مستقبل کی طرف دیکھنا: شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے بعض مسائل کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ایک نصیحت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: خدا کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اتنا ہی جتنا کہ اس نے اس کو دیا ہے۔ خدا سختی کے بعد جلد ہی آسانی پیدا کر دے گا۔ الطلاق 7 قرآن کی یہ آیت ازدواجی زندگی کی ایک اہم حکمت کو بتاتی ہے، وہ یہ کہ اختلافی معاملات میں صرف حال یعنی present کی بنیاد پر رائے قائم نہ کرنا، بلکہ مستقبل یعنی future کو سامنے رکھ کر اپنی رائے بنانا۔
تجربہ بتاتا ہے کہ جب ازدواجی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ صرف حال کو دیکھتے ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ جو صورتحال آج ہے وہی کل باقی رہنے والی نہیں۔ حال میں سوچنا کسی عورت یا مرد کے اندر محدود طرز فکر پیدا کرتا ہے، اس سے مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا مزاج بنتا ہے، اس سے برتر سوچ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ برداشت کی ربانی صفت سے محروم رہتے ہیں، کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ برداشت کرنا اپنی محرومی کو قبول کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس کے برعکس مستقبل کو سامنے رکھ کر سوچنا مرد اور عورت کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش کرنا ہے۔
ایسے لوگ کبھی ناامید نہیں ہوتے، کیونکہ ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ جو چیز انہیں آج نہیں مل رہی ہے وہ انہیں بدلے ہوئے حالات میں کل مل جائے گی۔ مستقبل بینی لوگوں کے اندر اعلیٰ ظرفی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر ہمیشہ زیادہ بڑی چیزوں پر ہوتی ہے، اس لیے چھوٹی چیزوں کا نقصان انہیں کوئی نقصان نظر نہیں آتا۔ کتاب "عورت معمار انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 82۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.