Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

اختلاف کو مینج کرنا

Urdu · 2 min read

قدیم زمانہ ٹرائبل ایج کا زمانہ تھا۔اس زمانے میں ایسا تھا کہ اختلاف بہت جلد ٹکراؤ بن جاتا تھا، اور ٹکراؤ بہت جلد لڑائی کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ ٹرائبل ایج (قبائلی دور) میں لوگ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ جانتے تھے۔ وہ تھا ٹکراؤکا طریقہ۔ لیکن ٹکراؤ کا طریقہ مسائل کو حل نہیں کرتا تھا، بلکہ ہر ٹکراؤ کے بعد ایک اور ٹکراؤ وجود میں آتا تھا۔ یعنی ایکشن کے بعد ری ایکشن۔اس کو ایک لفظ میں چین ری ایکشن کہا جاسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں موجودہ زمانے میں ایک اور طریقہ وجود میں آیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں ’’مسائل کو مینج کرنا ‘‘کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ آزادیِ رائے کا زمانہ ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے کسی بھی مسئلے پر تبادلۂ خیال کرسکتے ہیں۔اس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آپ سامنے والے فریق کی سنیں، اور سامنے والا فریق آپ کی سنے۔اس طرح وہ دور ختم ہوگیا، جب کہ اختلاف بہت جلد ٹکراؤ بن جاتا تھا۔

یہ طریقہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام ﷺ نے اختیار کیا۔ آپ جب تشریف لائے تو دنیا میں ٹرائبل ایج تھا۔ ٹرائبل ایج میں ہمیشہ اختلافات پیش آتے ہیں۔ رسول اللہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اختلاف کو ٹکراؤ تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ بلکہ ا س کو مینج کرکے حل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے زمانے میں فریقِ ثانی نے بار بار ٹکراؤ کرنا چاہا، لیکن آپ نے ہمیشہ ٹکراؤ کو مینج کرکے اس کو بڑھنے نہیں دیا۔ہجرتِ مدینہ اور صلح حدیبیہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔

اختلاف کو ٹکراؤ کی طرف لے جانا یہ ہے کہ اس میںمسلز پاور (muscle power) کو استعمال کیا جائے۔ اختلاف کو مینج کرنا یہ ہے کہ دونوں فریق ڈائلاگ کے ذریعے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اختلاف کو ختم کرنا یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو گفتگو کے ذریعہ مخاطب بنائیں۔ اپنے اختلاف کو ذہن کی سطح پر ختم کرنے کی کوشش کریں —اس دنیا میں اختلاف کبھی ختم نہیں ہوتے، اختلاف کو مینج کرنا سیکھیے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.