← Dawat IlallahDawat Ilallah
دعوت الی اللہ امت مسلمہ کی ذمہ داری
Urdu · 20 min
قرآن کی سورہ البقرہ میں امت محمدی کو امت وسط، سورہ نمبر 2 آیت 143 کہا گیا ہے، یعنی بیچ کی امت، یعنی مڈل کمیونٹی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی رسول اور عام انسانوں کے درمیان ہے۔ اس کو رسول سے جو خدائی ہدایت ملی ہے، اس کو نسل در نسل تمام انسانوں تک پہنچانا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں "وسط" کا لفظ استعمالی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے اصل معنی میں ہے، یعنی درمیانی امت کے معنی میں۔ اس آیت میں امت وسط کا لفظ امت کے مشن یا اس کی داعیانہ ذمہ داری کو بتا رہا ہے؛ وہ ہرگز کسی قسم کی پراسرار فضیلت کا بیان نہیں۔ قرآن کی اس آیت میں امت محمدی کے داخلی اوصاف کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں امت کی خارجی ذمہ داری کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ خارجی ذمہ داری یہ ہے کہ امت اللہ کے نقشۂ تخلیق، یعنی کرییشن پلان آف گاڈ سے لوگوں کو باخبر کرے۔
وہ ہر زمانے اور ہر نسل میں اس دعوتی کام کو جاری رکھے۔ یہ دعوتی مشن ہی وہ مشن ہے جس کی ادائیگی پر امت محمدی کا امت محمدی ہونا متحقق ہوتا ہے۔ اس معاملے میں امت کے لیے دعوتی عمل کے تین درجے ہیں۔ امت کے ہر فرد کو اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ان میں سے کسی درجے میں اپنے داعی ہونے کی حیثیت کو ثابت شدہ بنانا ہے۔
جو لوگ اس عمل میں شرکت نہ کریں، ان کے دوسرے اعمال خدا کی نظر میں بے قیمت ہو جائیں گے۔ اس معاملے میں خدا کا جو معیار ہے، وہ پیغمبر اور پیغمبر کی امت دونوں کے لیے یکساں ہے۔ اس معاملے کا پہلا درجہ وہ ہے جس کو شریعت میں "نیت" کہا جاتا ہے، یعنی نیت کے اعتبار سے دعوت کے عمل میں شریک ہونا۔ تاہم یہ نیت کسی لفظی تکرار کا نام نہیں، یہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ تڑپنے کا نام ہے۔
ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسری قوموں کی ہدایت کا حریص ہو۔ وہ ان کی گمراہیوں کو دیکھ کر بے چین ہو جائے۔ وہ اپنی تنہائیوں میں ان کی ہدایت کے لیے دعا کرے۔ یہ جذبہ اتنا شدید ہو کہ اس پر سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑیں۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ اہل ایمان شدت کے ساتھ اس کا اہتمام کریں کہ ان کی ذات کسی بھی اعتبار سے دعوت کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ وہ کوئی بھی ایسا عمل نہ کریں جو لوگوں کے دل میں اسلام کے خلاف نفرت اور بیزاری پیدا کر دے۔ وہ ایسے ہر عمل سے مکمل پرہیز کریں جو داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے والا ہو۔ وہ ہر حال میں اس کا اہتمام کریں، خواہ اس کے لیے انہیں قومی یا اقتصادی یا سیاسی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
تیسری چیز براہ راست دعوت ہے، یعنی خدا کے بندوں کو دینِ حق کی طرف بلانا۔ دعوت اور تبلیغ کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف بلانا، انسان کو اس کے خالق اور مالک کے ساتھ جوڑنا۔ اللہ کی طرف بلانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو یہ بتایا جائے کہ اللہ کی زمین پر تمہارے لیے زندگی کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ تم اللہ کے بندے بن کر رہو۔ انسان کے لیے دنیا کی زندگی میں صرف دو رویے ممکن ہیں: ایک خود رخی اور دوسرا خدا رخی۔
خود رخی زندگی، یعنی سیلف اورینٹڈ لائف، میں گھمنڈ اور حسد اور انانیت جیسے جذبات جاگتے ہیں۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ حق وہ ہے جس کو وہ حق سمجھے، اور باطل وہ ہے جس کو وہ باطل قرار دے۔ خدا رخی زندگی، یعنی گاڈ اورینٹڈ لائف، کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ خدا رخی زندگی آدمی کے اندر عبدیت، تواضع، اعتراف اور خود احتسابی جیسے جذبات ابھارتی ہے۔
