Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

30-Ijtemaee akhlaqiyyaat.

Urdu · 2 min

نمبر 30: اجتماعی اخلاقیات۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "اے ایمان والو! نم مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں؛ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں؛ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو، اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ " ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے، اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

الحجرات 11۔ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے اپنی بڑائی کے جذبے کی تسکین حاصل کرے۔ مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو کوئی عورت یا مرد بطور خود مقرر کر لے۔

اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو، اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر ہر ایک کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے، کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبے کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے، تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 47۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.