Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

تصوف کا دوسرا پہلو

Urdu · 18 min

تاہم یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ ہر چیز ابتداء ً فطرت کی سطح پر شروع ہوتی ہے، اور بعد کووہ غلو بن جاتی ہے۔ یہی تصوف کے ساتھ بھی ہوا۔ دور اول کے صوفیا فطرت کے دائرہ میں تھے۔ مگر بعد کے صوفیا نے غلو کیا۔ انھوں نے تصوف پر اسلام کا رنگ غالب رکھنے کے بجائے خود اسلام پر تصوف کا رنگ غالب کرنا شروع کیا۔ اس طرح تصوف میں فائدے کے ساتھ کچھ نقصانات بھی شامل ہوگئے۔

اسلام بلاشبہ روحانیت کا مذہب ہے۔ مگر اسلام کی روحانیت پوری انسانی ہستی سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ پورے انسانی وجود کو غذا پہنچانے والی ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں تصوف کی جو صورت بنی وہ انسان کی اصل ہستی سے الگ ایک مستقل شعبہ بن گئی۔ یہ تصوف زندگی کے لیے ایک ضمیمہ بن گیا نہ کہ زندگی کے لیے قوت محرکہ۔

بد قسمتی سے یہ واقعہ اس زمانہ میں پیش آیا جب کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہورہی تھی۔ روایتی دور ختم ہو رہا تھا اور سائنسی دور ایک غالب قوت کے طور پر دنیا میں تیزی سے ظاہر ہو رہا تھا۔ اس زمانہ میں چوں کہ مسلم معاشرہ پر صوفیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا، چنانچہ مسلمان مجموعی حیثیت سے اس عالمی عمل سے کٹ گئے۔ اسی کا نتیجہ ہے وہ پچھڑا پن جو آج مسلم دنیا میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ دور اول کے اسلامی تصوف نے علوم فطرت میں تحقیق کی راہ ہموار کی تھی۔ مگر دوسرے دور کا تصوف علوم فطرت میں تحقیق کے لیے سد راہ بن گیا۔

امیر شکیب ارسلان (1869-1946ء)نے تقریباً70 سال پہلے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس کا نام تھا لِماذا تَأَخَّرَ المُسْلِمُونَ، ولِماذا تَقَدَّمَ غَيْرُهُمْ؟ (مسلمان کیوں پچھڑ گئے اور دوسری قومیں ان سے آگے کیوں ہوگئیں) ۔اس وقت سے اب تک اس موضوع پر ہزاروں مضامین اور کتابیں چھپ چکی ہیں۔ مگر اصل سوال بدستور ابھی تک باقی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سائنسی پسماندگی پر تمام اہل فکر متفق ہیں۔ مگر اس پسماندگی کا سبب کیا ہے۔ اس پر کوئی متفقہ رائے سامنے نہ آ سکی۔

راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس کی کم ازکم ایک بڑی وجہ پچھلی صدیوں میں پیدا ہونے والا یہی غلو آمیز تصوف ہے جو اس زمانہ میں پورے مسلم معاشرہ پر چھایا ہوا تھا۔ سائنس حقائق واقعی کو غور و فکر کا موضوع بناتی ہے۔ اس کے برعکس، غلو آمیز تصوف، خواب اور مکاشفہ اور پراسرار مظاہر میں گم ہونے کا نام ہے۔ پچھلی صدیوں میں تصوف کے اسی غلبہ نے مسلمانوں کے ذہن کو حقائق خارجی سے دور کر رکھا تھا۔ دوسری طرف انھیں صدیوں میں اہل مغرب حقائق خارجی میں غور اور تحقیق کا سلسلہ جاری کیے ہوئے تھے۔ اسی فکری فرق کا نتیجہ وہ عملی فرق ہے جو آج مغربی دنیا کے مقابلہ میں مسلم دنیا کا نظر آتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں میں ایک معروف صوفی کا ایک واقعہ نقل کروں گا جس سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ یہ مثال علامتی طور پر پورے طبقہ، صوفیا پر چسپاں ہوتی ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی مسلّمہ طور پر ایک عظیم صوفی تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کی شفقت میرے حال پر ایسی تھی کہ کم کسی باپ کی بیٹے پر، کسی استاد کی شاگرد پر اور کسی شیخ کی مرید پر ہوگی۔ شاہ عبدالرحیم صاحب کی تربیت کا انداز کیا تھا، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ بتاتے ہیں کہ زمانہ طفولیت میں ایک روز احباب و اعزہ کی ایک جماعت کے ساتھ ایک باغ کی سیر کو چلا گیا۔ جب واپس ٓیا تو والد صاحب نے فرمایا کہ ولی اللہ، تم نے اس دن رات میں وہ کیا حاصل کیا جو باقی رہے۔ ہم نے تو اس مدت میں اتنا درود پڑھا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میرا دل باغات کی سیر و تفریح سے بالکل ہٹ گیا۔ اس کے بعد پھر کبھی اس کا شوق پیدا نہیں ہوا(تاریخ دعوت و عزیمت، ازمولانا ابو الحسن علی ندوی، حصہ پنجم، صفحہ103)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ علامتی طور پر اس مزاج کو بتاتا ہے جو صوفیا کے یہاں پایا جاتا تھا۔ معرفت خداوندی کے حصول کے لیے وہ صرف متصوفانہ تدبیروں کو جانتے تھے جن کا تمام تر انحصار مراقبہ اور ورد الفاظ جیسے اعمال پر تھا۔ عالم کون(جس کا ایک حصہ باغ ہے) پر غور و تدبر کو وہ غیر معیاری چیز سمجھ کر عملاً ترک کیے ہوئے تھے۔ یہی ترک بالواسطہ انداز میں، موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے علوم فطرت میں پسماندگی کا سبب بن گیا۔

