Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Daee aur mad'u ka ta'alluq

Urdu · 7 min

داعی اور مدعو کا تعلق۔ دوسرا اہم مسئلہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنا ہے۔ امت مسلمہ کی حیثیت سے مسلمان خدا کے دین کے داعی ہیں، اور بقیہ تمام قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ انہوں نے دوسری قوموں کو اپنا قومی حریف اور مادی رقیب بنا لیا ہے۔

ان قوموں سے وہ ساری دنیا میں معاشی اور سیاسی جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ قرآن میں داعی کا کلمہ "لا أسألكم عليه أجراً" سورہ نمبر 11 آیت 51 میں بتایا گیا ہے، یعنی "میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا"۔ ایسی حالت میں حقوق طلبی کے یہ تمام ہنگامے اپنی دعوتی حیثیت کی نفی کے ہم معنی ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے یہاں ہم کو خدا کے گواہ کا مقام حاصل ہو، تو ہم کو یہ قربانی دینی ہوگی کہ دوسری اقوام سے ہمارے دنیاوی جھگڑے، خواہ وہ بظاہر درست کیوں نہ ہوں، ان کو ہم ایک طرفہ طور پر ختم کر دیں۔

تاکہ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان وہ معتدل فضا وجود میں آئے، جس میں ان کے سامنے توحید اور آخرت کی دعوت پیش کی جائے، اور وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کر سکیں۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں مسلمانوں نے ایک طرفہ طور پر مخالفینِ اسلام کے تمام معاشی اور قومی مطالبات مان لیے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق سے دستبرداری پر خود اپنے ہاتھ سے دستخط کر دیے تھے۔

مگر جب مسلمان یہ معاہدہ کر کے لوٹے تو خدا کی طرف سے یہ آیت اتری: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا سورہ نمبر 48 آیت 1۔ بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔ بظاہر شکست کے معاہدے کو خدا نے فتح کا معاہدہ کیوں کہا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدے نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مقابلے کے میدان کو بدل دیا تھا۔

اب اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ ایک ایسے میدان میں منتقل ہو گیا تھا جہاں اسلام واضح طور پر زیادہ بہتر حیثیت، یعنی advantageous position میں تھا۔ غیر مسلموں کی جارحیت کی وجہ سے اس وقت اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہو رہا تھا۔ غیر مسلموں کے پاس ہر قسم کے زیادہ بہتر جنگی وسائل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد مسلسل غزوات کے باوجود معاملے کا فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔

اب حدیبیہ میں غیر مسلموں کے تمام قومی مطالبات مان کر ان سے یہ عہد لیا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان 10 سال تک براہ راست یا بالواسطہ کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ مسلسل جنگی حالات کی وجہ سے اسلام کا دعوتی کام رکا ہوا تھا۔ جنگ بند ہوتے ہی دعوت کا کام پوری قوت کے ساتھ ہونے لگا۔ جنگی میدان میں اس وقت اسلام کمزور تھا۔

مگر جب مقابلہ پرامن تبلیغ کے میدان میں آ گیا تو یہاں شرک کے پاس کچھ نہ تھا جس سے وہ توحید کی حقانیت کا مقابلہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے قبائل اتنی کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے کہ کفر کا زور بالکل ٹوٹ گیا، اور معاہدے کے صرف 2 سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں بھی اسی طرح کے ایک معاہدہ حدیبیہ کی ضرورت ہے۔ مسلمان دوسری قوموں سے ہر جگہ مادی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

مسلمان چونکہ اپنی غفلت کی وجہ سے مادی پہلو سے دوسری قوموں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہو گئے ہیں، وہ ہر محاذ پر ان سے شکست کھا رہے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ایک طرفہ قربانی کے ذریعے ان محاذوں کو بند کر کے میدان مقابلے کو بدل دیا جائے۔ ان قوموں کو مادی مقابلے کے میدان سے ہٹا کر فکری مقابلے کے میدان میں لایا جائے۔ قدیم زمانے میں میدان مقابلے کی یہ تبدیلی جنگ کو ایک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل کی گئی تھی۔

آج یہ تبدیلی قومی حقوق کی مہم کو ایک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل ہوگی۔ قومی مفادات کی یہ قربانی بلاشبہ ایک نہایت مشکل کام ہے، مگر اسی کھونے میں پانے کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ مسلمان جس دن ایسا کریں گے، اسی دن فتح اسلام کا آغاز ہو جائے گا۔ کیونکہ فکری میدان میں کسی اور کے پاس کوئی چیز موجود ہی نہیں۔

مادی مقابلے کے میدان میں مسلمانوں کے پاس روایتی ہتھیار ہیں، اور دوسری قوموں کے پاس جدید ہتھیار۔ جبکہ فکری میدان میں مسلمانوں کے پاس حقیقت ہے، اور دوسری قوموں کے پاس تعصب۔ اور حقیقت کے مقابلے میں تعصب دیر تک ٹہر نہیں سکتا۔ کتاب "عظمت قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 182۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.