Maulana Wahiduddin Khan
43 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

January 1983

English · 43 min read

یکم جنوری 1983

عام طور پر لوگ مضمون اس طرح لکھتے ہیں کہ ایک موضوع مثلا اسلام کا معاشی نظام مقرر کر کے اس کے مطابق لکھنا شروع کر دیا۔ میرا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ میری تحریریں میرے مطالعہ اورغوروفکر کا ضمنی حاصل (by-product) ہوتی ہیں. میرے ساتھ اللہ تعالی کاعجیب معاملہ ہے۔ میرے دماغ پر مضامین کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ میرے تقریبا تمام مضامین آمد ہوتے ہیں نہ کہ آورد .

کبھی مطالعہ کرتے ہوئے کوئی مضمون ذہن میں آجا تا ہے۔ کبھی کوئی چیز دیکھتا ہوں یا کسی چیز کے بارہ میں سوچتا ہوں تو اس دوران میں دماغ کسی تصور کی طرف منتقل ہو جا تا ہے اور ایک مضمون کا خاکہ دماغ میں بن جاتا ہے ۔ اسی طرح کسی سے ملاقات ہوتی ہے توگفتگو کے دوران کوئی ایسی بات سامنے آجاتی ہے جس میں سبق اور نصیحت کا پہلو ہو۔

اس طرح جو مضامین ذہن میں وارد ہوتے ہیں وہ کبھی بڑے ہوتے ہیں اور کبھی چھوٹے۔ بڑے مضامین اکثر قلم بند ہو کر الرسالہ یا کسی کتاب میں شامل ہو جاتے ہیں مگر دوسرے مضامین یوں ہی غیر استعمال شدہ رہ جاتے ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ چھوٹے چھوٹے خیالات جو روزانہ دماغ میں آتے ہیں ان کو ڈائری کی صورت میں لکھ لیا کروں ۔ کسی سے گفتگو کرتے ہوئے کوئی بات سامنے آئے۔ کوئی کتاب پڑھتے ہوئے کوئی چیز اسٹرائک کرے یا دماغ کسی تصویر کی طرف منتقل ہو تو اس قسم کی باتوں کو روزانہ لکھ لیا کروں۔ اس طرح ایک ذخیرہ جمع ہو جائے گا، اور آئندہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ان کو استعمال کر سکے۔ و ماتوفیقی الا باللہ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2جنوری1983

اودھ کے نواب آصف الدولہ کی حکومت 1775ء میں قائم ہوئی ۔ انھوں نے لکھنو کو اپنی راجدھانی بنایا ۔ اس خاندان کے آخری حکمران واجد علی شاہ تھے ۔ واجد علی شاہ اپنی رنگین مزاجی کے لئے مشہور ہیں۔ ان کا دربار شاعروں اور مسخروں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ وہ دنیاسے بےخبر اپنے اس فرضی ماحول میں بےخود پڑے رہتے تھے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1856 میں اودھ پر قبضہ کر کے اس کو برطانی سلطنت میں شامل کر لیا۔ کرنل بیلی کی قیادت میں جب انگریزی فوج لکھنو کے قریب پہنچ گئی اورخبر رسانوں نے اس کی خبر نواب واجد علی شاہ کے دربار میں پہنچائی تو کہا جاتا ہے کہ دربار کے مسخروں نے تالیاں بجا بجا کر کہنا شروع کیا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

"تالیاں بجاؤ موئے بھاگ جائیں گے"

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے بھی تقریبا یہی کردار ادا کیا ہے ۔ جب مسلمانوں کے اوپر غیر اقوام کا غلبہ ہوگیا تو انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اصل صورت حال کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ۔ ہر ایک بس شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کے جوہر دکھانے لگا۔ گویا کہ بزبان حال وہ کہہ رہے تھے:

لفظ بازی کرو اور تمہارے سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔

3 جنوری1983

قال رجل لعمربن الخطاب رضي اللہ عنه

ان فلانا رجل صدق۔ فقال عمر، ھل سافرت معہ او ائتمنته، قال ، لا، فقال، اذن لا تمدحہ فلا علم لک بہ ۔

other sourceWords of another person or source

ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ فلاں شخص بہت سچا آدمی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے یا کیا تم نے اس کو کسی معاملہ میں امین بنایا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عمر نے کہا پھر تم اس کی تعریف نہ کرو کیوں کہ تم کو اس کے بارہ میں کوئی علم نہیں ۔

other sourceWords of another person or source

حضرت عمر کے اس قول کے مطابق آدمی کی سچائی کا معیار وضو اور نماز جیسے اعمال نہیں ہیں۔ وضو اور نماز بلاشبہ اہم ہیں مگر وہ کسی کی سچائی کا براہ راست ثبوت نہیں۔ سچائی کا براہ راست ثبوت یہ ہے کہ عملی تجربات میں آدمی پورا اترے۔ جب آدمی کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہے ، جب اس کو کوئی امانت سونپی جاتی ہے ، اس وقت اس کا عمل بتاتا ہے کہ وہ فی الواقع کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4 جنوری 1983

" آخرت وہ دنیا ہے جہاں صرف امر حق میں قیمت ہو ، امر ٖغیر حق جہاں بے قیمت ہوکر رہ جائے"مجھ پر ایک تجربہ گزرا، اس کے بعد شدید تاثر کے تحت یہ الفاظ میری زبان پ اور آ گئے۔

5 جنوری1983

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف جو اشعار منسوب ہیں ، ان میں سے دو شعر یہ ہیں:

یفوص البحر من طلب اللآلی ومن طلب العلا سهر الليالي

other sourceWords of another person or source

ومن طلب العلا من غير كد أضاع العمر في طلب المحال

ترجمہ: جوشخص موتی چاہتا ہے وہ سمندر میں غوطہ لگاتا ہے اور جوشخص بلندی چاہتا ہے وہ راتوں کو جاگتا ہے۔ اور جو شخص محنت کے بغیربلند مقام چاہے، اس نے ناممکن کی طلب میں اپنی عمرضائع کر دی۔

آدمی اس دنیا میں جو کچھ پاتا ہے اپنے اس استحقاق کی بنیاد پر پاتا ہے جو اس نے محنت اور جد وجہد کے ذریعہ اپنے حق میں فر اہم کیا ہو۔ صحابہ کرام اس بات کو چودہ سو سال پہلے جان چکے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان جس طرح مطالبہ اور احتجاج کی سیاست میں مشغول ہیں ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چودہ سو سال بعد بھی وہ اس حقیقت سے واقف نہ ہوسکے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص قیمتی موتی کا طلب گار ہو تو وہ ساحل پر اپنی مطلوبہ چیز کو نہیں پاسکتا۔ اس کو اپنا مطلوب پانے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں اترنا پڑے گا۔ اسی طرح جو شخص چاہتا ہو کہ اسے زندگی میں عزت اور بڑائی کا درجہ ملے تو اسے راتوں کو جاگنا پڑے گا۔ یعنی صرف دن کی محنت اس کے لئے کافی نہیں ہوگی، وہ راتوں کو بھی محنت کرے گا ۔ اس کو اس وقت عمل کر نا ہو گا جب کہ دوسرے لوگ آرام کر رہے ہوں۔ زیادہ محنت ہی کے ذریعہ اس دنیا میں کوئی شخص زیادہ بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ جوشخص محنت اورمشقت کے بغیر بڑائی حاصل کرنا چاہے وہ اپنا وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کر رہا ہے۔ کیونکہ کسی اور تدبیرسے اس دنیا میں کسی کو بڑائی ملنے والی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 جنوری 1983

صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ ان سے اگر کوئی شخص کسی صورت حال کے بارہ میں فتویٰ پوچھتا تو وہ سائل سے پوچھتے کہ کیا ایسی صورت واقعہ پیش آئی ہے ۔ اگر وہ کہتا کہ نہیں تو صحابہ کہتے کہ پھر ایسے معاملہ کے لیے فتوی ٰمت پوچھو ۔ مگربعد کے آنے والے فقہاء اس احتیاط کو ملحوظ نہ رکھ سکے ۔ انھوں نے بلا قید مفروضہ مسائل پر فتویٰ دینا شروع کر دیا۔ اس طرح کتابوں میں کثرت سے ایسے مسائل جمع ہوگئے جومحض فرضی تھے ۔ اس کے باوجود ان کے بارہ میں کسی فقیہ کی رائے درج تھی۔

مسلم فقہاء کی اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں ایک فتنہ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ان مفروضہ مسائل کو مستشرقین اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لئے کامیاب طور پہ استعمال کر رہے ہیں۔ مثلا اسلام نے بلوغ کو ازدواج کی ایک شرط قرار دیا ہے ۔ اب کسی تفنن پسند نے ایک فقیہ سے پوچھا کہ حضرت ، ایک شخص بوڑھا ہے یا بڑی عمر کا ہے، اس کا نکاح ایک شیرخوار بچی سے کر دیا گیا تو یہ نکاح جائز ہوگا یا نہیں۔ فقیہ پر لازم تھا کہ وہ سائل سے پوچھتا کہ کیا ایسی صورت پیش آئی ہے، اور جب وہ کہتا کہ نہیں تو فقیہہ کہتا کہ پھر ایسا فرضی مسئلہ مت پوچھو۔ مگرفقیہہ نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اس نے فوراً اس کا ایک جواب لکھ دیا اور یہ جواب کتابوں میں بھی شامل ہوگیا۔

اب موجودہ زمانہ کے مستشرقین یہ کر رہیں ہیں کہ وہ قدیم کتابوں سے اس قسم کے جزئی واقعات و مسائل ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اسلامی معاشرہ کے لوگ اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل میں یہاں تک جاتے ہیں کہ وہ شیر خوار بچی سے نکاح کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔

7 جنوری1983

کعبہ کےاوپر غلاف اوڑھانے کا رواج قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کعبہ کے اوپر پہلا غلاف خود حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اوڑھایا تھا۔ اگرچہ یہ بات تاریخی معیار پر ثابت شدہ نہیں۔

قریش اپنے دور میں کعبہ کوغلاف اوڑھاتے رہے۔ فتح مکہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کا موقع نہیں آیا تھا۔ بعد کوجب مکہ فتح ہوا، اس وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے لئے موقع تھا کہ کعبہ پرنیا غلاف ڈالیں۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ فتح مکہ کے بعد بھی آپ نے اسی غلاف کو باقی رکھا جو قریش ( بالفاظ دیگر مشرکین) نے کعبہ کو اوڑھایا تھا۔

اس کے بعد ایسا ہوا کہ ایک عرب خاتون کعبہ کو خوشبو دینے کے لئے کسی خوشبو دار چیز کی دھونی دے رہی تھی۔ اس دھونی دینے کے عمل کے دوران کعبہ کے غلاف کو آگ لگ گئی اور وہ جل گیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی کپڑے کا ایک غلاف اس کے اوپر اوڑھایا۔ آپ کے بعد خلفاء کے درمیان اس کی سنت جاری رہی۔

یہ واقعہ بتاتا ہے اسلام میں حقیقت کی اہمیت ہے نہ کہ ظواہر کی۔

8 جنوری 1983

اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے مگر اس کو اختیار حاصل نہیں ۔۔۔۔۔۔ انسان اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی سر کشی نہ کرے۔

ایک شخص کسی کو بے عزت کرنے کے لئے اپنی زبان کھول سکتا ہے ، مگرکسی کا بے عزت ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خود خدا اس کے لئے بے عزتی کا فیصلہ نہ کرے۔ ایک شخص کسی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے مگر وہ اس وقت تک کسی کو قتل نہیں کر سکتا جب تک اس شخص کے ہاتھ سے اس کی موت مقدر نہ کر دی گئی ہو۔ ایک شخص کسی کی جائداد پرقبضہ کرنے کی سازش کر سکتا ہے مگر اس کی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک خدا اپنی مصلحت کے تحت اس کے حق میں ایسا فیصل نہ کردے۔

9 جنوری1983

اس زمانہ میں معاشی تجزیہ (Economic Analysis) کی ایسی تاریخیں مرتب کی گئی ہیں جو زمانہ قدیم اور قرون وسطیٰ کی تحریروں میں معاشی تجزیہ کے عمل کا سراغ لگاتی ہیں۔ اور ان معاشی اصولوں کی نشاندہی کرتی ہیں جن سے اس زمانہ کے مفکرین با خبر تھے۔ اس موضوع کی ایک مشہور کتاب یہ ہے:

History of Economic Analysis by Joseph A. Schumpeter.

اس کتاب کا ایک باب عظیم خلاThe Great Gap)) ہے۔ اس میں اس بات کو تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی سے تیرھویں صدی عیسوی تک کا زمانہ معاشی تجزیہ کی تاریخ کے نقطہ نظر سے بالکل خالی ہے ۔ حالاں کہ بعینہ یہی وہ دور ہے جس میں مسلمان علما ومفکرین نے اس میدان میں قابل ذکر کام کئے ہیں۔ مثال کے طور پر قاضی ابویوسف مسکویہ، اوردی، ابن حزم ،غزالی، رازی ، ابن تیمیہ اور ابن خلدون وغیرہ کی تصانیف میں واضح قسم کی معاشی بحثیں ملتی ہیں۔

بے خبری کی سب سے زیادہ مضرقسم وہ ہے جب کہ بے خبری کو علم سمجھ لیا جائے۔

10 جنوری1983

10 جون 1964 کو لکھنؤ میں پنڈت جواہرلال نہرو کے پھول (راکھ) دریائے گومتی میں بہائے گئے تھے ۔ راکھ ایک کلش میں رکھ کر راج بھون سے گومتی کے کنارے لائی گئی جس کے ساتھ ایک بڑا جلوس چل رہا تھا ۔ جلوس کے آگے سواروں کا ایک دستہ تھا۔ اس کے پیچھے پی اے سی (PAC) بینڈ کا ایک دستہ۔ اور آخر میں پی اے سی کا مسلح دستہ تھا۔ اس دستہ نے اپنے رائفل کا رخ پیچھے کی طرف کر رکھا تھا۔ ایک اخبار نے اس واقع کی رپورٹ ان الفاظ میں دی :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’پی اے سی کے مسلح دستہ نے احتراما اپنے اسلحہ پیچھے کر لئے تھے۔‘‘

11 جنوری 1983

آزادی ہند کی تحریک کے زمانہ میں کانگریس نے شراب بندی کی تحریک چلائی ۔ "شراب بند کرو" کے نعروں سے ملک کی فضا گونج اٹھی۔ انھیں دنوں گجرات کے ایک مسلمان نے شراب کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس کا نام گل محمد تھا۔ مولانا ظفر علی خاں نے اپنے اخبار زمیندار میں اس واقعہ پر ایک نوٹ لکھاجس کا عنوان یہ تھا :

گل محمد نام مے فروشی کام

مذکورہ شخص پر اس نوٹ کا اتنا اثر ہو اکہ اس نے شراب کا ٹھیکہ ختم کر دیا اور لاہور چلا گیا ۔

گل محمد کا یہ عمل محض اخبار زمیندار کے نوٹ کا نتیجہ نہ تھا۔ اس میں زیادہ بڑا دخل روایات اور حالات کا تھا ۔ اس وقت تک قدیم اسلامی روایات زندہ تھیں۔ نیز کانگریس کی مخالف شراب تحریک نے ہر طرف اس کے خلاف فضا بنا رکھی تھی ، اخبار کے مذکورہ نوٹ نے ایک طرف گل محمد کے روایتی ذہن کو جھنجھوڑا۔ دوسری طرف ماحول کا دباؤ پڑا ۔ ان چیزوں کے اثر سے اس نے اپنا شراب کا کاروبار بند کر دیا۔

