خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی انسان کا سب سے بڑا خواب ہے۔ ہر آدمی اس تمنا کو لے کر پیدا ہوتا ہے، مگر ہر آدمی اس تمنا کو پورا کیے بغیر مر جاتا ہے۔ اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ اپنے خواب کی تعبیر اسی موجودہ دنیا میں چاہتے ہیں، مگر موجودہ دنیا اس آرزو کی تکمیل کے لیے کافی نہیں۔
ہم اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی طرف ابھی سفر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم کو موت آ جاتی ہے۔ ہم مشینی ترقیاں وجود میں لاتے ہیں، مگر نئے نئے مسائل پیدا ہو کر ساری ترقی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہم اپنی پسند کے مطابق اپنا ایک گھر بناتے ہیں، مگر دوسرے انسانوں کا بغض، حسد، گھمنڈ، ظلم اور انتقام ظاہر ہو کر ہم کو الجھا دیتے ہیں، اور ہم اپنے آشیانے کو خود اپنی آنکھوں سے بکھرتا ہوا دیکھ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ آدمی کی تمنائیں بجا ہیں، مگر ان کے پورا ہونے کی جگہ موت کے بعد آنے والی دنیا ہے، نہ کہ موت سے پہلے کی دنیا۔
یہی وہ عقیدہ ہے جو ہماری موجودہ زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔ اس کے بعد موجودہ دنیا جدوجہد کی دنیا بن جاتی ہے، اور اگلی دنیا جدوجہد کا انعام پانے کی دنیا۔ موجودہ دنیا کو منزل سمجھنے کی صورت میں آدمی مایوسی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچتا، جبکہ آخرت کی دنیا کو منزل سمجھنے کا عقیدہ اس کے سامنے ابدی سکون کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں کھونے کے سوا اور کچھ نہ ہو، وہاں وہی نظریہ صحیح ہو سکتا ہے جو کھونے میں پانے کا راز بتاتا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.