میری پسندیدہ تفسیروںمیں سے ایک خاص تفسیر الجامع لاحکام القرآن ہے۔ یہ تفسیر اسپین (قرطبہ) میں لکھی گئی۔ اس کے مولف ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری (وفات 671ھ)ہیں۔ وہ قرطبہ کے ایک بڑے عالم تھے۔ اسی لیے وہ القرطبی کے نام سے مشہور ہیں۔
القرطبی کا فقہی مسلک مالکی تھا۔ مگر اپنی بے تعصبی کی بنا پر انہوں نے کئی جگہ امام مالک کے مسلک سے اختلاف کیا ہے۔ مثال کے طور پر امام مالک نماز میں بچہ کی امامت کو ناجائز بتاتے ہیں۔ مگر القرطبی اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچہ کا نماز میں امام بننا جائز ہے جب کہ وہ قرآن کی قرأت کرنا جانتا ہو إِمَامَةُ الصَّغِيرِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ قَارِئًا (تفسیر القرطبی، جلد 1، صفحہ353)۔
اسی طرح امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے والا ایک شخص اگر بھول کر کھا لے تو اس کو قضا کا روزہ رکھنا ہو گا۔ مگر القرطبی اس رائے کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام مالک کے سوا دوسرے فقہا کے نزدیک بھول کر کھانے والے کے اوپر روزہ کی قضا نہیں ہے اور میں کہتا ہوں کہ یہی مسلک صحیح ہے— قُلْتُ وَهُوَ الصَّحِيحُ ( تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ322)۔
موجودہ زمانہ میں علمی ذوق اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آدمی یا تو کلی موافق ہو سکتا ہے یا کلی مخالف۔ اگر کوئی شخص، مثال کے طورپر، ایک جماعت کو مفید جماعت بتائے مگر اس کے بعض طریقوں سے وہ اختلاف کرے تو کہا جائے گا کہ یہ شخص مصلحت پرست ہے۔ اصل میں تو وہ اس جماعت کا مخالف ہے، مگر مفاد کی بنا پر وہ اس کی تعریف کر رہا ہے۔ (سفرنامہ اسپین )
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