحاد‘‘ میں تبدیل کرنے کا راز یہ نہیں ہے کہ خود اختلاف کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔اس کا راز صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اختلاف کو بطور واقعہ تسلیم کیا جائے اور اسی کے ساتھ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ باہمی طور پر رواداری اور احترام کے ساتھ رہ سکیں۔
٭٭٭٭٭
ایک بڑے سائنسی ادارہ ایم آئی ٹی کے زیر انتظام پونے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو 24 نومبر سے یکم دسمبر1996ء تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کا نام ورلڈ فلاسفرس میٹ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھرم ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پرامن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف(mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام(mutual respect) میں ہے۔
٭٭٭٭٭
بمبئی (ممبئی)کے سفر میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ’’ہندو تعصب‘‘ کا ذکر کیا۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ دیکھیے، بمبئی میں جمعہ کی نماز میں کچھ مسجدوں میں نمازی زیادہ ہو جاتے ہیں تو وہ سڑک پر صف بنا لیتے ہیں۔ اس کو ہندو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ ہم کو وارننگ دے رہے ہیں کہ سڑک پر نماز پڑھنا بند کر دو، ورنہ — میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اختلاف اور دشمنی کے وقت بھی انصاف سے کام لو۔ اس لیے اس معاملہ میں آپ لوگوں کو انصاف والی بات کہنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اسی ملک میں پچاس سال سے یہ ہو رہا ہے کہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے مسلمان جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو ہندو مسافر کھڑے ہو کر جگہ خالی کر دیتے ہیں تاکہ مسلمان سہولت کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اگر آپ کو اس میں شبہ ہو تو تبلیغی جماعت کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لیجیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب سوچئے کہ وہی ہندو جو روزانہ ٹرین میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے وہی سڑک پر نماز پڑھنے کو کیوں ناپسند کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرین میں آپ کو نماز کی جگہ دینے سے اس کا سفر بھنگ نہیں ہوتا۔ جب کہ سڑک پر آپ کی نماز سے اس کا سفر بھنگ ہوتا ہے۔ سڑک سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سڑک کے اِدھر اور اُدھر اس وقت تک رکے رہنا پڑتا ہے جب تک آپ نماز ختم کرکے سڑک کو خالی نہ کر دیں۔ اس لیے آپ یوں کہیے کہ جو نماز ہندو کی زندگی میں خلل نہ ڈالے اس کا وہ سواگت کرتا ہے، البتہ وہ اس نماز کا مخالف ہے جس سے اس کی زندگی میں خلل واقع ہوتا ہو۔
٭٭٭٭٭
دسمبر 1992 میں شانتی یاترا کے تحت میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شری رام پور (مہارشٹرا) میں پہنچا۔ لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران شری رام پور کا ایک سبق آموز قصہ معلوم ہوا۔ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے۔ 6 دسمبر کے بعد کسی شریر آدمی نے رات کے وقت قبر کو توڑ ڈالا۔ اس قسم کا ایک واقعہ عام طور پر دو فرقوں میں کشیدگی اور پھر خونین فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر شری رام پور میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ قصہ پیش آیا تو فوراً ہی بستی کے ہندو اور مسلمان وہاں پہنچے اور دونوں نے مل کر قبر کو پھر سے بنایا۔ اور پھر اس کے اوپر حسب قاعدہ چادر چڑھائی ۔ اس طرح انھوں نے فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔ یہ واقعہ 17 دسمبر کو مجھے معلوم ہوا جب کہ میں شانتی یاترا کے تحت شری رام پور میں پہنچا تھا۔
اسی یاترا کے تحت 17 دسمبر کی شام کو ہم نِواسا پہنچے ۔ یہاں پدیاترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا جس میں ہمارے ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کبھی کبھی اختلاف کا پیدا ہونا عین فطری ہے۔ ایسا ہمیشہ ہو گا۔ خواہ وہ ایک سماج ہو یا کوئی دوسرا سماج۔ پھر اس کا حل کیا ہے۔
میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے میں آپ کو دو آسان نسخہ بتاتا ہوں۔ ایک یہ کہ— دوری کو دور کیجیے۔ یعنی ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے لوگ آپس میں خوب ملیں۔ وہ باہمی دوری کو ختم کریں۔ اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔
دوسرے یہ کہ جب جھگڑے یا اختلاف کی صورت پیدا ہو تو ایسے موقع پر آپ کا اصول ہونا چاہیے — ٹکراؤ نہیں، تدبیر۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ بم پر بم نہ ماریں بلکہ بم کو ڈیفیوز کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ جھگڑے کو اس کے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیں گے۔ میری تقریر کے بعد کچھ ہندو نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس طرح سوچا نہیں تھا۔ مگر آج سمجھ میں آیا کہ یہی اصل بات ہے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
٭٭٭٭٭
14 دسمبر 1992ء کو ڈیفنس کالونی (نئی دہلی) میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعدایک ٹی وی پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف مذہبوں کے لوگ جمع ہوئے۔ پروگرام کے اینکر نے ہر ایک سے ایک ہی سوال کیا ’’موجودہ حالات میں آپ دیش کے لوگوں کو کیا سندیش دینا چاہیں گے۔‘‘ ہر مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ امن قائم ہو اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے۔ میں نے بھی یہی بات اپنے انداز سے کہی۔
میں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگ مل کر رہیں، تو خواہ وہ ایک گھر میں ہوں یا ایک ملک میں، بہرحال ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لیے عملی طور پر امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ اختلافی بات پیش آنے کے باوجود امن و محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
٭٭٭٭٭
ایک صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندستانیوں میں یہ کمزوری ہے کہ ہم اکیلے اکیلے کام کر سکتے ہیں، مگر ہم سنگٹھن کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگٹھن یا اتحاد کے ساتھ کام کرنے کے لیے اختلاف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں یہ مزاج نہیں۔ ہندستانی انسان اپنی رائے دینا جانتا ہے مگر وہ اپنی رائے واپس لینا نہیں جانتا۔ جب کہ اتحاد کی یہ لازمی شرط ہے۔ اتحاد کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو زبان رکھتے ہوئے نہ بولیں۔ جو رائے رکھتے ہوئے اس کو ظاہر نہ کریں۔ جو اختلاف رکھتے ہوئے اس کو استعمال نہ کریں۔
٭٭٭٭٭
12 جون 1969 کو جمعیۃ علما گڑگاؤں کی مجلسِ عاملہ کا اجتماع تھا۔ ارکان عاملہ کے علاوہ ضلع کے مختلف مقامامت سے دیگر علما کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ مدرسہ فیض الاسلام کی وسیع اور پُرفضا مسجد میں نماز عشاء کے بعد نشست ہوئی۔اس اجتماع میںمَیں نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ملت کو سربلند کرنے کے لیے سب سے پہلے خود ملّت کو بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں عالَم یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی معاملہ میں ذرا سا بھی کسی سے اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کا جانی دشمن بن جاتا ہے۔ جب تک ہمارے افراد میں کیریکٹر نہ ہو اور انہیں مل کر رہنا نہ آتا ہو کوئی اجتماعی کام سرے سے انجام نہیں دیا جاسکتا۔ پھر جب یہ ابتدائی چیز ہی ہمارے درمیان موجود نہیں ہے تو ہم کوئی اگلا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