اکابر صوفیا کا زمانہ ہی جدید دنیا میں سائنس اور علوم فطرت کے نشوو ارتقاء کا زمانہ ہے۔ ذیل کے نقشہ سے اس زمانی تقابل کا اندازہ کیا جا سکتاہے

خواجہ معین الدین چشتی 1117-1214

جلال الدین رومی 1207-1273

نظام الدین اولیاء 1243-1325

سید محمد غوث 1428-1517

شیخ احمد سرہندی 1593-1624

خواجہ نقش بند حجۃ اللہ 1624-1739

شاہ ولی اللہ دھلوی 1703-1762

سید احمد بریلوی 1786-1831

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی 1817-1899

اشرف علی تھانوی 1863-1943

جس زمانہ میں دنیا فطرت کا مطالعہ کرکے جدید دور سائنس کو ظہور میں لا رہی تھی، اسی زمانہ میں مسلم قومیں صوفیا کے زیر اثر فطرت سے دور ہو کر گوشوں اور کونوں میں اعتکاف کو دین سمجھ بیٹھی تھیں۔ ایسی حالت میں اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ وہ دور سائنس میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں۔

میری مراد یہ نہیں ہے کہ اہل تصوف نے براہ راست طور پر لوگوں سے کہا کہ تم لوگ سائنس سے دور رہو اور ہر گز سائنسی علم حاصل نہ کرو۔ میرا کہنا یہ ہے کہ غلو آمیز تصوف کے نتیجہ میں مسلم معاشرہ میں جو مزاج پیدا ہوا وہ سائنسی مزاج کے بالکل برعکس تھا۔

سائنسی مزاج آدمی کو حقائق خارجی کے مطالعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر اس تصوف نے آدمی کو صرف پراسرار باطن کی طرف متوجہ کر دیا۔ سائنسی مزاج تخلیقی فکر پیدا کرتا ہے اور متصوفانہ مزاج آدمی کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سائنسی مزاج آدمی کے اندر دریافت کا جذبہ ابھارتا ہے اور متصوفانہ مزاج آدمی کے اندریہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ وہ بس اپنے شیخ پر اعتماد کرے اور اپنی عقل کے دروازے کھولنے کی کوشش نہ کرے۔

قرآن میں سب سے پہلی آیت (96:1)یہ اتاری گئی کہ اقْرَأْ (پڑھ) ۔اس کے برعکس ،بعد کے صوفیا نے لوگوں کو یہ سبق دیا کہ —کتابوں کو اور کاغذ کو جلا ڈالو

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صد کتاب و صد ورق در نار کن

قرآن نے عالم کائنات پر غور و فکر میں معرفت کا راز بتایا تھا (3:190)۔ اس کے برعکس، بعد کے صوفیا نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ شیخ ہی تمام کمالات کا خزانہ ہے، شیخ سے نسبت حاصل کرو اور تمام دینی اور دنیوی کمالات تم کو حاصل ہو جائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دور اول کے مسلمان قرآن کے فکر سے متاثر ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے علم کے میدان میں زبردست ترقیاں کیں۔ اولاً انھوں نے دینی علوم کو اپنا میدان تحقیق بنایا اور اسلام کے کتب خانہ کو ہر اسلامی موضوع کی کتابوں سے بھر دیا۔ اس کے بعد وہ علوم دنیا (یاعلوم فطرت) کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور اس دوسرے میدان میں بھی غیر معمولی ترقیاں حاصل کیں۔ حتیٰ کہ وہ جدید علمی انقلاب کا آغاز کرنے والے بن گئے۔

مگر بعد کو مسلم معاشرہ پر صوفیا کا غلبہ ہوگیا۔ انھوں نے غلو آمیز تصوف کے ذریعہ مسلم نسلوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیا۔ دور اول میں جو قوم علمی کارواں کی سردار تھی، بعد کے دور میں وہ صرف گرد کارواں بن کر رہ گئی۔

