Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

پہچان کا فرق

Urdu · 4 min

مکی دور کے آخر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک بار قریش مکہ کے سردار کعبہ کے اندر جمع ہوئے۔ انہوں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ محمدؐ کو بلا کر ان کے سامنے کچھ مطالبے رکھے جائیں۔ اگر وہ ان مطالبوں کو پورا کر یں تو ہم لوگ ان کا پیغمبر ہونا مان لیں۔ اور اگر وہ ان مطالبوں کو پورا نہ کریں تو ہمارے لیے ان کو رد کرنے کا معقول عذر ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ اس موقع پر انہوں نے آپ سے جو مطالبے کیے، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا: وَلْيَبْعَثْ لَنَا مَنْ مَضَىٰ مِنْ آبَائِنَا، وَلْيَكُنْ فِيمَنْ يُبْعَثُ لَنَا مِنْهُمْ قُصَيُّ بْنُ كِلَابٍ، فَإِنَّهُ كَانَ شَيْخًا صَدُوقًا، فَنَسْأَلَهُمْ عَمَّا تَقُولُ، أَحَقٌّ هُوَ أَمْ بَاطِلٌ(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 296)۔(اپنے رب سے کہیے) وہ ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دے جو کہ گزر گئے۔ اور جن کو وہ زندہ کرے ان میں قصی بن کلاب بھی ضرور ہوں، کیونکہ وہ بزرگ اور سچے تھے۔ پس ہم ان سے اس کی بابت پوچھیں جو تم کہتے ہو کہ وہ حق ہے یا باطل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں یہ سوال ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو تمام بزرگوں سے زیادہ بزرگ اور تمام سچے لوگوں سے زیادہ سچے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قدیم مکہ کے لوگوں کو قصی بن کلاب کا بزرگ اور سچا ہونا سمجھ میں آیا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بزرگ اور سچا ہونا ان کی سمجھ میں نہ آ سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قصی بن کلاب کی شخصیت ایک گزری ہوئی شخصیت تھی۔ زمانہ کے ساتھ ان کی حیثیت لوگوں کی نظر میں مسلم ہو چکی تھی۔ اس کے مقابل میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک معاصر شخصیت تھی۔ آپ کی بزرگی اور سچائی، اپنی تمام تر رفعتوں کے باوجود، ابھی ایک شخص کے اندرونی جوہر کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس وقت تک وہ خارجی تاریخ کے ذریعہ معروف و مسلم نہیں بنی تھی۔

اہل کفر صرف خارجی تاریخ کو دیکھ سکتے تھے، وہ پیغمبر کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ اہل ایمان نے اندرونی جوہر کی سطح پر پہچانا، اس لیے وہ پیغمبر کو فوراً پہچان گئے اور آپ پر ایمان لائے۔ آنکھ والا صرف وہ ہے جو کسی انسان کو اس کے جوہر کی بنیاد پر پہچانے۔ وہ شخص اندھا ہے جو کسی انسان کو صرف اس وقت پہچانے جب کہ اس کے گرد تاریخ کی تصدیقات جمع ہو چکی ہوں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content