Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Dawat Ilallah
Dawat Ilallah

اخوانِ رسول کا رول

Urdu · 3 min

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس میں آپ نے اپنے اخوان کا ذکر فرمایا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَ لَسْنَا إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ أَنْتُمَ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ. صحیح مسلم، رقم الحدیث 367۔

یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ مذکورہ حدیث میں پیغمبرِ اسلام نے اپنے جن اخوان کے متعلق بتایا ہے، ان سے مراد وہ اہلِ ایمان ہیں جو معرفت کی سطح پر رسول کو پہچانیں گے، اور بعد کے زمانے میں وہ دعوتی مقصد کے لیے اٹھیں گے تاکہ سارے انسانوں کو خدا کا ابدی پیغام پہنچا دیں۔

اخوانِ رسول معروف معنوں میں کوئی ٹائٹل نہیں، بلکہ وہ ایک ذمہ داری ہے۔ اخوانِ رسول کا لفظ تقریباً ہزار سال سے پراسرار بنا ہوا ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں متعین طور پر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اخوانِ رسول کون لوگ ہوں گے اور مستقبل میں ان کا رول کیا ہوگا۔ اس حدیث سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ما بعد سائنس دور، یعنی پوسٹ سائنٹیفک ایرا میں دعوت الی اللہ کا پیغمبرانہ رول ادا کرنا ابھی باقی ہے۔

یعنی آج کی زبان میں خدائی سچائی کو اس کی خالص اور بےعامس صورت میں انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔ ما بعد سائنس دور میں اٹھنے والی دعوتی ٹیم اخوانِ رسول کے اس ٹائٹل کے لیے یقینی طور پر ایک امیدوار گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ میں سے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس امکان کو واقعہ بنائے۔ اس امکان کو واقعہ بنانا اس طرح ممکن ہے کہ سب سے پہلے آپ خود اسلام کی معرفت حاصل کریں، اس کے بعد آپ قرآن کے انگریزی ترجمے کی اشاعت اور الرسالے کی مطبوعہ کتابوں کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا کام کریں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر سارے انسانوں کی خیرخواہی کی اسپرٹ موجود ہو۔ آپ تمام انسانوں کے حقیقی خیرخواہ بن کر اٹھیں۔ آپ کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور ہمدردی ہو۔ آپ کا ٹارگٹ کیا ہو؟

اس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: لَا يَبْقَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ. مسند احمد، رقم الحدیث 23183۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر اور کوئی خیمہ ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرما دے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں، یہ امکانات دعوت کا اظہار ہے۔

یہ اس دور کی پیشنگوئی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ کا ظاہرہ سامنے آئے گا، اور اس کو استعمال کر کے ہر انسان تک کلمہ اسلام کو پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔ یہ کام صرف اس طرح ممکن ہے کہ ہم دعوت الی اللہ کو اپنا اولین کنسن، یعنی پرائمری کنسن بنا کر دوسری تمام چیزوں کو اپنی زندگی میں ثانوی، یعنی سیکنڈری حیثیت دے دیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.