ایک حدیثِ رسول میں ہم کو یہ پیشن گوئی ملتی ہے کہ بعد کے زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لیے ہندوستان میں ایک مخصوص گروہ، یعنی عصابہ، اٹھے گا۔ النسائی، رحم الحدیث 3175۔ یہ مخصوص دعوتی گروہ انڈیا میں بھی دعوت الی اللہ کا کام اسی طرح کرے گا جس طرح وہ عالمی سطح پر دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دے گا، اور لوگوں کو جنت کا راستہ دکھائے گا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ ہندوستان میں دعوت الی اللہ کا کام اس طرح منظم ہو کہ اس کے ذریعے لوگ خدا کی ابدی رحمت کے سائے میں آ سکیں۔
مذکورہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں اٹھنے والا یہ دعوتی گروہ عذابِ جہنم سے محفوظ رہے گا، أَحْرَسَهُمَ اللَّهُ مِنَ النَّارِ جنت کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے، اور یہ لوگ خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔ اس لیے آپ کو اس دعوتی کام میں پورے یقین کے ساتھ بھرپور طور پر شامل ہو جانا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس دعوتی گروہ کا ناقابلِ تقسیم حصہ بنائیں۔ اگر آپ نے اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو پورا کیا تو خدا آپ کو ضرور اس دعوتی گروہ میں شامل فرمائے گا جس کے لیے اس کی طرف سے پیغمبرِ اسلام کے ذریعے پیشگی طور پر بشارت دے دی گئی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.