پہلی صورت میں انسان اگر خود پرست بن جاتا ہے تو دوسری صورت میں خدا پرست۔ دعوت الی اللہ یہ ہے کہ انسان کو خود رخی زندگی کے برے انجام سے آگاہ کیا جائے اور اس کو خدا رخی زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی جائے۔ ان دونوں قسم کی زندگیوں کو جاننے کا معتبر اور مستند ماخذ خدائی تعلیمات ہیں، جو قرآن اور سنت کی صورت میں محفوظ طور پر ہمارے پاس موجود ہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام ایک خالص اخروی نوعیت کا کام ہے؛ قومی یا اقتصادی یا سیاسی معاملات سے براہ راست اس کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ انسان کو خدا اور آخرت کی طرف بلانے کی ایک مہم ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خالص خدائی کام ہے۔ ضروری ہے کہ اس کو اسی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اس اسپرٹ کے بغیر جو کام کیا جائے، وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ ہوگا، خواہ اس کو دعوت الی اللہ کے نام پر جاری کیا گیا ہو۔
دعوت الی اللہ نہ سیاست کی طرف بلانے کا کام ہے اور نہ قومی مسائل کی طرف بلانا اس کا نشانہ ہے۔ یہ مکمل طور پر خدا کی طرف بلانے کا ایک کام ہے، اور اسی خاص صورت میں اس کو ادا کیا جانا چاہیے۔ خدا کی طرف بلانے سے کیا مراد ہے؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کیا جائے۔
اس کو بتایا جائے کہ خدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے، اور خدا آئندہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ گویا انسان کو خدا سے متعارف کرنے کا ایک کام ہے۔ دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کی غفلت ٹوٹے، اور وہ اپنی بندگی کا ادراک کر کے خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس دعوتی عمل کا نشانہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ذات کو پہچانے۔
وہ خدا کی قدرت کے مقابلے میں اپنے عجز کو دریافت کرے۔ غیب کا پردہ پھاڑے جانے سے پہلے وہ خدا کا مشاہدہ کرے۔ خدا سے براہ راست سابقہ پیش آنے سے پہلے وہ بالواسطہ طور پر خدا کی معرفت حاصل کرے۔ دعوت کا مقصد انسان کے اندر سوئی ہوئی روح کو جگانا ہے۔
یہ بھٹکے ہوئے انسان کو خدا کی طرف جانے، خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر کھڑا کرنا ہے۔ دعوت کا مقصد انسان کے اندر سوئی ہوئی روح کو جگانا ہے۔ یہ بھٹکے ہوئے انسان کو خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر کھڑا کرنا ہے۔ دعوت کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اس بصیرت کو جگایا جائے جو کائنات کی نشانیوں میں خدا کے جلووں کو دیکھنے لگے، جو مخلوقات کے آئینے میں اس کے خالق کو بلا حجاب پا لے۔
دعوت ایک انسان کو اس قابل بنانے کا نام ہے کہ وہ براہ راست اپنے رب سے مربوط ہو جائے۔ اس کو روحانی سطح پر خدا کا فیضان، یعنی ڈیوائن انسپیریشن، پہنچنے لگے۔ اس کے دل و دماغ خدا کے نور سے منور ہو جائیں۔ اس کا پورا وجود خدا کی رحمت کی بارش میں نہا اٹھے۔
دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ آدمی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی مخلوق بن جائے۔ وہ دنیا کی عظمتوں میں خدا کی عظمت کو دریافت کرے۔ وہ دنیا کی نعمتوں میں جنت کی نعمتوں کا تجربہ کرنے لگے۔ دنیا کی تکلیفیں اس کو جہنم کی تکلیف یاد دلائیں۔
دنیا کے مناظر اس کو آخرت کی حقیقتوں کا مشاہدہ کرانے لگیں۔ یہی دعوت کا نشانہ ہے۔ اور ایسے ہی انسانوں کو وجود میں لانا دعوت اور داعی کی کامیابی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا، پھر اس کو گرا کر اسفل السافلین میں ڈال دیا۔
سورہ نمبر 95 آیت 4 تا 6۔ دعوتی عمل کا مقصد انسان کو دوبارہ اس کی اصل ابتدائی حالت کی طرف لوٹانا ہے۔ جنت سے نکالے جانے کے بعد دوبارہ اس کو جنت کے راستے پر ڈالنا ہے۔ خدا کی رحمت سے دور ہونے والوں کو دوبارہ خدا کی رحمت کے سائے میں پہنچا دینا ہے۔
انسان کی مثال ایسی ہے جیسے پانی کی ایک مچھلی، جس کو پانی سے نکال کر صحرا میں ڈال دیا جائے۔ ایسی مچھلی صحرا میں مسلسل تڑپ رہی ہوگی۔ اور اس کے ساتھ بہترین ہمدردی یہ ہوگی کہ اس کو دوبارہ پانی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ انسان بھی اسی طرح جنت کی ایک مخلوق ہے۔
