حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال اللہ کے نزدیک طلاق ہے(ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال( أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ ) سنن ابن ماجه،حدیث نمبر 2018۔معاذبن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے معاذ، اللہ نے زمین پر سب سے زیادہ محبوب چیز جو پیدا کی وہ غلام کو آزاد کرنا ہے، اور اللہ نے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز جو زمین پر پیدا کی وہ طلاق ہے(قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ، وَلَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ )سنن الدار قطنی، حدیث نمبر 3984۔
ان روایات سے نکاح و طلاق کے بارے میں اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی نکاح سے پہلے تو خوب سوچے۔ مگر نکاح کے بعد وہ صرف نباہنے کی کوشش کرے۔ اسلام میں غیر عورت کو بالقصد دیکھنا جائز نہیں۔ مگر مخطوبہ کو دیکھنے کی کھلی اجازت دی گئی۔ دوسری طرف طلاق کو ابغض المباحات قرار دیدیا گیا۔ گویا نکاح سے پہلے تحقیق کے لیے ممنوعہ حد تک جانے کی اجازت ہے۔ مگر نکاح کے بعد مباح حد کے اندر داخلہ بھی پسند نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