انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984)میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو مقالہ ہے، اس کے آخر میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بہت کم بڑے لوگ اتنا زیادہ بدنام کیے گئے ہیں جتنا کہ محمد کو بدنام کیا گیا۔ قرون وسطی کے یورپ کے مسیحی علماء نے ان کو فریبی اور عیاش اور خونی انسان کے روپ میں پیش کیا۔ حتیٰ کہ آپ کے نام کا ایک بگڑا ہوا تلفظ مہاونڈ(نعوذ باللہ) شیطان کے ہم معنی بن گیا۔ محمد اور ان کے مذہب کی یہ تصویر اب بھی کسی قدر اپنا اثر رکھتی ہے۔ انگریز مصنف ٹامس کارلائل پہلا قابل ذکر مغربی شخص تھا جس نے 1840 میں بتاکید عوامی طور پر کہا کہ محمدیقینا سنجیدہ تھے کیونکہ یہ فرض کرنا بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک فریبی آدمی ایک عظیم مذہب کا بانی ہو سکتا ہے
Few great men have been so maligned as Muhammad. Christian scholars of medieval Europe painted him as an impostor, a lecher, and a man of blood. A corruption of his name,'Mahound' even came to signify the devil. This picture of Muhammad and his religion still retains some influence. The English author Thomas Carlyle in 1840 was the first notable European to insist publicly that Muhammad must have been sincere, because it, was ridiculous to suppose an impostor would have been the founder of a great religion(12/609).
مغربی پروپیگنڈے کی تردید کے لیے ٹامس کارلائل نے یہاں جو دلیل استعمال کی ہے، وہی کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ درست اور یقینی ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح انسان اپنے کردار سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پڑھے، جو یہ دیکھے کہ روزوشب آپ کن سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے اور یہ کہ آپ کے اثر سے کس قسم کی تحریک برپا ہوئی، وہ ہر گز یقین نہیں کر سکتا کہ یہ سب نعوذ باللہ ایک فریبی انسان کا کارنامہ ہے۔
ایک شخص جس کے کلام میں تعمیر انسانیت کی باتیں ہوں، جس کا لہجہ درد اور سوز سے بھرا ہوا ہو،جس کے مشن سے لوگوں کی زندگیوں میں صالح انقلاب آ رہا ہو، وہ کبھی فریبی انسان نہیں ہو سکتا فریبی انسان ایک فریبی تحریک اٹھا سکتا ہے نہ کہ ایک صالح ربانی تحریک۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