اس کے اندر ایک نامعلوم آئیڈیل کو پانے کا جذبہ بے پناہ حد تک پایا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اس نامعلوم آئیڈیل کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ وہ بار بار دنیاوی رونق والی کسی چیز کی طرف لپکتا ہے، اس امید میں کہ وہ جس آئیڈیل کی تلاش میں ہے، وہ شاید یہی ہے۔ مگر ہر بار اسے ناکامی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے، بغیر اس کے کہ اس نے اپنے آئیڈیل کو پایا ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں داعی کو اپنا دعوتی عمل انجام دینا ہے۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ جس آئیڈیل کی تلاش میں ہے، وہ صرف خدا اور اس کی جنت ہے۔ یہ صرف خدا ہے جس کو پا کر آدمی اپنے آئیڈیل کو پائے گا۔ یہ صرف جنت ہے جہاں پہنچ کر آدمی اس اطمینان سے دوچار ہوگا کہ وہ جس دنیا کی تلاش میں تھا، وہ دنیا اسے حاصل ہو گئی۔
اس اعتبار سے ہر انسان داعی کا نشانہ ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان داعی کا نشانہ ہے۔ داعی کو ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ اسے ہر آنکھ پر پڑے ہوئے پردے کو ہٹانا ہے۔
گویا دنیا میں اگر 7 بلین انسان ہیں تو داعی کو 7 بلین کام کرنا ہے۔ اسے 7 بلین روحوں کو ان کے خدا سے ملانا ہے۔ اسے 7 بلین انسانوں کو ان کی جنتی قیام گاہ تک پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔ داعی وہ ہے جو زندگی کے راستوں پر روشنی کا مینار بن کر کھڑا ہو جائے۔
جو انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لیے خدائی رہنما بن جائے۔ قرآن کی سورہ الزاریات میں پیغمبر کی زبان سے کہا گیا ہے کہ "فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ"۔ سورہ 51 آیت 50۔ یعنی اے لوگو!
اللہ کی طرف دوڑو، میں اس کی طرف سے تمہارے لیے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اسی بات کو دوسری جگہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت"۔ سورہ نمبر 16 آیت 36۔ یعنی اے لوگو!
اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ اس دنیا میں انسان دو پکاروں کے درمیان ہے: ایک خدا کی پکار اور دوسرے طاغوت یعنی شیطان کی پکار۔ خدا خیر کا سرچشمہ ہے، وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کے برعکس شیطان شر کا سرچشمہ ہے، وہ لوگوں کو شر کے راستوں کی طرف بلاتا ہے۔
آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب میں نہ آئے اور شیطان کو چھوڑ کر وہ خدا کی طرف دوڑ پڑے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اسی دو طرفہ تقاضے کے درمیان ہے۔ ہر آدمی ایک داخلی جنگ کے محاذ پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا ضمیر یعنی کانشیسنس ہے، جو اس کو خدا کی طرف کھینچتا ہے۔
دوسری طرف اس کی انا یعنی ایگو ہے، جو اس کو دھکیل کر شیطان کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ ضمیر خدا کا نمائندہ ہے اور انانیت شیطان کی نمائندہ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ انسان کے اندر ذہنی بیداری لا کر اس کو اس قابل بنائے کہ وہ اس دو طرفہ تقاضے کو پہچانے۔
وہ اپنی انانیت پر روک لگائے اور ضمیر کی آواز کو تقویت دے۔ وہ شیطان کی ترغیبات سے بچ کر خدا کے اس راستے کا مسافر بن جائے جو اس کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ یہ دعوتی کام زمین پر ہونے والے تمام کاموں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ پیغمبروں والا کام ہے۔
جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں، ان کو نہایت خصوصی انعامات سے نوازا جائے گا۔ قرآن کی سورہ نمبر 7 میں اصحاب اعراف کا ذکر ہے، یعنی بلندیوں والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اونچے ممبروں پر کھڑے کیے جائیں گے اور اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کے بارے میں خدا کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ ان آیت کا ترجمہ یہ ہے: "اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔
" وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، مگر وہ اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔ اور اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جنہیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔
