فتح مکہ کا واقعہ 8 ھ میں پیش آیا۔ اس کے بعد آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مکہ سے طائف کا سفر فرمایا۔ اس سفر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا: قالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: ثُمَّ سَلَكَ في طَرِيقٍ يُقَالُ لَهَا: الضَّيِّقَةُ. فَلَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا، فَقَالَ: "مَا اسْمُ هذِهِ الطَّرِيقِ؟" فَقِيلَ: الضَّيْقَةُ. فَقَالَ: "بَلْ هِيَ الْيُسْرَى"(سیرت ابن ہشام، ،جلد2،صفحہ482 )۔ پھر آپ ایک راستہ میں چلے جس کو تنگ راستہ کہا جاتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے اس کا نام پوچھا۔ کہا گیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ آسان راستہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ تنگ ہے مگر بند تو نہیں۔ بظاہر اگرچہ یہ راستہ تنگ دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اگر ہمت اور احتیاط سے کام لیں تو یقینا ہم اس سے گزر سکتے ہیں۔ پھر تنگی کے باوجود اگر وہ ہمارے لیے رکاوٹ نہیں تو ہم اس کو تنگ کیوں کہیں۔ کیوں نہ ہم اس کو آسان کہیں۔ کیوں کہ اصل مقصد گزرنا ہے اور وہ اب بھی ہمیں حاصل ہے۔
یہ واقعہ اس طرح کے معاملات میں مومن کے مزاج کو بتاتا ہے۔ مومن چیزوں کو ان کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں دیکھتا بلکہ چیزوں کو ان کے باطن کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔ مومن معاملات کے تاریک پہلو کو نظرانداز کر دیتا ہے اور صرف اس کے روشن پہلو پر اپنی تمام توجہ لگا دیتا ہے۔ مومن کیا ہے کو نہیں دیکھتا، وہ ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا ہو سکتا ہے۔ مومن ناموافق پہلو کو اہمیت نہیں دیتا۔ وہ صرف موافق پہلو پر اپنی ساری نظریں جما دیتا ہے۔
مومن منفی سوچ سے مکمل طور پر پاک ہوتا ہے۔ اس کی سوچ تمام تر مثبت سوچ ہوتی ہے۔ مومن کی شخصیت کو بتانے کے لئے اگر نفسیاتی اصطلاح استعمال کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مومن ایک مثبت مفکر (positive Thinker) ہوتا ہے۔ یعنی مثبت ذہن رکھنے والا انسان۔
مومن کی یہ صفت اس کو بے پناہ بنا دیتی ہے۔ اس کے لئے رکاوٹیں بھی زینہ بن جاتی ہیں۔تنگ راستہ بھی اس کے لئے کشادہ راستہ بن جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