Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Akhlakh-e-Khudawandi

Urdu · 5 min

اخلاقِ خداوندی: انسان کو خدا نے اس نظام کی پابندی سے بظاہر آزاد رکھا ہے، تاہم یہ آزادی صرف امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہے۔ ورنہ انسان سے بھی عین وہی روش مطلوب ہے جو بقیہ کائنات میں خدا نے قائم کر رکھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ کائنات میں یہ روش خدا کے براہِ راست کنٹرول کے تحت قائم ہے، اور انسان کی زندگی میں اس کو خود انسان کے اپنے ارادے کے تحت قائم ہونا ہے۔ یہی مفہوم ہے اس حدیث کا، جس میں کہا گیا ہے کہ خدا کے اخلاق کو اپنا اخلاق بناؤ۔

تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللّٰهِ. شرح العقیدہ الطحاویہ، صفحہ 120۔ اسلامی اخلاق کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ اخلاق ایک کائناتی حقیقت ہے۔ جو اخلاق، یعنی اسٹینڈرڈ آف کنڈکٹ، بقیہ کائنات کے لیے مقرر کیا گیا ہے، وہی اخلاق انسان سے بھی مطلوب ہے۔

انسان کے لیے بقیہ کائنات ایک اخلاقی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک اچھے انسان کے لیے بھی وہی بات صحیح ہے جو اسپینش رائٹر میگل ڈی سروانٹیز، 1547 تا 1616 میں ایک اچھے مصور کے بارے میں کہی ہے۔ Good painters imitate nature; bad ones vomit it. اچھے مصور فطرت کی نقل کرتے ہیں، برے مصور اس کو اگل دیتے ہیں۔

انسان کے سوا جو کائنات ہے، اس کو خدا نے ایک قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ وہ لازمی طور پر اس کے مطابق عمل کرتی ہے۔ اس کائناتی قانون کو سائنس کی زبان میں قانونِ فطرت کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اسی بات کو اس طرح کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان خدا کے امر کے تحت ہیں۔

سورہ نمبر 32، آیت 5۔ اور پھر یہی مطالبہ انسان سے کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے امر کے ماتحت بن کر رہے۔ آل عمران، سورہ نمبر 3، آیت 154۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا ایک ہی قانون ہے، جس کی پیروی کائنات اور انسان دونوں سے مطلوب ہے۔

بقیہ کائنات بالجبر اس قانون کو اختیار کیے ہوئے ہے، اور انسان کو خود اپنے ارادے کے تحت اس قانون کو اختیار کرنا ہے۔ اسلامی اخلاق کا یہ اصول قرآن کی حسبِ ذیل آیت میں ملتا ہے: "کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالانکہ اسی کے تابع ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے؟ اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ " سورہ نمبر 3، آیت 83۔

قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے بقیہ کائنات کا نظام جن اصولوں پر عملاً قائم کر رکھا ہے، اسی کے مطابق وہ انسانی زندگی کے نظام کو بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ انسانی معاشرے کو بھی انہی ضابطوں میں ڈھل جانا چاہیے، جس کا نمونہ کائناتی سطح پر ہر آن دکھایا جا رہا ہے۔ کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.