← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
Taqseem-e-kaar ka usool.
Urdu · 5 min
تقسیمِ کار کا اصول: انسانی سماج میں جو سرگرمیاں جاری ہیں، ان کا ایک حصہ حکومت ہے، جس کو "administration" کہا جاتا ہے۔ اس شعبے کا کام انتظامِ ملکی کو سنبھالنا ہے۔ موجودہ جمہوری زمانے میں اس شعبے کے افراد عام طور پر 5 سال کے بعد بدل جاتے ہیں۔ ایک میعاد یعنی term کے خاتمے پر اگلی میعاد کے لیے election ہوتا ہے، اور جو لوگ election میں چنے جاتے ہیں وہ اگلی میعاد کے لیے نظامِ ملکی کا کام سنبھالتے ہیں۔
یہ کسی سماج کا سیاسی شعبہ ہے۔ اس شعبے کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر اس پر ہے کہ ہر نئی میعاد پر آزادانہ اور منصفانہ، یعنی free and fair election ہو۔ اور اس election میں جو لوگ چن کر آئیں، وہ دیانت داری کے ساتھ اپنی حکومتی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ اس شعبے کے علاوہ سماج کی جو سرگرمیاں ہیں، ان کو دو بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ایک شعبہ وہ ہے جس کو پیداواری سرگرمیاں، یعنی productive activities کہا جاتا ہے، یعنی زراعت اور صنعت اور اس طرح کے دوسرے شعبے جو زندگی کی ضروریات کی تیاری اور فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو تعلیمی سرگرمیاں، یعنی educational activities کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے شعبے میں رسمی تعلیم، یعنی formal education، اور غیر رسمی تعلیم، یعنی informal education، دونوں ہی یکساں حیثیت سے شامل ہیں۔ یہ شعبہ اپنے مختلف شاخوں کے ساتھ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ ہر بار نئی نسل کی تعلیم و تربیت کرے، تاکہ انسانیت کے قافلے کو نسل در نسل تیار شدہ افراد ملتے رہیں۔
تقسیمِ کار کے اصول کے مطابق یہ ہونا چاہیے کہ حیاتِ انسانی کا پہلا شعبہ، یعنی پیداواری سرگرمیوں کا شعبہ، بنیادی طور پر مردوں کے زیرِ انتظام ہو۔ مرد اپنی خداداد صلاحیتوں کے صحت مند استعمال کے ذریعے تعمیرِ انسانیت کا یہ کام کرتے رہیں۔ وہ ہر دور میں انسانیت کی معاشی اور اقتصادی ضرورتوں کی تعمیر کی ذمہ داری ادا کرتے رہیں۔ زندگی کا دوسرا شعبہ، یعنی تعلیمی سرگرمیوں کا شعبہ، بنیادی طور پر عورت کی تحویل میں دے دیا جائے۔
اس شعبے کے سنبھالنے کے لیے عورتیں فطری طور پر زیادہ موضوع صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ اس شعبے کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتی ہیں۔ اس دوسرے شعبے میں کئی چیزیں شامل ہیں: اسکول کی تعلیم، صحافت یعنی journalism، ریڈیو، ٹیلی ویژن، لٹریچر وغیرہ۔ یہی دوسرا شعبہ انسان سازی کا اصل ذمہ دار ہے۔
موجودہ دور میں نئے وسائل کی ایجاد نے اس شعبے کو ہمیشہ سے زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔ آج اس شعبے کو جس طرح منظم اور ہم آہنگ انداز میں چلایا جا سکتا ہے، اس طرح پچھلے کسی دور میں اس کو چلانا ممکن نہ تھا۔ آج حالات کا تقاضا ہے کہ ضروری اخلاقی پابندیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے عورتیں formal education اور informal education کے تمام شعبوں کو سنبھالیں، اور انسانیت کی ذہنی اور اخلاقی تعمیر کا کام کرنے میں لگ جائیں۔ وہ انسانی نسلوں کی معلم اور مربی بن کر اپنا وہ تاریخی رول ادا کریں جو قدرت نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق ان کے لیے مقدر کر دیا ہے۔
خواتین کے لیے یہ ایک اعلیٰ mission بھی ہے اور اسی کے ساتھ ایک بہتر job بھی۔ اسلام کے مطابق عورت اور مرد دونوں یکساں طور پر عزت اور احترام کے مستحق ہیں۔ حقوق اور فرائض کے معاملے میں بھی دونوں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر اس مساوات کا مطلب یہ نہیں کہ عورت اور مرد دونوں ایک ہی کام کریں۔
ہوائی جہاز میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی۔ اب اگر عورت اور مرد دونوں یہ اصرار کریں کہ ایک جو کام کرے گا وہی کام دوسرا بھی کرے گا تو جہاز پرواز نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ پرواز کی حالت میں ہو تو اس مساواتی نظام میں جہاز تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیمِ کار فطرت کا ایک لازمی اصول ہے۔
ہماری پوری زندگی تقسیمِ کار کے اسی اصول پر چل رہی ہے۔ تقسیمِ کار کا یہ اصول جو عمومی سماجی زندگی میں مطلوب ہے، وہی عورت اور مرد کے معاملے میں بھی مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مطلوب چیز تقسیمِ کار ہے، نہ کہ صنفی مساوات یعنی gender equality۔ اسی فطری اصول کو اختیار کر کے وہ متوازن نظام بنایا جا سکتا ہے جس کے اندر عورت اور مرد دونوں اپنے فرائض ادا کریں، اور انسانی سماج کسی تضاد کا شکار ہوئے بغیر کامیابی کے ساتھ مسلسل چلتا رہے۔
کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 202۔