Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

اختلاف کے ساتھ اعتراف

Urdu · 2 min read

مولانا حسین احمد مدنی (1879-1957) سیاسی مسلک کے اعتبار سے انڈین نیشنل کانگریس کے حامی تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (1863-1943) کا مسلک اس معاملہ میں مختلف تھا۔ وہ کانگریس کی حمایت کو مسلمانوں کے لیے درست نہیں سمجھتے تھے۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں بزرگوں میں نہایت اچھے تعلقات تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی قدر کرتے تھے۔

ایک شخص کا ذہنی سانچہ اگر یہ ہو کہ موقف صرف دو ہوا کرتے ہیں۔ یا کامل موافقت یا کامل مخالفت ، تو وہ دونوں بزرگوں کے اس طریقہ کو’’ زمانہ شناسی‘‘ پر محمول کرے گا۔ وہ کہے گا کہ دونوں صاحبان اگر چہ ایک دوسرے کے مخالف تھے، مگر ذاتی مفاد کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھے الفاظ بولتے رہے۔

مگر جو شخص اسلام کی روح اور مومنانہ مزاج کو جانتا ہو وہ اس کو وسعتِ نظری قرار دےگا۔ وہ کہے گا کہ دونوں صاحبان مخلص تھے۔ دونوں کا دین ایک تھا۔ البتہ بعض مسائل میں دونوں کی رائے ایک دوسرے سے الگ ہوگئی تھی۔ اور اس قسم کا اختلاف انسانوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ہر دور کے مومنین صالحین میں اس قسم کا اختلاف پایا جاتا تھا اور ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔ یہ اختلاف بذات خود کوئی غیر محمود چیز نہیں۔ وہ غیر محمود صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ اختلاف صرف اختلاف نہ رہے ، وہ نفرت اور عناد تک جا پہنچے۔

اصحاب ِرسول کے درمیان بہت سے امور میں اختلاف تھا۔ اسی طرح فقہا اور علما میں اور مفسرینِ قرآن اور شارحینِ حدیث میں ہزاروں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اختلافات کا برملااظہار کیا۔ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک دوسرے کا اعتراف کیا۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرےکی قدر دانی کرتے رہے۔ اس دو طرفہ عمل کا سبب زمانہ شناسی نہیں تھا بلکہ دین شناسی تھا۔ ان کا یہ مسلک مفادِ دنیا کی بنا پر نہ تھا بلکہ خوف ِآخرت کی بنا پر تھا۔

اختلاف کے ساتھ اعتراف ایک آدمی کے مومنِ خاشع ہونے کی علامت ہے۔ لیکن بے خبر لوگوں کے لیے وہ مفاد پرستی اور زمانہ شناسی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.