وہ کہیں گے کہ تمہارے کام نہ آئی تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی؟ جنت میں داخل ہو جاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ سورہ نمبر 7 آیت 46 تا 49۔
اس آیت میں اصحاب اعراف سے مراد شہداء ہیں، یعنی خدا کے وہ خاص بندے جنہوں نے دنیا میں قوموں کے اوپر خدا کے دین کی گواہی دی اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے انکار کیا۔ تفسیر القرطبی جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 211۔ ان شہداء کے لیے قرآن میں مختلف الفاظ آئے ہیں، مثلاً منذر، مبشر، داعی وغیرہ۔ اس گروہ میں اولاً انبیاء شامل ہیں، اور اس کے بعد اللہ کے وہ خاص بندے جنہوں نے انبیاء کے نمونے کو لے کر اپنے زمانے کے لوگوں پر دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا۔
تاہم قیامت میں لوگوں کے ابدی انجام کا جو فیصلہ ہونے والا ہے، وہ اسی کار شہادت یعنی دعوت کی بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں ان کے اوپر انجام دیا گیا تھا۔ یہ کار شہادت دنیا ہی میں انسانوں کو دو گروہوں میں بانٹ رہا ہے: ایک اس کو قبول کرنے والے اور دوسرے اس کا انکار کرنے والے۔ قیامت میں یہ دوسرے قسم کے لوگ ایک دوسرے سے، ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے، اور پھر دونوں کے لیے ان کے عمل کے مطابق دو مختلف انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اگرچہ تمام تر خدا کا فیصلہ ہوگا، تاہم اس فیصلے کا اعلان انہی خصوصی بندوں کے ذریعے کرایا جائے گا جنہوں نے دنیا میں دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا تھا۔
یہ ان کے حق میں ایک غیر معمولی اعزاز ہوگا۔ اس اعلان کے لیے قیامت کے میدان میں اونچے اسٹیج بنائے جائیں گے جن کے اوپر یہ اصحاب اعراف کھڑے ہوں گے۔ وہاں سے وہ ہر ایک کو دیکھیں گے اور ہر ایک کے بارے میں خدائی فیصلے سے اس کو باخبر کریں گے۔ شہداء اور دعا یعنی داعیوں نے دنیا میں خدا کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کے لیے محنت کی تھی۔
اس عمل کی بنا پر ان کو یہ امتیازی انعام دیا جائے گا کہ قیامت میں وہ بلندیوں پر کھڑے ہوں گے اور اس دعوت حق کے آخری انجام سے لوگوں کو باخبر کریں۔ دنیا میں وہ اپنے مقصد کے اعتبار سے بلند تھے اور قیامت میں وہ اس کے عملی انجام کے اعتبار سے بلند قرار دیے جائیں گے۔ خدا پر ایمان لانے کے بعد ایک بندے سے عملی طور پر جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں دو قسم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اطاعت خدا اور نصرت خدا۔ اطاعت خدا سے مراد یہ ہے کہ بندہ ان تمام اوامر و نواہی پر عمل کرے جو خدا کی طرف سے رسول کے ذریعے بتائے گئے ہیں۔
وہ ان تمام حکموں کو اپنی زندگی میں اختیار کرے جن کو اختیار کرنے کی خدا نے تاکید کی ہے۔ اور ان تمام چیزوں سے بچنے، بچے جن سے بچنے کا خدا نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے یا اپنے رسول کے ذریعے جن کا اعلان فرمایا ہے۔ نصرت خدا کا مطلب ہے خدا کی مدد کرنا۔ یہ ایک انوکھا شرف ہے جو کسی صاحب ایمان آدمی کو ملتا ہے۔
اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یہ چونکہ خود خدا کا ایک مطلوب عمل ہے جو بندے کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے، اسی لیے اس کو نصرت خدا یعنی خدا کی مدد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ عبادت، اخلاق اور معاملات میں خدا کے احکام کی تعمیل بندے کی اپنی ضرورت ہے۔ اس کے ذریعے بندہ اپنی بندگی کو ثابت کر کے خدا کے انعام کا مستحق بنتا ہے۔
مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق یہ اللہ کے اوپر سے حجت۔ سورہ نمبر 4 آیت 165۔ کو اٹھانا ہے۔
امتحان کی مصلحت کی بنا پر یہ کام انسانوں کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے۔ یہ ایک خدائی عمل ہے جس کو کچھ انسان خدا کی طرف سے انجام دیتے ہیں اور پھر خدا کے یہاں سے وہ اس کا انعام پاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ ساری انسانیت کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر آپ ایک محدود مدت تک دنیا میں رہے۔
