Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Daure Dawat
Daure Dawat

ایک حدیثِ رسول

Urdu · 1 min

ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الله لا يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر. صحیح البخاری، رقم الحدیث 3062۔ یعنی: بے شک اللہ اس دین کی تائید فاجر شخص سے کرے گا۔ اس حدیث میں فاجر سے مراد وہی شخص ہے جس کو موجودہ زمانے میں "سیکولر" کہا جاتا ہے۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک دین کی تعلیم اور دین کی تشریح کا تعلق ہے، اس کو صرف مخلص اور مومن لوگ ہی انجام دیں گے۔ لیکن وسیع تر معنوں میں دین کی ایک اور ضرورت ہے، اور وہ تائیدِ دین ہے۔ یہ تائیدی رول، یعنی سپورٹنگ رول، کوئی بھی شخص انجام دے سکتا ہے، حتیٰ کہ سیکولر افراد یا سیکولر نظام بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر عبداللہ ابن ارقد کا سفری رہنما کا رول سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 485، اسی قسم کے ایک تائیدی رول کی حیثیت رکھتا ہے۔

اگر یہ مانا جائے کہ کمال اتاترک محض ایک سیکولر آدمی تھے، وہ نہ کوئی مذہبی آدمی تھے اور نہ ان کا مشن کوئی مذہبی مشن تھا، تب بھی یہ ماننا ہوگا کہ مذکورہ حدیث کے مطابق اسلام یا مسلمانوں کے لیے کمال اتاترک کا تائیدی رول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.