آج بہت سے " مولانا ظفر علی خان" ہیں جو اسی طرح کی باتیں لکھتے رہتے ہیں ، مگر کوئی اس قسم کی باتوں سے اثر قبول نہیں کرتا۔ کیوں کہ اب قدیم روایات ٹوٹ چکی ہیں ۔ نیر آج شراب کے خلاف وہ ماحول نہیں جو اس زمانہ میں وقتی طور پر بن گیا تھا۔

12 جنوری 1983

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران اس حدیث کا ذکر ہوا جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبردی ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل کی بنیا د پر جنت میں نہیں جائے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا۔ حضرت عائشہ نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول کیا آپ بھی۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں الا یہ کہ اللہ مجھے اپنے رحمت و فضل سے ڈھانپ لے (الا ان يتغمدني الله برحمة منه وفضله )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا عمل محدود ہے اور جنت لا محدود ۔ اور محدود کی کوئی بھی مقدار لا محدود کا بدل نہیں بن سکتی ۔ کسی شخص کے پاس کتنا ہی زیادہ عمل ہو ، وہ بہرحال محدود ہوگا۔ پھر محدود کی قیمت میں لامحدود چیز کیسے مل سکتی ہے ۔ یہ تو اسی وقت ممکن ہے جب کہ اللہ تعالی اپنی رحمت کوشامل کرکے اس فاصلہ کوختم کر دے۔

میں نے کہا کہ میرے پاس ایک روپیہ ہے اور آپ کے پاس ایک کروڑ روپیہ ، تو میرے اور آپ کے درمیان مقدار کا فرق ہوا۔ مگرجس کے پاس بے حساب خزانہ ہو، جو کبھی ختم ہی نہ ہوسکے تو اس کے اور ہمارے درمیان نوعیت کا فرق ہو جائے گا۔ اور جہاں نوعیت کا فرق آجاۓ ، وہاں مقدار کا فرق محض اضافی بن جاتا ہے۔

انسان کے عمل اور خدا کی جنت کے درمیان نوعیت کا فرق ہے نہ کہ مقدار کا ۔ اور جہاں دوچیزوں میں نوعیت اور مقدار کا فرق ہو وہاں مقدار کا کوئی بھی اضافہ دونوں کو مساوی قرار دینے کے لئے کافی نہیں۔

13 جنوری 1983

مولانا حمید الدین فراہی نے سورہ فیل کی ایک منفرد تفسیر کی ہے ۔ اس سورہ میں عام طور پر ’’ترمیھم ‘‘کو واحد مونث کا صیغہ مان کر ہی ترجمہ کیا جاتا ہے کہ چڑیاں ان کے اوپرکنکر پھینکتے تھیں۔ مگر مولانا فراہی نے اس کو مخاطب کا صیغہ مان کر" تم ان پر پھینکتے تھے " کا ترجمہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کنکر پھینکنے والے خود اہل مکہ تھے۔ اورچڑیاں جو وہاں آئی تھیں وہ سنگ باری کے لئے نہیں بلکہ وہ لاشوں کو کھانے کے لئے آئی تھیں۔

مگرلغت کے اعتبار سے یہ بات درست نظر نہیں آتی ۔ کیوں کہ قرآن اگر اہل مکہ کے بارہ میں کہہ رہا ہوتا کہ تم لوگ ابرہہ کے لشکر پرکنکر پھینکتے تھے تو آیت میں ترمیھم کے بجائے ترمونھم کا لفظ آنا چاہئے تھا ۔

اس منفرد تفسیر میں مولانا فراہی کا انحصار زیادہ تر کلام عرب پر ہے۔ انھوں نے کچھ قدیم اشعار پیش کر کے دکھایا ہے کہ " قتل گاہوں اور جنگ کے میدانوں میں گوشت خور چڑیوں کا جمع ہونا عربوں میں ایک معلوم و مشہور بات تھی۔ وہ فوج کے ساتھ چڑیوں کے جھنڈ کو دیکھ کرفیصلہ کر لیتے تھے کہ لڑائی ضرور ہوگی۔ بعض شعراء اپنی فوجوں کے ذکر کے ساتھ چڑیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ چڑیوں کو اندازہ ہوگیا ہے کہ میدان جنگ میں بے شمار لاشیں کھانے کوملیں گی ، اسی لئے وہ بھی فوج کے ساتھ ہوگئی ہیں " ۔

انھوں نے جو چند اشعارنقل کئے ہیں ان میں سے ایک جاہلی شاعر ابونواس ہے ۔ اس کا شعر حسب ذیل ہے:

جب وہ ( جنگ کے لیے) روانہ ہوتا ہے تو ( گوشت خور) چڑیاں اس کے ساتھ اس یقین کے ساتھ چلتی ہیں کہ وہ مقتولوں سے خوب پیٹ بھریں گی۔

ابونواس کا مذکورہ شعر یا اس طرح کے دوسرے اشعار شاعرانہ تصویر کشی کے طور پر ہیں۔ مگر مولانا فراہی نے اس کو حقیقت واقعہ سمجھ لیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض عربی دانی عربی کلام کوسمجھنے کے لئے کافی نہیں ۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے : تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) مولانا فراہی اگر اس مقولہ کی روشنی میں دیکھتے تو انھیں نظر آتا کہ قدیم زمانہ سے لے کرجدید زمانہ تک بے شمارجنگیں ہوئی ہیں اور ان کے تفصیلی حالات بھی لکھے ہوئے موجود ہیں ۔ مگر کسی جنگ میں یہ مذکور نہیں کہ فوج جب روانہ ہوا تو اس کے ساتھ چڑیوں کے غول بھی چھتری بنائے ہوئے اڑ رہے ہوں۔ اگر وہ اس طرح مختلف واقعات کی روشنی میں دیکھتے تو وہ بآسانی سمجھ لیتے کہ بعض عرب شعراء نے اپنے سرداروں کی تعریف میں مذکورہ قسم کی جو بات کہی ہے وہ محض شاعرانہ تصویرکشی ہے نہ کہ کوئی حقیقت واقعہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

14 جنوری 1983

ایک روسی شہری ایک بار پنساری کے یہاں سے کچھ سامان خرید کر لے آیا۔ گھر آ کر پڑیہ کھولی تو اس کی نظر ردی کاغذ پر چھپی ہوئی ایک عبارت پر پڑی۔ یہ ایک آتشیں تحریر تھی۔ چنانچہ اس کو پڑھ کر وہ تڑپ اٹھا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ لینن کے خفیہ اخبار کا پھٹا ہوا ٹکڑا ہے تو اس نے اس اخبار کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنا شروع کیا ۔ یہاں تک کہ وہ لینن سے جا ملا اور روسی کمیونسٹ پارٹی کا ایک سرگرم ممبربن گیا۔

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ روس میں زار کی حکومت تھی۔ زار کی حکومت لینن کو گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ وہ ایک پہاڑی علاقہ میں روپوش ہوگیا اور وہاں اسے ایک خفیہ اخبار کے ذریعہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتا رہا۔

انسان کے اندر اگر عمل کا جذبہ ہو تو کوئی رکاوٹ اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ ہر مشکل میں آسانی کو ڈھونڈنے گا ، وہ ہرگھاٹی میں اپنے لئے راستہ نکال لے گا۔

