Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

شکایت کا مزاج

Urdu · 2 min read

مولانا آپ شکایت کو شکر کا قاتل سمجھتے ہیں آخر کیوں شکایت اتنی بری چیز ہے، کیا شکایت والا ذہن کفر تک پہنچادیتا ہے ؟(حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو )

میں یہ نہیں کہتا کہ شکایت کفر ہے۔ شکایت صرف ایک برائی کا نام نہیں ہے۔بلکہ وہ برائیوں کی جڑ ہے۔ ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری برائیوں کا نام شکایت ہے۔یعنی شکایت اپنے ساتھ بہت سی دیگر برائیاں بھی لاتی ہے۔ اس طرح سے شکایت برائیوں کا منبع بن جاتی ہے۔ اگر آپ پتھر کا ایک ٹکڑا اپنی جیب میں رکھ لیں تو وہ جیسا آج ہے، ویسا ہی سوسال تک رہے گا۔ لیکن شکایت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ شکایت ہمیشہ گرو (grow) کرتی ہے، یعنی وہ برابر بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ انسان کی پوری شخصیت پر چھاجاتی ہے۔ شکایت کوئی پازیٹیو (positive) چیز نہیں۔ وہ انسان کی شخصیت کو منفی شخصیت بنادیتی ہے۔ جو انسان شکایت کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ شکر کی نفسیات سے خالی ہوگا۔

کسی انسان کے اندر شکایت کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انسان منصوبۂ تخلیق سے بےخبر ہے۔ اللہ رب العالمین کے منصو بۂ تخلیق کے مطابق، اس دنیا میں انسان کو مصیبت سے چھٹکارا نہیں۔ انسان مصیبت کی وجہ سے شکایت میں مبتلا ہوتا ہے۔اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (2:155-157)۔ یعنی ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ شکایت انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ایک قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان اپنے اندر صبر یعنی پازیٹیو سوچ کی صفت پیدا کرے۔ یہ اس کی شخصیت کی تعمیر کرے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content