Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Daure Dawat
Daure Dawat

حکمت کی افاقیت

Urdu · 2 min

ایک حدیثِ رسول، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، وغیرہ کتبِ حدیث میں آئی ہے۔ مسند الشہاب القضائی کے الفاظ یہ ہیں: «الحكمة ضالة المؤمن، حيث ما وجد المؤمن ضالته فليجمعها إليه» حدیث نمبر 146۔ یعنی حکمت مومن کا گمشدہ مال ہے؛ جہاں بھی مومن اپنے گمشدہ مال کو پائے، وہ اس کو اپنے پاس اکٹھا کر لے۔ حکمت یعنی wisdom کی بات کیوں مومن کا حق ہے؟

اس کا سبب یہ ہے کہ ہر حکمت ایک ربانی عطیہ ہے، اور جو چیز ربانی عطیہ یعنی divine gift ہو، وہ کسی کی اجارہ داری یعنی monopoly نہیں ہو سکتی۔ ہر ربانی عطیہ ایک افاقی نعمت ہے، اور افاقی نعمت میں ہر انسان کا مشترک حصہ ہوتا ہے۔ حکمت سے مراد مادی تخلیقات بھی ہیں اور حکمت و بصیرت کی باتیں بھی۔ جس طرح سورج اور پانی خالق کا افاقی عطیہ ہے، اسی طرح قانونِ فطرت یعنی law of nature میں تحقیق سے حاصل ہونے والی حقیقتیں بھی افاقی نعمتیں ہیں؛ وہ ہر انسان کا حصہ ہیں، مومن کا بھی اور غیر مومن کا بھی۔

عطیاتِ الہی میں تفریق یقیناً جائز نہیں۔ عطیاتِ الہی کے بارے میں یہ افاقی نظریہ ایک انقلابی نظریہ ہے؛ وہ انسان کی سوچ کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ محققین جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر کے فطرت کے قوانین کو دریافت کیا، وہ شخصیتیں بھی پوری انسانیت کا حصہ ہیں۔ اس طرح یہ نظریہ آدمی کے اندر ایک universal outlook پیدا کرتا ہے۔

اس کے بعد متعصبانہ طرزِ فکر کی جڑ کٹ جاتی ہے، دوست اور دشمن کی تفریق ختم ہو جاتی ہے، ہر انسان کو دوسرا انسان اپنا دوست نظر آنے لگتا ہے۔ یہ نظریہ نفرت کا قاتل ہے، وہ عالمی محبت کو فروغ دینے والا ہے۔ اس حدیث میں حکمت سے مراد صرف حکمتِ دین نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہر وہ حکمت ہے جو درست اور مفید ہو، جو حقیقتِ واقعے کے مطابق ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.