15 جنوری1983

ایک مرتبہ میں ٹرین سے کیرالا کا سفر کر رہا تھا۔ اسٹیشن پر اترا تو باہر جاتے ہوئے میرا ایک عیسائی مشنری کا ساتھ ہوگیا۔ راستہ میں باتیں ہوتی رہیں ، یہاں تک کہ سڑک کا وہ موڑ آ گیا جہاں سے میرا اور اس کا ر استہ الگ ہوتا تھا۔ جب ہم دونوں آخری طور پر رخصت ہونے لگے تو اس نے ایک چھوٹا سا انگریزی میں لیف لٹ نکالا اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ لیف لٹ میں نے پڑھا اور پھر عرصہ تک وہ میرے پاس رہا۔

یہ ایک قابل تقلید طریقہ ہے۔ ہمارے پاس بھی چھوٹے چھوٹے عمدہ چھپے ہوئے دو ورقہ ہونے چاہئیں جن کو مسلمان اپنے پاس رکھیں اور سفر وغیرہ میں لوگوں تک پہنچائیں ۔

16 جنوری1983

اقبال( 1876۔۔1938) نے پہلے اپنا مشہور شعر کہا تھا:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

اس کے بعد ان کے خیال نے مزید پرواز کی، انھوں نے پرفخر طور پر کہا :

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا

اقبال کی اس شاعرانہ بلند پروازی پر اکبر الہ آبادی نے کہا تھا :

other sourceWords of another person or source

رقبہ کو کم سمجھ کر اقبال بول اٹھے ہندوستان کیسا سارا جہاں ہمارا

مگر یہی اقبال تھے جنھوں نے 1930 میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ملک کو تقسیم کر کے مسلمانوں کو ایک " پاکستان" دے دیا جاۓ ۔ لفظی دنیا میں اقبال کا مطلوب سارا جہان تھا ۔ مگرعمل کی دنیا میں اس کا ایک بے حد چھوٹا ٹکرا ان کا مطلوب بن گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1930 میں اقبال نے مسلم لیگ کے اجلاس (الہ آباد) کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر خطبہ پڑھتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی تاریخ سے میں نے یہی حاصل کیا ہے کہ ان کی تاریخ کے نازک مواقع پر یہ اسلام تھا جس نے مسلمانوں کو بچایا نہ کہ مسلمانوں نے اسلام کو بچایا ۔

مگر اسی خطبہ میں انھوں نے علیحدہ مسلم اسٹیٹ یا مسلم ہوم لینڈ کی تجویز بھی پیش کی جس نے بعد کو پاکستان کی شکل میں ایک متعین صورت اختیار کی۔ کیسا عجیب تھا اقبال کا یہ خطبہ صدارت ۔ زبان سے تو انھوں نے یہ کہا کہ اسلام مسلمانوں کو بچاتا ہے۔ اور پروگرام یہ پیش کیا کہ مسلمانوں کے ذریعہ اسلام کو بچاؤ۔

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں الم تر انھم فی کل واد یھیمون کہا گیا ہے۔

17 جنوری 1983

بائبل میں ایک اسرائیلی پیغمبر نےبنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :

other sourceWords of another person or source

" خداوند آسمان کو جو اس کا اچھا خزانہ ہے تیرے لئے کھول دے گا کہ تیرے ملک میں وقت پر مینہ برساۓ اور وہ تیرے سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ لگائے برکت دے گا اور تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا" ۔ استثناء 12:28

Qur'anQuotes the Qur'an

بائبل کی اس آیت میں قرض سے مراد معاشی قرض نہیں ہے بلکہ فکری قرض ہے ۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کوفکری قیادت (Intellectual leadership) حاصل ہوگی ۔ تم لوگوں سے متاثر نہیں ہوگے بلکہ لوگ تم سے اثر قبول کریں گے ۔ تم دوسروں کی تقلید نہیں کروگے بلکہ دوسرے لوگ تمہارا مقلد بننے میں فخر کریں گے۔ فکری اعتبار سے تم اوپر ہوگے اور دوسرے لوگ نیچے۔

18 جنوری 1983

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اس نے تمام چیزوں کو بہترین صورت دی ہے۔ کتنا باعظمت ہے بہترین تخلیق کرنے والا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بات بظاہر ایک بیان ہے مگر درحقیقت وہ زبردست دلیل ہے۔ مثلا انسان جس نمونہ پر پیدا کیا گیا ہے ، اس سے بہتر نمونہ انسان کے تصور میں نہیں آتا۔ دنیا میں بے شمار ماہر آرٹسٹ اور سنگتراش ہوۓ ہیں ۔ مگر کوئی ماہر ترین اور ذہین ترین شخص بھی انسان سے بہتر کوئی اور ماڈل انسان کے لئے سوچ نہ سکا۔ انسانی فہم کے مطابق انسان کا موجودہ ماڈل آخری ماڈل ہے ، اس سے بہتر کوئی اور انسانی ماڈل ممکن نہیں۔

یہی حال دوسری تمام چیزوں کا ہے۔ شیر جس جسمانی نمونہ پر بنایا گیا ہے وہ اس کا آخری نمونہ ہے۔ اس سے بہترنمونہ شیر کے لئے کوئی آرٹسٹ دریافت نہ کرسکا۔ اسی طرح درخت کا ماڈل آخری ممکن ماڈل ہے ، اس سے بہتر ماڈل کا درخت سوچنے سے انسان عاجز ہے حتی کہ گھاس جس نمونہ پر بنائی گئی ہے وہ بھی اس کا آخری نمونہ ہے ۔ اس سے بہترکوئی نمونہ گھاس کے لئے ذہن میں نہیں آتا ۔چیونیٹی، بچھو ، ہرن ، غرض دنیا کی تمام چیزوں کا یہی حال ہے۔ اس دنیا کی کسی بھی چھوٹی یا بڑی چیز کا دوسرا ماڈل اختراع کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔

جوشخص دنیا کے اس پہلو پرغور کرے گا وہ پکاراٹھے گا : تبارک اللہ احسن الخالقین

19 جنوری1983

موتی سام صراف نے کہا کہ آجکل یہ حال ہے کہ کوئی شخص سڑک پر کھڑا ہو کر خدا کو برابھلا کہے تو لوگ اس کو پاگل سمجھ کر گزر جائیں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی گروہ کے پیغمبریا اس کے بزرگوں کو اسی طرح برابھلا کہے تو اس گروہ کے لوگ سخت غصہ میں آجاتے ہیں اور فورا فساد فوٹ پڑتاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آجکل کے لوگ انسان پرست ہیں نہ کہ خدا پرست۔ جس ہستی کو انھوں نے نہ پہچانا اور نہ اس کو معبودبنایا ، اس کو برابھلا کہنے سے ان کو کیوں غصہ آئے گا۔ البتہ جن انسانوں کو انھوں نے معبود کا مقام دے رکھا ہے، جب ان کو کوئی شخص برا کہہ دے تو ان کا بھڑک جانا بالکل فطری ہے۔

20 جنوری1983

ایک صاحب نے کہا کہ دین میں اتنا زیادہ اختلاف ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ میں نے کہا کہ کس کا اختلاف ۔ انھوں نے کہا مثلا ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ خدا کے لئے واحد کا صیغہ ہی استعمال کرنا چاہئے۔ اگر جمع کا صیغہ استعمال کیا تو جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یعنی خدا رزق دیتا ہے، کہنا چاہئے نہ کہ خدا رزق دیتے ہیں۔ اسی طرح کی عجیب عجیب باتیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ جوشخص آپ سے اس قسم کی بات کہے ، اس سے پوچھئے کہ جو بات تم کہ رہے ہو وہ قرآن میں کہاں لکھی ہے۔ اگر وہ قرآن سے اپنی بات کا ثبوت دے تو مانئے ورنہ مت مانئے۔

پھر میں نے کہا کہ اگر وہ شخص کہے کہ قرآن میں سب بات کہاں ہے۔ تو آپ کہیے کہ پھر حدیث سے ثبوت دو۔اور اگر وہ کہے کہ حدیث میں سب بات کہاں ہے تو اس سے کہیے کہ جو بات نہ قرآن میں ہو اور نہ حدیث میں تو ایسی بات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں۔

