حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر عمل بیچ کا عمل ہے (خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَطُهَا) شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 6229۔حضرت علیؓ کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے کہ تم درمیانی طریقہ اختیار کرو (عَلَيْكُمْ بِالنَّمَطِ الْأَوْسَطِ)تفسیر قرطبی،جلد2،صفحہ154۔
بیچ کے عمل سے مراد اعتدال کا عمل ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی اس آیت میں ہے: کہ خرچ کرنے کے معاملہ میں تم نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ (17:29) ۔اسی بات کو دوسری جگہ اس طرح فرمایا کہ اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اورنہ تنگی کرتے ہیں، اور ان کا خرچ اس کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے (25:67)۔
اس آیت کے مطابق، انفاق اوسط یہ ہے کہ نہ بہت زیادہ نہ بہت کم۔ بلکہ درمیانی مقدار جس کو آسانی کے ساتھ آدمی اختیار کر سکے___ اسی طرح نفل روزے، نفل نمازوں وغیرہ میں بھی یہ مطلوب ہے کہ آدمی بیچ کا راستہ اختیار کرے جس کو وہ دیر تک نباہ سکتا ہو۔
اس معتدل انداز کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملہ میں آدمی کو افراط اور تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملہ میں دو انتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے۔ یہی طریقہ دینی مزاج کے مطابق ہے اور اسی میں کامیابی ہے۔
یہ درمیانی طریقہ دوسرے لفظوں میں غیر جذباتی طریقہ ہے۔ کوئی صورت حال پیش آنے پر جب آدمی بے قابو ہو جائے تو وہ اعتدال پر نہیں رہتا، بلکہ ایک انتہا یا دوسری انتہا کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن جب آدمی اپنے جذبات کو قابو میں رکھے تو وہ سوچ کر اپنی کارروائی کا رخ متعین کرے گا۔ اور سوچ سمجھ کرکیا ہوا عمل معتدل عمل ہی ہوتا ہے۔ غیر معتدل آدمی دوستی میں بھی حد سے گزر جائے گا اور دشمنی میں بھی حد سے باہر چلا جائے گا۔ وہ کبھی ضرورت سے زیادہ پرامید ہو جائے گا اور کبھی ضرورت سے زیادہ مایوس۔ وہ غیر ضروری طور پر کسی کو بہت اچھا سمجھ لے گا اور کسی کو بہت زیادہ برا___ لیکن قدرت کا فیصلہ ہے کہ اس دنیا میں معتدل آدمی کامیاب ہو اور غیر معتدل آدمی ہمیشہ ناکام۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