Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

اسلام مذہبِ امن

Urdu · 19 min

یور پ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزگار کی تلاش میں تھے۔ اس سلسلہ میں وہ ایک غیر مسلم ادارہ میں انٹرویو کے لئے گئے۔ گفتگو کے دوران انٹرویو نے ان سے پوچھا کہ کیا تم مسلمان ہو۔ نوجوان نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر انٹرویور نے فوراً کہا کہ پھر تو تم دہشت گرد ہو

Then you are a terrorist.

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ایک طبقہ کے کٹر پن اور اس کی جنگ جویانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اسلام دہشت گردی (terrorism) کا مذہب ہے۔ اسلام اپنا مقصد جنگ اور تشدد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر خلاف واقعہ ہے۔

اسلام مسلمانوں کے کسی رویہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک اصولی مسلک کا نام ہے، وہ کسی قوم کے قومی طرز عمل کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام سے جانا جائے گا نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچا جانے لگے۔ اگر کچھ مسلمان دہشت گردی کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں تو اس کے ذمہ داری وہ خود ہیں نہ کہ اسلام۔ ان کے اسلامی نعرہ کی وجہ سے ان کا عمل اسلام کا عمل نہیں بن جائے گا۔

اسلام پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کے نمونہ حیات کا نام ہے۔ اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر تھے، وہ جنگ کے پیغمبر نہیں تھے۔ اسی لئے قرآن میں آپ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ: ہم نے تم کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے (وَما أَرْسَلْناكَ إِلَاّ رَحْمَةً لِلْعالَمِينَ)21:107۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ ان کے یہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب رکھا۔ عرب ایک جنگجو قوم تھے۔ چنانچہ وہ جنگی ناموں کو پسند کرتے تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام کو معلوم ہوا تو آپ نے حرب نام کو پسند نہیں کیا۔ آپ نے کہا کہ اس کے بجائے تم بچہ کا نام حسن رکھو (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2777)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ آپ پورے معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ آپ کی امن پسندی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ آپ حرب جیسا لفظ سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ تشدد میں نہیں بلکہ حسن اخلاق میں یقین رکھتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم انقلاب لے آئے۔ مگر یہ انقلاب امن کی قوت سے برپا کیا گیا نہ کہ جنگ کی قوت سے۔ اگر کبھی آپ نے جنگ کی تو وہ مجبورانہ دفاع کے طور پر تھی نہ کہ آپ کی اپنی پسند اور آپ کے اپنے انتخاب کے تحت۔

امن آپ کی زندگی کا ایک عمومی اصول تھا اور جنگ صرف ایک اتفاقی استثناء۔ چنانچہ اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے صرف تین لڑائی لڑی(بدر، احد، حنین) یہ تینوں لڑائیاں دفاعی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن صرف ہوئے۔

زید بن مُہَلہِل نجد میں بعشت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑے سوار کو کہتے ہیں۔

انہوں نے اسلام سے پہلے فارِس(شہ سوار) اور شمشیر زن کی تعریف پر ایک پرجوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو:

وَقَوْمِي رُؤُوسُ النّاسِ وَالرَّأْسُ قَائِدٌ

إِذَا الحَرْبُ شَنَّتْها ‌الأكُفُّ ‌المَسَاعِرُ

لباب الآداب لأسامة بن منقذ ،جلد1،صفحہ220۔

زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔9ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔

یہ واقعہ اسلام کی اسپرٹ کو بتاتا ہے۔ اسلام دین رحمت ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو زیدشہ سوار بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی زید صاحب خیر بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔

آج کل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مقصد تخلیقی(creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔ وہ ظواہر میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔

دوسرے لوگ اگر اپنی ذات کو چاہنے والے ہوتے ہیں تو وہ خیر کو چاہنے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر استحصال کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ نفع پہنچانے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کے مزاج میں اگر سرکشی ہوتی ہے تو اس کے مزاج میں تواضع ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کی خصوصیت اگر جنگ پسند ہوتی ہے تو اس کی خصوصیت امن پسند۔ دوسرے افراد اگر لوگوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو زندگی دے کر خوشی حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کے پاس اگر لوگوں کے لئے نفرت کا تحفہ ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف محبت کا تحفہ خواہ دوسرے لوگ اس سے نفرت کا معاملہ کیوں نہ کر رہے ہوں۔

صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اجتماعی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ امام البخاری نے یہ حدیث چار ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:(مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‌بَيْنَ ‌أَمْرَيْنِ ‌إِلَّا ‌أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا)( صحيح البخاري،حدیث نمبر 3560)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو لیتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان آپ کو جو معاملات پیش آتے تھے، ان میں آپ ہمیشہ آسان پہلو کا انتخاب فرماتے تھے۔ جب ایک طریقہ امن کا ہو اور دوسرا طریقہ ٹکراؤ کا، ایک طرف نزاع ہو اور دوسری طرف موافقت ہو، ایک جنگ کا راستہ ہو اور دوسرا صلح کا راستہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں آپ اسی صورت کو اختیار کرتے تھے جو نسبتاً سہل اور آسان ہو۔ غور کیا جائے تو یہ اصول آپ کی پوری زندگی پر چھایا ہوا نظر آئے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ایک معلوم اور مشہور سنت ہے۔ مگر عام طور پر اس کا انطباق صرف چھوٹے چھوٹے امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھا رہے ہوتے اور پیچھے سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آ جاتی جس کو اس کی ماں مسجد میں لائی تھی تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے۔ ایسی حالت میں آپ لمبی سورہ پڑھنے کے بجائے چھوٹی سورہ پڑھ کر نماز کو جلد ختم کر دیتے تاکہ بچہ کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ مگر زیادہ بڑے بڑے امور میں اس سنت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ بڑے امور میں اس کو منطبق کیا جاتا ہے۔

مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعشت ہوئی تو اس وقت کعبہ میں360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ کعبہ کی تطہیر سے اپنی مہم کا آغاز کرتے تو یہ آپ کے لئے مشکل انتخاب ہوتا۔ اس لئے آپ نے دلوں کی تطہیر سے اپنے کام کا آغاز فرمایا۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت یہ اتاری گئی کہ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ)96:1۔ گویا کہ طَھّر الکعبۃ من الاصنام کے بجائے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ طھر القلوب من الاصنام۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مکی زندگی کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس وقت ایک صورت یہ تھی کہ آپ دفاعی ذہن کے تحت تمام مسلمانوں کو متحد کرکے جنگ کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مقابلہ کے بجائے ترک مقام کو اختیار کرنا تھا۔

حدیبیہ کے واقعہ میں آپ کے لئے جنگ اور واپسی میں انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ آپ نے یہاں بھی جنگ کے طریقہ کو چھوڑا اور میدان سے واپسی کے طریقہ کو لے لیا۔

جن لوگوں نے حج یا عمرہ کیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ کعبہ سے متصل ایک جگہ ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ حضرت ابراہیم کی تعمیر کے مطابق، کعبہ میں شامل تھی۔ بعد کو مشرکین نے نئی تعمیر کے وقت اس کو الگ کر دیاا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کو موقع تھا کہ کعبہ کو ازسرنو بنا کر حطیم کو اس میں شامل کر دیں۔ مگر اس وقت کے حالات میں یہ ایک نزاعی کام تھا۔ چنانچہ نزاع سے بچنے کی خاطر آپ نے کعبہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جیسا کہ مشرکین نے اسے بنایا تھا۔

غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول(اختیار ایسر) کا مصداق نظر آئے گی۔ آپ نے ہمیشہ ہر معاملہ میں مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کا انتخاب فرمایا ہے۔ اسی اصول کو موجودہ زمانہ میں پرامن طریقہ عمل(peaceful method) کہا جاتا ہے۔

جنگ اور تشدد کا طریقہ اسلام کے لئے مفید نہیں ہے۔ جنگ باز آدمی تشدد کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا طریقہ اسلام کے لئے بالکل اجنبی ہے۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دل و دماغ کو بدلنا ہے اور دل و دماغ کو بدلنے کا کام تشدد کے ذریعہ کیا جانا ممکن نہیں۔ دل و دماغ کو بدلنے کا کام نصیحت(persuasion) کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ طاقت(force) کے ذریعہ۔

اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ لوگ آخرت کی جو ابد ہی کے احساس میں جینے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ اعلاروحانی اوصاف پیدا ہوں جن کو تقویٰ، خشیت، انابت، تضرع، اخبات، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ لوگ حق کو پہچاننے والے اور حق کا اعتراف کرنے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ ربانی شخصیت پرورش پائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔

یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے اور جنگ یا تشدد کے ذریعہ اس مطلوب کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ پرامن دعوت و تبلیغ ہے۔ اسلام کے طریق کار کو ایک لفظ میں دعوتی طریقہ کہا جا سکتا ہے نہ کہ جنگ جویانہ طریقہ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک دعوت ہے۔ اور دعوتی عمل صرف پرامن حالات میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تناؤ اور ٹکراؤ کا ماحول ہو وہاں دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے اسلام چاہتا ہے کہ ہر قیمت پر انسانوں کے درمیان امن قائم رہے۔ حتیٰ کہ امن کے قیام کے لئے اگر اہل اسلام کو یک طرفہ قربانی دینا پڑے تو یک طرفہ قربانی دے کر انہیں امن و امان کو قائم کرنا چاہیے۔

طریق کار ہمیشہ آدمی کے اپنے مشن کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔ اسی لئے دادا کا طریق کار ایک تاجر کے طریق کار سے مختلف ہوتا ہے۔ دادا کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ جتنا زیادہ اس سے خوف میں رہیں گے اتنا ہی زیادہ اس کو اپنا مقصد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لئے دادایہ کرتا ہے کہ وہ تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنی طاقت کا تجربہ کراتا ہے۔ کیونکہ ڈر کی نفسیات اسی طریقہ کے ذریعہ پیدا کی جا سکتی ہے۔

مگر تاجر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تاجر کا مقصد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ گرویدہ ہونے کے بعد ہی کوئی شخص ایک تاجر کے سامنے اپنی جیب خالی کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس لئے تاجر محبت اور صلح کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ محبت اور صلح کے ذریعہ ہی وہ کسی کو اپنا گاہک بنا سکتا ہے۔

اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اس لئے اسلام اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دادا والا طریقہ اختیار کرے۔ اسلام کے لئے صرف تاجر والا طریقہ ہی مفید اور کارگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یک طرفہ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جنگ کے بجائے صلح اور تشدد کے بجائے امن کی تاکید کی گئی ہے۔

اسلام کا مقصد لوگوں کا ذہن بدلنا اور ان کا دل جیتنا ہے۔ اور اس قسم کا سنجیدہ کام صرف پرامن طور پر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد کا طریقہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ معاون۔

…………

دین انسانیت

اسلام دینِ انسانیت ہے۔ خدا نے بار بار اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہدایت نامہ بھیجا۔ اسی خدائی ہدایت نامے کے محفوظ ایڈیشن کا نام اسلام ہے___ زیر نظر کتاب میں اسی پہلو سے اسلام کا فکری مطالعہ کیا گیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content