21 جنوری1983

دو اشخاص یا دو قوموں میں جھگڑا ہوتو عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ اپنے کوصحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں ساری لسانی طاقت خرچ کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے عمل کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ جھگڑا لا متناہی طور پر باقی رہے۔ کیوں کہ جو آپ کر رہے ہیں ، وہی لازمی طور پر دوسرا بھی کرے گا۔ ایسی حالت میں جھگڑا ختم کیسے ہوسکتا ہے۔

اس قسم کے جھگڑوں کو ختم کرنے کی ایک ہی صورت ہے ، وہ یہ کہ ایک فریق یک طرفہ طور پی اپنی شکایتوں کوختم کر دے۔ اس طرح وہ زیادہ بہتر طور پر فریق ثانی کو راضی کر سکتا ہے کہ وہ بھی یہی طریقہ اختیار کرے اور نتیجتہ جھگڑا جلد ختم ہوجائے۔

22 جنوری1983

ایک روایت بخاری اور مسلم اور ترمذی اور نسائی نے اپنی کتابوں میں درج کی ہے اور مسند احمد میں بھی وہ آئی ہے۔ بخاری کے الفاظ یہ ہیں:

hadithQuotes a hadith

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر مجھے ایک بات سے فائدہ پہنچا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، جب کہ قریب تھا کہ میں اصحاب جمل سے مل جاؤں۔اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کروں۔ راوی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے اپنے اوپرکسریٰ کی لڑکی کو حاکم بنایا ہے تو آپ نے فرمایا : وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جوعورت کو اپنا حاکم بنائے

quoted sourceQuoted from another author or source

اصحاب جمل کی قیادت حضرت عائشہ جیسی خاتون کررہی تھیں ، مگر رسول اللہ کا ایک قول ابوبکرہ کے لئے کافی ہو گیا کہ وہ اس معاملہ میں حضرت عائشہ کا ساتھ نہ دیں۔ یہ صحابی کی روش تھی ، اب اسی پر پاکستان کے اسلامی مفکرین کا اندازہ کیجئے جنھوں نے 1965 میں تو خود مس فاطمہ جناح کو صدارت کے لئے کھڑا کیا اور ان کی مکمل تائید کی اگرچہ وہ الکشن میں ہارگئیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

23 جنوری 1983

ایک شخص اپنے دوستوں کے ساتھ روزانہ دریا پر نہانے جایا کرتا تھا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ اس کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اس کو بخار آ گیا۔ اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ آج مجھے بخارہے۔ آج میں نہانے کے لئے نہیں جاؤں گا۔ دوستوں نے اس کی بات کا لحاظ نہیں کیا۔ وہ پرجوش الفاظ بول کر اس کو بھڑکاتے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ دریا کے لئے روانہ ہوگیا۔ مگر جب وہ نہا کر لوٹا تو اس کا بخار تیز ہوگیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو نمونیہ اور سرسام ہوگیا اور اس میں وہ مرگیا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہراعتبارسے کمزور ہوگئے تھے۔ دور جدید کے اعتبارسے وہ اپنے کومستحکم اور طاقت ور نہیں بناسکے۔ بالفاظ دیگر وہ بخار میں مبتلا تھے۔ مگرموجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ وہ مسلمانوں کے نادان دوست ثابت ہوئے۔ انھوں نے کام اس کو سمجھا کہ بڑے بڑے الفاظ بول کر مسلمانوں کا جوش ابھار دیں۔ چنانچہ شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کے ذریے وہ قوم کو جہاد وقتال کےلئے ابھارتے رہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جوش میں آ کر دوسری قوموں سے لڑنے لگے۔ تیاری کے بغیر انھوں نے ہر ایک سے ٹکراؤ شروع کر دیا۔ مسلمانوں کا یہ ٹکراو عدم تیاری کی بناپر ، ان کے لئے الٹا پڑا۔ ساری دنیا میں وہ یک طرفہ طور پر شکست اٹھاتے رہے۔ ان کا انجام اس شخص کا سا ہوگیا جس کو شدید ٹمپریچر تھا مگر اس کے دوستوں نے اس کا علاج تو نہیں کیا ، البتہ جوش دلا کر اس کو دریا میں کدوا دیا۔

24 جنوری1983

آرتھرگورڈن (Arthur Gordon) نے لکھا ہے کہ ایک بار وہ ایک نازک صورت حال سے پریشان تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا فیصلہ کرے ۔ وہ اپنے ایک دوست سے ملا ۔ اور اس کے سامنے اپنی مشکل بیان کی۔ دوست جو بہت ذہین اور سمجھ دار تھا ، اس نے چند لمحہ سوچا، اس کے بعد ایک کاغذ پر حسب ذیل 10 الفاظ لکھ کر اس کی طرف بڑھادئے :

other sourceWords of another person or source

Be bold –and mighty forces will come to your aid.

جرأت مند بنو ، اور زبردست طاقتیں تمہاری مدد پر آجائیں گی ۔

آرتھرگورڈن نے دس الفاظ کی اس نصیحت کو پکڑ لیا۔ اس نے مذکورہ معاملہ میں ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ ابتدائی مشکلوں کے بعد وہ کامیاب رہا۔ بقیہ زندگی میں بھی دوست کا یہ مشورہ اس کو بہت کام آتا رہا۔

آدمی اگرمشکل مواقع پر پست حوصلہ ہوجائے تو اس کی فطری صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اور اگر وہ حوصلہ اور جرأت کے ساتھ بہادرانہ فیصلہ کرے تو اس کی تمام اندرونی صلاحیتیں ابھر آتی ہیں اور بالآخر اس کو کامیاب کرکے رہتی ہیں۔ جو مشکلات پہلے اس کو رکاوٹ نظر آ رہی تھیں، وہ اس کے لئے ترقی کا زینہ بن جاتی ہیں۔

25 جنوری1983

مینڈک ہمیشہ ایک حقیر جانور سمجھا جاتا رہا ہے ، اور اس کا پاؤں اور بھی زیادہ حقیر موجودہ دور سے پہلے غالباً کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ مینڈک کا پاؤں کوئی کھانے کی چیز ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کا سائنٹفک تجزیہ کیا گیا ہے اور تجربات کے بعد تسلیم کیا گیا ہے کہ مینڈک کا پاؤں ایک نہایت مفید اور قیمتی غذا ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں وہ نہایت مہنگے داموں پرشائقین کو فراہم کیا جاتا ہے ۔

اسی لئے ایک شخص نے کہا کہ یہ دریافت کرنا بڑے حوصلہ کا کام تھا کہ مینڈک کے پاؤں کھانے کی چیزہیں:

other sourceWords of another person or source

It must have taken a lot of courage to discover that frog legs are edible.

