قرآن میں پہلے انسان (آدم) کی پیدائش کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے:اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام۔ پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علیم و حکیم ہے۔ اللہ نے کہا کہ اے آدم، ان کو بتاؤ ان لوگوں کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام (اور فرشتوں کا اشکال ختم ہو گیا) تو اللہ نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں ا ور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں ( 2:30-33)
فرشتوں کا یہ قول اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر بظاہر ایک اعتراض تھا۔ مگر اللہ نے اس پر زجر و توبیخ نہیں کی۔ بلکہ انھیں اصل منصوبہ کی تفصیل بتائی۔ اس کے بعد ان کا اشکال اپنے آپ ختم ہو گیا۔ اور شبہ کی جگہ یقین واپس آ گیا۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے آغاز انسانیت میں خود اپنی ذات کمال سے یہ نمونہ قائم فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں اعتراض یا اشکال ظاہر کرے تو خود اعتراض پر اسے مطعون نہیں کیا جائے گا بلکہ اصل معاملہ کی وضاحت کی جائے گی تاکہ مکمل صورت حال سامنے آ جائے۔ گویا جو واقعہ آئندہ تاریخ میں انسانوں کے درمیان پیش آنے والا تھا، اس کو خدا اور فرشتوں کے درمیان واقع کر کے عملی طور پر بتا دیا گیا کہ اس طرح کے مواقع پر انسان کو کس قسم کا رویہ اپنانا چاہیے۔
اس واقعہ میں یہ بھی مثال ہے کہ جب معاملہ کی وضاحت کر دی جائے تو معترض کو فوراً اسے دل سے قبول کر لینا چاہیے۔ اس واقعہ میں ایک طرف اگر اعتراض کا نمونہ ہے تو دوسری طرف اس میں اعتراف کا بھی اعلیٰ نمونہ موجود ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