حج، ذریعۂ اتحاد۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا اختلاف و انتشار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حج جیسا نادر اجتماعی ادارہ ان کے درمیان پوری طرح موجود ہے، اس کے باوجود ان کے اندر باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا؟ حالانکہ حج اپنے سالانہ عالمی اجتماع کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اتحاد کا ایسا طاقتور ذریعہ ہونا چاہیے جس میں تمام اختلافات پگھل کر رہ جائیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کا روایتی ہجوم بن کر رہ گیا ہے، نہ کہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع۔ اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جو ان کی توجہات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگا دے۔ اگر ایسا کوئی بڑا مقصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے، اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے۔ دعوت امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔
اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانے کی طرف متوجہ ہو جائے گی۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا، اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی۔ حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 64۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.