دی باچا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ زیرِ نظر رسالہ دین کے ابتدائی تعارف کے لیے تیار کیا گیا ہے؛ جلی قلم، سادہ انداز، اور مختصر مضامین کے ساتھ یہ عمومی مطالعے کے لیے بھی کارآمد ہے۔ اور اسی کے ساتھ مدرسوں اور اسکولوں کے دینی نصاب میں بھی بخوبی طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔
عمومی تعارف یا ابتدائی نصاب میں استعمال کے لیے جو دینی رسالے اب تک ہمارے یہاں تیار کیے گئے ہیں، وہ زیادہ تر عملی آداب، یعنی مینول، کے طرز پر لکھے گئے ہیں۔ ان کتابوں کو پڑھنے والا اسلام کے مسائل یا اس کے مقررہ طریقے تو جان لیتا ہے، مگر وہ دین کی روح اور اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ کچھ رسالے جو رسمی طریقے سے ہٹ کر لکھے گئے ہیں، وہ بھی زیادہ تر اسلوبِ بیان کی حد تک اول الذکر سے مختلف ہیں: ایک اگر فقہی زبان میں ہے تو دوسرا ادبی زبان میں۔ اس میں شک نہیں کہ ان رسالوں کی اپنی افادیت ہے، اور وہ بجائے خود ضروری بھی ہیں۔
تاہم ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جس میں اسلام کی تعلیمات کو نفسیاتی انداز میں بیان کیا گیا ہو، جو کہ قرآن کا عام انداز ہے، تاکہ آدمی جب اسلامی تعلیمات کو پڑھے تو اسی کے ساتھ وہ اس سے متاثر بھی ہوتا چلا جائے۔ اسلام کا تعارف حاصل کرنے کے ساتھ وہ اس کو اپنے قلب میں بھی اتار رہا ہو۔ اسلام کا تعارف صرف ایک قانون کا تعارف نہیں، وہ خالقِ کائنات کا تعارف ہے۔ اس لیے اسلام کو پڑھتے ہوئے آدمی کے اندر وہ ہلچل پیدا ہونی چاہیے جو کائنات کے خالق و مالک کی قربت سے ایک شخص کے اندر پیدا ہوتی ہے۔
اسلام کے تعارف کے لیے ایک ایسی کتاب درکار ہے جس میں صرف عقیدۂ خدا کی تشریح نہ ہو، بلکہ خدا کے ساتھ تعلق کی خوراک بھی اس کے اندر موجود ہو۔ اس میں صرف آخرت کا بیان نہ ہو، بلکہ اسی کے ساتھ آخرت کا خوف بھی اس میں رچا بسا ہوا ہو۔ اس میں صرف عبادت کے احکام نہ ہوں، بلکہ عبادت کی روح بھی اس کے اندر سموئی ہوئی ہو۔ اس میں بندوں کے حقوق کا صرف تذکرہ نہ ہو، بلکہ ظلم کی کراہت اور انصاف کی چاشنی بھی اس کے ساتھ لپٹی ہوئی ہو۔
زیرِ نظر رسالہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ وحید الدین، 23 اکتوبر 1980۔ کتاب: دینی تعلیم، صفحہ نمبر 3۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.