توحید کا آغاز معرفت یعنی realization سے ہوتا ہے، یعنی خدا کو خالق و مالک کی حیثیت سے دریافت کرنا۔ کسی انسان کو جب خدا کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے، اس کو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: "اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے، تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ " اس سبب سے کہ ان کو حق کی معرفت حاصل ہوئی، وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب!
ہم ایمان لائے، پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے، جبکہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے؟ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلے میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔
المائدہ 83:25۔ خدا کی معرفت آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پیدا کرتی ہے، اس کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: "ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں، اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمانی اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ " الانفال 2۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.