صوفیا نے بعد کے دور میں روحانی سلوک کے لیے جو اجتہادی نظام بنایا وہ تو بلاشبہ نزاعی ہے۔ کیوں کہ ان اجتہادات کا تعلق تعبدی امور سے تھا، اور علما کے درمیان یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اجتہاد کا تعلق صرف معاملات سے، تعبدی امور میں اجتہاد جائز نہیں۔ صوفیا نے اس حد کو ملحوظ نہیں رکھا۔ انھوں نے مسنون طرق عبادت کے ساتھ’’معاون تدبیر‘‘ کے نام پر بہت سے مزید طریقے مقرر کیے اور ان کو اپنے مریدوں کے درمیان پھیلایا۔ ان کا یہ فعل بلاشبہ حد شرعی سے تجاوز تھا، اور مشکل ہی سے اس کی تصویب کی جا سکتی ہے۔

اسی کے ساتھ صوفیا کے ذریعہ قصداً یا بدون قصد ایک اور چیز وجود میں آئی جو دور صحابہ میں موجود نہ تھی، یہ تھا شخصی تقدس۔ دور صحابہ میں مسلمانوں کی ساری توجہ خدا کی طرف رہتی تھی۔ لوگوں کے نزدیک ساری دینی اہمیت صرف خدا اور رسول کی تھی، مگر صوفیا کے ذریعہ اس بدعت کا رواج ہوا کہ لوگ صوفی کی شخصیت کو شعوری یا غیر شعوری طور پر مقدس سمجھنے لگے۔ اس طرح اسلام میں شخصیت پرستی یا دوسرے لفظوں میں گروڈم داخل ہوا۔ حالانکہ اسلام کے لیے یہ سراسر اجنبی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ لَا كَهْنُوتَ فِي الإِسْلَامِ (کہنوت اسلام میں نہیں)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، صوفیا کے ذریعہ دو نہایت مفید کام انجام پائے—

(1) مسلم معاشرہ میں اسلام کی انسانی قدروں کی اشاعت۔

(2) اور پھر اس کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر عمومی اعتبار سے اسلام کی اشاعت کی راہ

ہموار ہونا۔

اسلام اپنی ذات میں ایک تسخیری کشش رکھتا ہے۔ اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں(داعی اور مدعو) کے درمیان نفرت ختم کرکے معتدل فضا قائم کر دی جائے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ صوفیا نے یہی کام کیا۔ تاہم اسلام کو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ میں قابل قبول بنانے کے لیے اسلام کو جدید اعلیٰ معیار پر پیش کرنے کی ضرورت تھی، وہ صوفیا نہ کر سکے، اس لیے ان کے زمانہ میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی وہ بھی عوامی طبقہ تک محدود ہو کر رہ گئی۔

اس طرح ایسا ہوا کہ قوم کے نچلے طبقہ میں تو اسلام پھیلا مگر قوم کا اعلیٰ اور زیادہ ذہین طبقہ اسلام کی پہنچ سے باہر رہ گیا۔ کمیت کے اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر کیفیت کے اعتبار سے زیادہ اونچا معیار حاصل نہ کیا جا سکا۔

موجودہ زمانہ علمی ترقی کا زمانہ تھا۔ سائنسی انقلاب کے نتیجہ میں انسانی فکر میں زبردست تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ وقت کے تمام اعلیٰ ذہن جدید تعلیم حاصل کرکے نئے ذہنی دور میں پہنچ چکے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ اسلام کو وقت کے علمی معیار پر پیش کیا جائے۔ اسلام کو عصری دلائل کے ساتھ مدلل کرکے لوگوں کے سامنے لایا جائے تاکہ جدید طبقہ اس کی طرف متوجہ ہو سکے۔ مگر وقت کا یہ اہم ترین کام نہ ہو سکا، اور اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ خود مسلمان اپنی بےخبری کی وجہ سے اس اہم کام کی طرف مائل ہی نہیں ہوئے۔

صوفیا کے غلبہ نے عوام کے اندر تو اسلام کو پھیلایا، مگر خواص کا طبقہ اسلام کے زیر اثر نہ آ سکا۔ اسی کا یہ نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان تعداد کے اعتبار سے آج ہمیشہ سے زیادہ ہیں، مگر زور اور تاثیر کے اعتبار سے وہ دنیا کی سب سے زیادہ کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ زور اور تاثیر اعلیٰ ذہنوں کے ذریعہ آتی ہے۔ اور اعلیٰ ذہن خود مسلمانوں کے بھی اسلام کی طرف مائل نہ ہو سکے، پھر غیر مسلموں کے اعلیٰ ذہن کیوں کر اسلام کی طرف مائل ہوتے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content