مینڈک کے پاؤں کو قابل خوراک چیز کی حیثیت سے دریافت کرنا جتنا زیادہ مشکل کام ہے ۔ اس سے زیادہ مشکل زندگی کی اس حقیقت کو دریافت کرنا ہے کہ چھوٹا آغاز ہی در اصل بڑا آغاز ہے ۔ ابتدائی مقام سے کام شروع کرنے والا ہی آ خر کارمننرل پر پہنچتا ہے ۔

معمولی میں غیر معمولی کو دیکھنا بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو بصیرت کے اس معیار پر پورے اترتے ہوں ۔

26 جنوری 1983

مکمل آزادی کی تجویز غالبا سب سے پہلے حسرت موہانی (1951 - 1881 ) نے کانگریس کے اجلاس احمد آ باد میں 27 دسمبر 1921 کو پیش کی تھی ۔ مگر وہ منظور نہیں ہوئی ۔ اس وقت مکمل آزادی کی بات کرنا بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ حسرت موہانی نے کانگریس میں اپنے باغیانہ ذہن کی تسکین نہ پاکر اسے چھوڑ دیا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے مکمل آزادی کا رزو لیوشن پہلی بار 31 دسمبر 1929 کو اپنے اجلاس لاہور میں پیش کیا۔ اس وقت جواہرلال نہرو کانگریس کے صدر تھے ۔

1929 سے پہلے تمام ہندستانی لیڈر ہوم رول کی بات کرتے تھے۔ حتی کہ بال گنگا دھر تلک 1920) کے سوراج کا مطلب بھی پورن سوراج نہیں تھا ۔ کامل آزادی کی بات کرنا اس وقت کتنا خوفناک سمجھا جاتا تھا ، اس کا اندازہ برج نارائن چکبست کے اس شعر سے ہوگا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

طلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے

نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے

1929 میں یا اس سے پہلے جو لوگ تاج برطانیہ کے تحت ہوم رول کی بات کرتے تھے ، بظاہروہ کامل آزادی ( پورن سوراج ) کے مقابلہ میں بہت کم تر درجہ کی بات تھی ۔ مگر جذبات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو تعمیری نقطہ نظر سے وہی صیح ترین بات تھی ۔ ہوم رول کا مطلب ابدی ہوم رول نہیں تھا ، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ملک کو بتدریج کامل آزادی کی طرف لے جایا جائے ۔ نو آبادیاتی نظام سے ہوم رول تک ، ہوم رول سے کامل آزادی تک ۔

زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہوتی ہے ۔ ہندستان نے روایات کو توڑ کرانقلابی انداز میں آزادی حاصل کی۔ اس کے نتیجہ میں تمام سماجی قدریں تہس نہس ہوگئیں اور ملک ترقی کی طرف نہ جاسکا۔ اگر روایات کو باقی رکھتے ہوئے تدریجی انداز میں آزادی حاصل کی جاتی توسماجی قدریں نہ ٹوٹتیں اور ملک آج کہیں زیادہ کامیاب اور ترقی یافتہ ہوتا۔ اس کی مثال وہ ممالک ہیں جہاں آزادی تدریج کے ساتھ آئی ۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا۔

27 جنوری1983

ہر آدمی کے ماضی میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اور بری باتیں بھی ، ہرآدمی سے دوسروں کے لئے کچھ قابل تعریف باتیں سرزد ہوتی ہیں اور کچھ قابل شکایت باتیں۔

کسی آدمی سے آپ کا بناؤ ہو تو اس کو آپ کی اچھی باتیں یاد آئیں گی ۔ اور اگر اس سے آپ کا بگاڑ ہو جائے تو اس کو آپ کی صرف بری باتیں یاد آنے لگیں گی۔ ایسی حالت میں کسی آدمی کے لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ دوسروں سے اپنے تعلقات کو بگڑنے نہ دے ، حتی کہ اگر یہ نوبت آجائے کہ تعلقات کو معتدل رکھنے کے لئے اس کو یک طرفہ طور پر کچھ برداشت کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے ۔ یہ ابتدائی قربانی اس نقصان سے بہت کم ہے جو تعلقات کے بگاڑ کی صورت میں آدمی کو اٹھانی پڑتی ہے ۔

28 جنوری 1983

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام میں با قاعدہ تبلیغ کا کام صرف دور اول میں ہوا ہے۔ اس کے بعد اسلام زیادہ تر اپنے آپ پھیلتا رہا ہے ۔ اس کا راز یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسلام کے ساتھ خصوصی طور پر ایسے اسباب جمع کر دئے تھے کہ تبلیغ کے بغیر اس کی تبلیغ ہوتی رہے۔

اسلام سے پہلے جو مذاہب آئے ، وہ عام طور پر تبلیغ کے مرحلہ میں رہے ، وہ غلبہ کے مرحلہ تک نہیں پہنچے ۔ مگراسلام کے ساتھ اللہ تعالی کا خصوصی معاملہ ہوا کہ اسلام کو عالمی سطح پر ایک غالب تہذیب کے درجہ تک پہنچا دیا گیا۔ جب ایسا ہوتا ہے تو الناس علی دین ملوکہم کا معاملہ پیشں آنے لگتا ہے ۔ لوگ باقاعدہ تبلیغ کے بغیر صرف تہذیبی دباؤ کے تحت اس کے نظریات اور اس کے عقائد کو اختیار کرنے لگتے ہیں۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں یہی عمل برابر ہوتا رہا۔ چنانچہ مکہ جیسی باقاعدہ تبلیغ کے بغیر اسلام ساری دنیا میں مسلسل پھیلتارہا۔

تاہم یہ صرف سیاسی اقتداراور تہذیبی غلبہ کی بات نہیں ہے ۔ صحابہ کے دور میں جو اسلامی انقلاب ظہور میں آیا ، اس کے نتیجے میں ایسے مستقل اسباب پیدا ہو چکے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے یہ صورت حال جاری رہے کہ تبلیغ کہ بغیر اسلام کی تبلیغ ہوتی رہے ۔ اگرچہ عمل تبلیغ کی اہمیت باقی ہے اور اس کے لئے بے پناہ ثواب کا امکان بدستور موجود ہے ، مگر بعد کے حالات کے نتیجہ میں ایسا ہو چکا ہے کہ مسلمان اگر تبلیغ کی ایجابی کوشش نہ کریں ، وہ صرف اتنا کریں کہ تبلیغی عمل کو روکنے والے سلبی عمل سے باز رہیں، تب بھی اسلام برابرپھیلتا رہے گا۔ اس کا سیلاب رکنے والانہیں۔

اسلام کے زیر اثر دنیا میں سائنسی انقلاب آیا۔ اس نے قدیم توہماتی نقطہ نظرکو ختم کر کے علمی نقط نظر پیدا کیا ۔ ہر آدمی کے اندرفطری طور پر خدا اور مذہب کی تلاش کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ قدیم ماحول میں یہ فطری جذبہ مذہبی تعصب اور آبائی تقلید کے نیچے دبا رہتا تھا ، اب آزادی خیال کا دور ہے ۔ اب ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ کھلے غورو فکر کر کے ذریعہ کوئی رائے قائم کرے۔ تاریخی تحقیقات نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوسرے تمام مذاہب محض روایات پر قائم ہیں ، وہ ٹھوس تاریخی بنیاد سے محروم ہیں، جب کہ اسلام مکمل طور پر ثابت شدہ مذہب ہے ، وہ تاریخی معیار پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وغیرہ

اس طرح کی مختلف چیزیں ہیں جنھوں نے اسلام کے اندر ایک ذاتی زور پیدا کر دیا ہے ، وہ انسان سے اپنی صداقت اپنے آپ منواتا ہے۔

مسلمان اگر با قاعدہ دعوت و تبلیغ کا کام کریں تو انھیں بے انتہا ثواب اور انعام ملے گا۔ لیکن اگر وہ اتنا بھی کریں کہ وہ سلبی کارروائی سے باز رہیں تو اسلام کی اشاعت کے لئے یہی کافی ہے ۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے یہ سلبی کارروائی بہت بڑے پیمانہ پر انجام دی ہے۔ انھوں نے دیگر اقوام کے مقابلہ میں ایسی تحریکیں چلائیں، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور دوسری قوموں میں نفرت اور تناؤ کی فضا پیدا ہوگئی۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے ، کیوں کہ اس فضا نے اسلام کی اشاعت کے عمل کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

29 جنوری 1983

پہلے میں سوچتا تھا کہ موجودہ زمانہ میں تبلیغ دین کا کام نہیں ہو رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر ، الہامی شریعت سے لوگوں کو واقفیت نہیں ۔ پھر آخرت میں کس بنیاد پر ان کا حساب لیا جائے گا ۔ مگر آجکل بگاڑ کا جو حال ہے اس نے مجھے اس سوال کا جواب دے دیا۔

