Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

حسن معاشرت

Urdu · 7 min

قرآن کی سورۃ نمبر49 میں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: مسلمان سب بھائی بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسروں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والوں، بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے(49:10-12)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ان قرآنی آیتوں کا خطاب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں دونوں سے ہے۔ دونوں ہی کی فلاح کا طریقہ وہ ہے جو ان آیتوں میں بتایا گیا ہے۔

مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں کس طرح رہیں، اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ اس طرح رہیں جس طرح بھائی اور بہن آپس میں رہتے ہیں۔ بھائی اور بہن خونی رشتہ کی بنا پر باہم محبت کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ اسی طرح دینی بھائیوں اور دینی بہنوں کو بھی محبت اور خیر خواہی کے ساتھ باہم مل کر رہنا چاہیے۔

کوئی عورت یا مرد دوسرے کا مذاق کیوں اڑاتا ہے، اس لیے کہ وہ دوسرے کی بڑائی کو ماننا نہیں چاہتا۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کو جب کسی دوسرے کی کوئی نازک بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے اور اپنی بڑائی کی تسکین حاصل کر سکے۔

ایسے عورت اور مرد دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ دوسروں پر عیب لگاتے ہیں، وہ دوسروں کو برے نام سے یاد کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے اس جذبہ کو تسکین حاصل کریں کہ وہ دوسروں سے بڑے ہیں۔

مگر اچھا اور برا، یا بڑا اور چھوٹا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو کوئی عورت یا مرد بطور خود مقرر کر لے۔ اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو، اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔

اگر کسی عورت یا کسی مرد کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسروں کا مذاق اڑانا، دوسروں کو طعنہ دینا، دوسروں پر عیب لگانا، دوسروں کو برے لقب سے یاد کرنا، اس قسم کی تمام چیزیں ان کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گی۔ کیونکہ وہ جانیں گے کہ لوگوں کے درجہ اور مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

ایک عورت یا مرد کو کسی کے خلاف بدگمانی ہو جائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اس کی خوبیوں سے زیادہ اس کے نقائص تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے، یہ طریقہ انتہائی حد تک ایمان اور تقویٰ کے خلاف ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر معاشرتی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک اس معاملہ میں چوکنا رہے، وہ کسی بھی حال میں بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔

آپ کو کسی کے بارے میں الٹی خبر ملے تو اس کی تحقیق کیجئے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہو جائے تو اس سے مل کر اس کے بارے میں اس سے گفتگو کیجئے۔ یہ سخت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی دینے کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی کسی عورت یا مرد سے اس قسم کی ایک غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تو وہ اپنی غلطی پر ڈھیٹ نہ ہوں گے۔ ان کا خوف خدا ان کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہ کر دے گا۔ پھر وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ دیں گے اور اللہ سے معافی کے طالب بن جائیں گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content