نمبر 5: عورت اور مرد برابر۔ قرآن میں ایک مقام پر اہلِ ایمان کی دعا بتائی گئی ہے۔ اس دعا میں اہلِ ایمان نے اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور نجات کے لیے درخواست کی ہے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس طرح دیا: "ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت؛ تم سب ایک دوسرے سے ہو۔
" آل عمران 195۔ قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ "یو آر ممبرز ون آف انادر" کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔
چنانچہ آیت میں آگے دونوں کی بابت یہ کہا گیا ہے کہ تم میں سے جن لوگوں نے ہجرت کی، جن کو وطن سے نکالا گیا، اور جن کو اللہ کے راستے میں ستایا گیا، اور جنہوں نے مخالف طاقتوں کا مقابلہ کیا، تو ایسے لوگ خدا کی معافی اور جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کی اخلاقی ذمہ داریاں یکساں ہیں، اس لیے انعام اور جزا کے معاملے میں دونوں کا حصہ یکساں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کے حقوق بھی یکساں ہیں اور ذمہ داریاں بھی یکساں۔ کتاب: عورت معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.