ایک ہے شرعی بنیاد ، اور ایک ہے اخلاقی بنیاد ۔ شرعی بنیاد مقدس کتاب کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ مگر اخلاقی بنیاد خود اپنی ضمیر اور عقل کے ذریعہ لوگوں کو پیشگی طور پر معلوم ہے ۔ آجکل یہ خیال ہے کہ تمام اخلاقی حدیں ٹوٹ گئی ہیں ۔ ہر آدمی اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے رہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ صورت حال دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ شرعی بنیاد تو درکنار ، لوگ اخلاقی بنیاد ہی پر اپنے آپ کو ڈسکریڈٹ کر رہے ہیں۔ آج کا انسان جس لوٹ کھسوٹ اورجس بددیانتی اور بے انصافی میں مبتلا ہے ، اس کا برا ہونا اس کو خود اپنے ضمیر اور اپنے شعور کے تحت پوری طرح معلوم ہے ، اب اگر اس کوشرعی بنیاد کاعلم نہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیوں کہ جو بنیاد اس کو اچھی طرح معلوم ، اسی بنیاد پر وہ اپنے آپ کو مجرم ثابت کر چکا ہے ۔ اس انسان کو اگر خدا پکڑے تو وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ آپ ہم کو اس چیز کے لئے پکڑ رہے ہیں جس کا ہمیں کوئی علم نہ تھا۔

30 جنوری 1983

حدیث کا مطالعہ امت میں جتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا، اتنے بڑے پیمانہ پر قرآن کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مگرحدیث کا وہ عملی فائدہ امت کو نہ پہنچ سکا جو امت کو اس سے پہنچنا چاہئے تھا۔ اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ احادیث میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ امت کے علماء ، چوں کہ ان اختلافات میں تطبیق کا کوئی متفقہ معیار دریافت نہ کرسکے ، اس لئے حدیث کا مطالعہ بہت بڑے پیمانہ پر اختلافات پیدا کرنے کا سبب بن گیا ۔

حدیث کے اختلافات میں تطبیق کا میرے نز دیک واحد قابل عمل معیار یہ ہے کہ اس کو حالات کے اختلاف پر محمول کیا جائے ۔ یعنی یہ مانا جائے کہ انسانی حالات چوں کہ ہمیشہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں، اس لئے صدیوں میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا ۔ کیوں کہ حدیثیں زیادہ تر وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف اوقات میں لوگوں کو دی گئیں ۔

ایک مثال لیجئے۔ آپ اگر حدیث کی کتابوں میں " اشر بہ “ کا باب پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مختلف روایتوں میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مثلا بخاری اور دوسری کتب حدیث میں یہ روایتیں موجود ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پیا ، اسی طرح صحا بہ کرام نے کھڑے ہو کر پانی پیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری طرف ایسی بھی حدیثیں ہیں جن میں واضح لفظوں میں کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے ۔ مثلا مسلم اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ (نھیٰ عن الشرب قائما) ، اس مضمون کی روایتیں مختلف کتب حدیث میں الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے: لا يشربن احدکم قائما ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اختلاف کی توجیہ و تطبیق میں بڑی بڑی بحثیں کی گئی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ایک نوعیت کی حدیث کی تضعیف کر کے دوسری نوعیت کی حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ کسی نے ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا ہے۔ امام نووی کے ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول قرار دیا ہے، اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے کھڑے ہو کر پانی پینے کو جواز کے درجہ میں رکھا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر میرے نزدیک ان میں سے کوئی توجیہ بھی درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ فرق حالات کی بنا پر ہے۔ نارمل حالات میں ایک شخص خواہ بیٹھ کر پانی پینے یا کھڑے ہو کر اس سے کوئی ہرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر ایک شخص مثلا بھاگا ہوا چلا آرہا ہے ۔ وہ آتا ہے اور ہانپتے ہوئے کہتا ہے کہ پیاس لگ رہی ہے، پانی لاو ۔ اب اس کے سامنے پانی لایا جا تا ہے۔ وہ کھڑے کھڑ ے وہیں پینے لگتا ہے۔ تو ایسے شخص کے بارہ میں یہی کہا جائے گا کہ بیٹھ کر پانی پیو۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ جب دو قسم کا حکم ہے تو لازما ایک مطلوب ہوگا اور دوسرا غیرمطلوب ۔ حالانکہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ یقینا بعض اوقات اس بنا پر بھی فرق ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت دونوں حکم مطلوب ہوتے ہیں، کوئی حکم ایک قسم کے حالات میں ، اور کوئی حکم دوسرے قسم کے حالات میں۔

31 جنوری 1983

اورنگ زیب عالمگیر کا زمانہ بڑا عجیب زمانہ ہے۔ ایک طرف اس کی صورت میں ملک کو ایک ایسا بادشاہ حاصل تھا جس کی سادگی ، اخلاص اور تقوی پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔ دوسری طرف اس کو حکومت کے لئے نہایت طویل وقفہ لیا ہے جس میں وہ یہ کامیابی حاصل کرتا ہے کہ پورے ملک میں شرعی قانون نافذ کر دیتا ہے ۔ ملک بھر کے علما کو جمع کر کے فتاوی عالمگیری مرتب کر اتا ہے ، وغیرہ وغیرہ

مگر اسی اور نگ کے زمانہ میں اخلاقی زوال کی مثالیں بھی انتہا درجہ پر نظر آتی ہیں۔ اورنگ زیب کی اپنی فوج کا یہ حال تھا کہ اس کے سردار مرہٹوں سے مل جاتے تھے۔ حتی کہ خود محل کے شہزادے بھی غداری کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ مثلا ستارہ میں اورنگ زیب کی فوجیں شہزادہ محمد اعظم کے ماتحت تھیں ۔مرہٹے شہزادہ کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ ان کی رسد رسانی میں رکاوٹ نہ ڈالے گا۔ چنانچہ وہ قلعہ جس میں محاصرہ کے وقت صرف دو ماہ کی رسد تھی ، چھ ماہ تک بھی ختم نہ ہوا۔

1704 میں جب اورنگ زیب جنوبی دکن چھوڑ کر کھیرہ کی طرف روانہ ہوا تو تھوڑے ہی دنوں میں ستارہ، برنالہ ، پاد گڑھ کے قلعے مغلوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔

اورنگ زیب کو خود بھی ان انسانی کمزوریوں کا بخوبی علم تھا۔ وہ اپنے رقعات میں بار بار اس کا ذکر کرتا ہے ۔ مثلاً ایک جگہ لکھتا ہے : آدم ہوشیار ، امانت دار، خدا ترس، آباداں کار، کم یاب :

نیست جز آدم در یں عالم که بسیاراست و نیسیت

وہ ایک اور جگہ لکھتا ہے : حالا یک کس براۓ دیوانی بنگالہ کہ بہ حلیہ راستی و کاردانی آراسته باشد می خواهم ، یافتہ نمی شود . از نا یا بی آدم کار آه آه (بنگال کی دیوانی کے لئے میں ایک شخص چاہتا ہوں جو سچا اور معاملہ فہم ہو ، مگر وہ نہیں ملتا۔ کام کے آدمی نہ ملنے پر افسوس )

other sourceWords of another person or source

اورنگ زیب کے زمانہ میں اسلامی اقتدار ، علماء ، صوفياء ، قانون اسلام کا نفاذ ہر چیز موجود تھا ۔ اس کے باوجود سارا معاملہ بگڑا ہوا تھا۔ اس واقعہ کو تین سو سال گزر چکے ہیں مگراس پوری مدت میں مجھے کوئی ایک شخص بھی نہیں معلوم جس نے اس سے صحیح سبق لیا ہو۔ہر شخص تقریبا اسی نہج پر سوچتا رہا جس کا اظہار بعد کو اقبال نے اس طرح کیا تھا :

