Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

کامیابی کا راز

Urdu · 2 min read

ایک امام صاحب کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ خطبے سے پہلے وہ اردو میں تقریر کرتے تھے۔ اِس تقریر میں وہ اکثر یہ کرتے کہ اختلافی مسائل میں شدید رویّہ اختیار کرتے۔ وہ اپنی سمجھ کے مطابق، جس مسلک کو درست سمجھتے تھے، اس کے مخالف مسلک پر وہ شدید تنقید کرتے۔

اس پر نمازیوں کی بڑی تعداد امام صاحب کے خلاف ہوگئی۔ لوگ کہنے لگے کہ ان کو خطیب کے مقام سے ہٹا دینا چاہیے۔ میری ملاقات امام صاحب سے ہوئی تو گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ اِس طرح کی تنقیدی تقریریں کیوں کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ تو حق اور ناحق کا معاملہ ہے۔ اگر میں اِس معاملے میں نہ بولوں تو میں گناہ گار ہوجاؤں گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ کی سوچ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میںاکثر ایسا ہوتا ہے کہ حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ممکن اور ناممکن کو دیکھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی آپ کا طریقہ تھا۔ میںنے مثالیں دے کر امام صاحب کو سمجھایا تو وہ میری بات مان گئے۔ اس کے بعد انھوں نے تنقیدی طریقہ چھوڑ دیا اور حکیمانہ انداز میں اپنی بات بیان کرنے لگے۔

یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ حکمت کی اہمیت ہوتی ہے۔ جو آدمی حکمت کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ صرف مسائل کو بڑھائے گا، وہ مسائل کو حل نہیں کرسکتا۔ زندگی میںکوئی حقیقی کامیابی صرف صبر کا طریقہ اختیار کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے۔ صبر کا طریقہ چھوڑنے کے بعد کسی کو کوئی حقیقی کامیابی ملنے والی نہیں۔

اجتماعی معاملات کو ہمیشہ حق اور ناحق کے نظریے سے دیکھنا صرف جوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر وتحمل ہو، وہ معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے اور پھر وہی طریقہ اختیار کریں گے جو صورتِ حال کی روشنی میں نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content