Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

کونیت بشری، امارت بشری

Urdu · 5 min

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زندگی کی تشکیل میں کونیت بشری (عقلیت انسانی) کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت ظاہر ڈھانچہ کی۔ کونیت بشری اگر درست ہو تو ظاہری سیاسی ڈھانچہ بھی لازماً درست ہوگا۔ کسی کی سازش یا تخریب اس کو صلاح سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی مثال ابو بکر صدیق اور عمر فاروق کا زمانۂ خلافت ہے۔ اور جب کونیت بشری میں بگاڑ آ جائے تو اس کے بعد کوئی صالح حکمراں بھی محض حکومت کے زور پر معاشرہ کو صالح معاشرہ نہیں بنا سکتا۔

موجودہ زمانہ میں یہ درد ناک منظر سامنے آیا ہے کہ عملی سیاست کے میدان میں علما کی تمام کوششیں مسلسل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، سید احمد بریلوی نے پشاور میں اسلامی حکومت (1827-31)قائم کی۔ مگر بہت کم مدت میں اس کا پورا ڈھانچہ ٹوٹ کر ختم ہوگیا۔ مولانا مفتی محمود کو موقع ملا کہ وہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اپنی چیف منسٹری (1970-71)کے تحت اسلام پسندوں کی وزارت بنائیں۔ مگر میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی وہ ناکامی کے ساتھ ختم ہوگئی۔ سوڈان میں1988ء میں الاخوان المسلمون کو یہ موقع ملا کہ وہ جعفر النمیری کی حکومت میں مؤثر شرکت کر سکیں۔ مگر ان کی یہ شرکت سوڈان کے معاشرتی حالات میں کچھ بھی تبدیلی نہ لا سکی اور دوبارہ اپنی مدت کے اختتام سے پہلے ختم ہوگئی۔ پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کو ساڑھے گیارہ سال (1977-88) تک کامل حکمرانی کا موقع ملا۔ ان کو ہندو پاک دونوں ملکوں کے علما کی تائید حاصل تھی۔ مگر وہ پاکستان کے حالات میں کوئی بھی اسلامی تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکے، وغیرہ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عملی سیاست کے میدان میں علما کی مسلسل ناکامی کا سبب یہ ہے کہ وہ منصوبۂ الٰہی کے خلاف چل رہے ہیں۔ ان کی ان تمام سرگرمیوں پر حضرت عائشہ کی وہ روایت صادق آتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ وہ کونیت بشری کو درست کیے بغیر امارت بشری کا منصب سنبھالنا چاہتے ہیں۔ ایسی کوشش حضرت عائشہ کے قول کے مطابق، پیغمبر کے زمانہ میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتی تھی، پھر وہ موجودہ زمانہ میں کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ علما کو صحیح طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ میں کونیت بشری میں کیا تبدیلی آئی ہے اور آج کا وہ انسانی شاکلہ کیا ہے جس کو سمجھنا اور جس کی تصحیح کرنا وہ پہلا ضروری کام ہے جس میں انھیں سب سے پہلے مصروف ہونا چاہیے۔ تصحیح شاکلہ کے بغیر کوئی بھی عملی سیاست ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگلی سطروں میں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content