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

کسی نے یہ نہ سوچا کہ اورنگ زیب کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی( مثلا سید احمد شہید بریلوی کے زمانہ میں) اس مٹی کو بار بارنم کیا گیا۔ بلکہ اس کو جل تھل کر دیاگیا ، اس کے با وجود وہ زرخیز نہ ہوسکی۔

اصل یہ ہے کہ مسلمان کے نام سے اب جو قوم ہے وہ پوری طرح زوال کا شکار ہے۔ اس کے افراد میں جان نہیں رہی ۔اس کا اظہار اورنگ زیب کے زمانہ میں ہوگیا تھا ۔ اس کا واحد حل صرف یہ تھا کہ غیرمسلم اقوام میں تبلیغ کی جائے ، تاکہ ان کے اندرسے جاندار افراد نکل کر مسلمانوں کے درمیان شامل ہوں۔ اس طرح نیا خون ملنے سے مسلمانوں کی صف میں جان آئے گی اور وہ اسلام کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوسکیں گے۔ مگر اس مدت میں مسلمانوں نے سب کچھ کیا مگر وہی ایک کام کیا جس کا کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا۔

5 جنوری 1983

امیرمعاویہ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لڑکے یزید کی خلافت کے لئے بیعت لے لی تھی ۔ چنانچہ ان کی وفات کے بعد یزید کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن عباس مکہ میں تھے۔ مکہ میں خبر پہنچی تو لوگ اس معاملہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا تاثر جاننے کے لئے ان کے پاس جمع ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا:

وان ابنـهيـزيـدلمنصالحياهـلـهالتـزمـوامجـالـكمواعطواطاعتكموبيعتكم

بلاندی : انساب الاشراف، قسم مزم، پیروشلم۱۹۴۰ ا

ان کا لڑکا یزید ان کے لائق اہل خانہ میں سے ہے۔ لہذا تم اپنی جگہ بیٹھے رہو اور اپنی طاعت اور بیعت اس کو دے دو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عبد اللہ کا یہ قول یزید کی موافقت سے زیادہ لوگوں کو اس کی مخالفت سے روکنے کے لئے تھا۔ اسی طرح محمد بن حنفیہ نے یزید کے بارے میں کلمہ خیر کہہ کر لوگوں کو بغاوت سے روکنے کی کوشش کی ۔ حکمرانوں کے بارہ میں صحابہ و تابعین کا یہی طریقہ تھا۔ موجود ہ زمانہ میں پہلی بار یہ سیاسی بدعت وجود میں آئی ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ کو اصل دینی کام سمجھ لیا گیا ہے۔

6 جنوری 1983

سورہ الشوریٰ کی ایک آیت ہے جو قرآن میں اس طرح لکھی جاتی ہے :

ويمح الله الباطل ويحق الحق بكلمته

یہ در اصل یمحو (واؤ کے ساتھ ) ہے ۔ مگر پہلی بارجب قرآن لکھا گیا تو اس وقت قرآن کے کاتبین نے اس کو واؤ کے بغیر یمح لکھا۔ چنانچہ بعد کے تمام مصاحف میں وہ اسی طرح نقل ہوتا رہا۔ اور آج بھی وہ اسی طرح چھپتا ہے۔

اسی طرح قرآن میں یدع الانسان ( الاسراء 11 ) ہے۔ یہاں بھی وہ در اصل یدعو (واؤ کے ساتھ) ہے۔ مگرابتدائی نسخہ میں چوں کہ وہ واؤ کے بغیر لکھا گیا تھا اس لئے آج بھی وہ اسی طرح لکھا جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کو اس کی ابتدائی صورت میں محفوظ رکھنے کے لئے کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے۔ انسان کی عقل اور نحو کا علم کہتا ہے کہ اس کو یمحو اور یدعو لکھو مگر لوگوں نے قرآن میں کسی قسم کا فرق یا تبدیلی نہیں کی۔ وہ آخری شوشہ کی حد تک اس کی ابتدائی صورت میں اس کو محفوظ کرتے رہے۔ قرآن کے کتاب محفوظ ہونے کی کتنی بڑی دلیل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7 جنوری 1983

موجودہ زمانہ کے علماء جن چیزوں کی کھوج میں ہیں ان میں سے ایک بالائی تہذیب ہے۔ زمین پر انسانی تہذیب کے علاوہ کیا بالائی خلا میں کوئی اور تہذیب ہے جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے ۔ پہلے25 برسوں کے سائنسی مطالعہ نے کافی حد تک یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں ہمارے علاوہ دوسری " ٹکنکل سولائزیشین " بھی ہوسکتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ جدید علماء کو کائنات میں ماورائی ذہانت (Extraterrestrial intelligence) کے آثار ملے ہیں۔ ان آثار کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ خدا کے وجود پر لوگوں کا یقین بڑھتا۔ مگر غیر خدا پرستانہ ذہن کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ماورائی ذہانت کو انسانی ذہانت سمجھ رہے ہیں۔ جو چیز حقیقتہ خدا کا وجود ثابت کر رہی ہے اس کو اس معنی میں لے رہے ہیں کہ کائنات میں کسی سیارہ پر انسانی تہذیب جیسی کوئی اور تہذیب موجود ہے۔ حالانکہ کائنات میں "ذہانت" کے آثار ملنا اور ذہانت کا نظر نہ آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر انسانی ہے، وہ غیر مرئی ہے نہ کہ انسان کی طرح مرتی ۔

27 جنوری 1983

ایک لطیفہ ہے۔ کسی مولوی صاحب نے وعظ بیان کیا۔ وعظ میں انھوں نے کہا کہ وضو نماز کے لئے شرط ہے۔ جو شخص وضو کے بغیر نماز پڑھے گا اس کی نماز نہیں ہوگی۔ ایک پٹھان صاحب کھڑے ہوۓ اور کہا کہ آپ غلط کہتے ہیں کہ وضو کے بغیر نہیں ہوگی ۔ ہم نے تو بارہا وضو کے بغیر نماز پڑھی ہے اور ہماری نماز ہوگئی (بارہا کردیم وشد)

مولوی صاحب پٹھان کی بات سن کر ہنس پڑے۔ ان کے نزدیک پٹھان کی بات بیوقوفی کی بات تھی۔ کیوں کہ جو نماز وضو کے بغیر پڑھی جائے وہ نماز نہیں، صرف اٹھ بیٹھ ہے ۔ دوسری طرف پٹھان کو یقین تھا کہ اس کی نماز ہوگئی ، کیونکہ اس کے نزدیک نماز کے ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اس نے تکبیر اولیٰ سے لے کر سلام پھیرنے تک کسی نہ کسی طرح تمام ارکان کو دہرا دیا۔

اس واقعہ میں بظاہر مولوی صاحب صحیح نظر آتے ہیں اور پٹھان غلط ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ۔ دونوں ہی کچھ ظاہری چیزوں کے دہرا لینے کو نماز سمجھتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پٹھان نے اس دہرانے کی فہرست میں وضو کوشامل نہیں کیا ہے اور مولوی صاحب نے وضو کو بھی شامل کر لیا ہے۔

حالاں کہ نماز کا ہونا یہ ہے کہ اس کے اندر خشوع کی کیفیت پائی جائے۔ کیوں کہ خدا کی نظر میں وہی نماز نماز ہوتی ہے جس میں خشوع موجود ہو ، نماز وہ ہے جو خدا کے یہاں قبول ہو جاۓ ، نہ کہ وہ جس کو ہم بطور خود یہ سمجھ لیں کہ نماز ہوگئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it