اس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی امت آپ کے اس کام کے ذمہ دار ہے۔ اپنی زندگی میں آپ نے براہ راست طور پر اس کام کو انجام دیا۔ آپ کے بعد یہ کام بالواسطہ طور پر آپ کی امت کے ذریعے انجام پائے گا۔
آپ کی امت کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ نسل در نسل ہر زمانے کے لوگوں کے سامنے اس دین کا پیغام پہنچاتی رہے جو دین آپ خدا کی طرف سے لائے اور جو قیامت تک اسی حال میں محفوظ رہے گا۔ اس معاملے کی مزید تشریح ایک حدیث سے ہوتی ہے جس کو مشہور سیرت نگار محمد ابن اسحاق وفات 768 عیسوی نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے دعوتی مشن کے بارے میں بھی فرمایا ہے اور خود اپنے بارے میں بھی۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ 623 عیسوی کی ادائیگی کے بعد ایک دن اپنے اصحاب کے سامنے آئے۔
آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم اس معاملے میں مجھ سے اختلاف نہ کرو جیسا کہ مسیح کے حواریوں نے اختلاف کیا تھا۔ آپ کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول!
حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ مسیح نے اپنے حواریوں کو اس کام کی طرف بلایا جس کی طرف میں تم کو بلایا، میں نے تم کو بلایا ہے۔ پس مسیح نے جس کو قریبی مقام پر جانے کے لیے کہا، وہ راضی رہا اور تیار ہو گیا، اور جس کو دور کے مقام پر جانے کے لیے کہا تو اس نے ناگواری ظاہر کی اور وہ اس پر گناہ گزرا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مختلف سرداروں اور حاکموں کی طرف اپنی دعوت کے ساتھ روانہ کیا۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب کے سامنے آئے اور اس دعوتی کام کی طرف انہیں توجہ دلائی تو ان سے کہا کہ اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ اللہ تمہارے اوپر رحم فرمائے۔ ان اللہ رحمت اللہ۔
سیرت ابن ہشام جلد چار صفحہ 278۔ زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کسی انسان کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ ایک ایسے کام کے لیے سرگرم ہو جو براہ راست طور پر خود خدا کا کام ہے۔ زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کسی انسان کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ ایک ایسے کام کے لیے سرگرم ہو جو براہ راست طور پر خود خدا کا کام ہو، جو گویا خداوند ذوالجلال کی نیابت ہے۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا اعزاز ہے جس سے بڑا کوئی اعزاز ممکن نہیں۔
خدا قادر مطلق ہے۔ وہ ہر معلوم اور نامعلوم کام کو انجام دینے کی مکمل قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے پتھروں کو گویا کر دے۔ وہ درخت کی ہر پتی کو زبان بنا دے جس سے وہ خدا کے پیغامات کا اعلان کرنے لگے۔
مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کے پیغام کی پیغام رسانی خود انسان ہی انجام دے تاکہ التباس سورہ نمبر چھ آیت نو کا پردہ باقی رہے تاکہ امتحان کی مصلحت مجروح نہ ہونے پائے۔ اس صورتحال نے انسان کے لیے عظیم ترین عمل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جو لوگ دعوت کے اس خدائی عمل کے لیے اٹھیں، ان کو دنیا کی زندگی میں نہایت خصوصی مدد حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں ان کو اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جائے گا۔
ایک انسان جب نماز پڑھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے آگے اپنے عز کا اقرار کر رہا ہو، کر رہا ہے۔ ایک انسان جب نماز پڑھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے آگے اپنے عز کا اقرار کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں جب وہ دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خود خدا کا ایک کام انجام دے رہا ہے۔ کسی انسان کے لیے بلاشبہ اس سے زیادہ لذیذ کوئی تجربہ نہیں کہ وہ یہ محسوس کرے کہ میں اپنے رب کے کام میں مصروف ہوں۔
میں اپنے رب کے ایک منصوبے کی تکمیل کر رہا ہوں۔ کتاب دعوت الی اللہ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر ایک۔