Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

Undated

English · 3 min read

آغاز کلام

ڈائری، اپنے عام مفہوم میں کسی آدمی کے ذاتی مشاہدات اور تجربات کا روز نامچہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ڈائری کو تاریخی یا سوانحی اعتبار سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈائری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آدمی بے تکلف انداز میں بہت سی ایسی باتیں لکھ دیتا ہے جن کو وہ کتاب میں لکھنا پسند نہیں کرتا۔

ڈائری لکھنے کا طریقہ بہت پرانا ہے۔ مثلا رومیوں کے یہاں اس کا رواج پایا جاتا تھا۔ تاہم پہلے یہ تھا کہ ڈائری اور یادداشتوں (memoirs) میں فرق نہیں کیا جاتا تھا ۔ قرون وسطی کے آخر میں دونوں کو الگ الگ انداز سے مرتب کیا جانے لگا۔ پریس کے دور نے ڈائری کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انگلستان میں پہلا قابل ذکر ڈائری نگار وھائٹ لاک (Bulstrode Whitclocke) ہے جس کا زمانہ 1675۔1605 تھا۔ فرانس کا ابتدائی ڈائری نگار( (Marquis de Dangeau ہے جا کا زمانہ 1720۔ 1638 تھا۔

تاہم دور جدید میں جس کی ڈائری کو زیادہ اہمیت حاصل ہوئی وہ سموئیل (Sameuel Pepys) ہے۔ اس نے یکم جنوری1660 اسے اپنی ڈائری لکھنا شروع کیا جو کہ 31 مئی 1969 تک جاری رہی۔ اسی طرح جذباتی تحریر کے اعتبار سے ڈبلن کے مسٹر سویفٹ (Jonathan Swift) کی ڈائری بہت مشہور ہے۔ وہ 1710 اور 1713 کے درمیان لکھی گئی۔

اس کے بعد بہت سے لوگوں کی ڈائریوں نے شہرت حاصل کی ۔ مثلا فینی برنی (Fanny Burmey) جیمس باسويل((James Boswell سرولٹر اسکاٹ( sir Walter Scott) )رابنس(Henry Crabb Robinson) اور اسی طرح گوئٹے، شیلر،ورڈس ورتھ، کولرج وغیرہ

بیسویں صدی میں ڈائری لکھنے کا عام رواج ہو گیا۔ تعلیم یافتہ دنیا کا تقریبا ہرقابل ذکر آدمی اپنی ڈائری لکھنے لگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ قابل تقلید عادت اور کوئی نہیں، اہل علم کے لئے بھی اور عام لوگوں کے لئے بھی ( 524/111)

راقم الحروف کو ڈائری لکھنے کا خیال بہت عرصہ سے تھا۔ اور میں کچھ لکھتا بھی رہتا تھا۔ تاہم باقاعدہ صورت میں ڈائری کا اہتمام میں نے یکم جنوری 1983 سے شروع کیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی بات یا کوئی نہ کوئی احساس یا تجر بہ ہر روزقلم بند کرتا رہا ہوں۔ اس طرح میری ڈائریوں کا ایک وسیع ذخیرہ اکھٹا ہوگیا ہے۔ ان ڈائریوں کو دو دوسال کے مجموعہ کی صورت میں شائع کیا جارہاہے۔

میری یہ ڈائریاں معروف انداز کی ڈائریوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ یہ ایک طرح کا ذاتی ریکارڈ ہے جس میں اس قسم کے اندراجات بھی ہیں جو عام طور پر ڈائری سے متعلق سمجھے جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ چیزیں بھی ہیں جن کو خواطر کہا جا سکتا ہے۔

میری پوری زندگی پڑھنے ، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزاری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرسالہ یا کتابوں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ اس کا دوسرا ، نسبتا غیرمنظم حصہ، ڈائریوں کے صفحات میں اکھٹا ہوتا رہا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری تمام تحریریں حقیقتہً میری ڈائری کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کرلی اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزء بن گئیں۔

ڈائری کا لفظ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ کسی شخص کی روزانہ زندگی کا ریکارڈ ہے۔ حالانکہ نہ ایسا ہے اور نہ ایسا ہونا ممکن ہے،ایک انسان کی زندگی اتنی زیادہ گہری اور وسیع ہے کہ الفاظ کا کوئی بھی مجموعہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ کسی شخص کی ڈائری کو پڑھ کر آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ میں نے اس کی زندگی کو پڑھ لیا۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے کیا ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو الفاظ کے کسی بھی مجموعہ کی پکڑ میں نہیں آتی حتی کہ اگر کوئی شخص ایک کتاب لکھے جس کا نام ہو ‘‘میری زندگی ، اے سے زیڈ تک“ تب بھی وہ اس کی زندگی کی ادھوری کہانی ہو گی نہ کہ مکمل کہانی۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.