Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

3-Talaaq ka sharee tariqa.

Urdu · 3 min

نمبر 3: طلاق کا شرعی طریقہ۔ اسلامی شریعت میں عورت اور مرد کے درمیان اصل مطلوب چیز نکاح ہے۔ طلاق کی حیثیت صرف ایک انتہائی استثنائی ضرورت کی ہے، نہ کہ عمومی حکم کی۔ چنانچہ عبداللہ ابن عمر کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ» یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے۔

مشکات المصابیح، بحوالہ سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب الخلع والطلاق، رقم الحدیث 3280۔ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو کہ وہ طلاق لے کر جدا ہونا چاہیں، تو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ فوری طور پر طلاق دے کر دونوں ایک دوسرے سے مستقل طور پر جدا ہو جائیں۔ بلکہ شریعت کے مطابق اس کا ایک مقرر طریقہ، یعنی prescribed method ہے۔ یہ طریقہ قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: طلاق دو بار ہے، پھر یا تو قاعدے کے مطابق رک لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔

البقرہ 229۔ زوجین کے درمیان طلاق کا خیال عام طور پر غصے کی حالت میں آتا ہے۔ شوہر کو عورت کی کسی بات پر ناراضگی ہوئی، پھر دونوں میں تکرار ہوئی جو شدید غصے تک پہنچ گئی۔ اس طرح غصے کی حالت میں انتہائی اقدام کے طور پر شوہر کے منہ سے نکل جاتا ہے کہ میں نے تم کو طلاق دیا۔

مگر شریعت کے مطابق طلاق کی تکمیل کے لیے تین بار طلاق ضروری ہے، اور یہ تین طلاق تین مہینے میں الگ الگ دیا جانا چاہیے۔ یعنی دو مہینے میں ایک ایک بار طلاق، اور پھر تیسرے مہینے میں یا تو فائنل طلاق یا رجوع۔ یہ طریقہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ غصہ ہمیشہ وقتی ہیجان کے تحت ہوتا ہے۔ اس لیے جب وقت گزرتا ہے تو غصہ بھی ختم ہو جاتا ہے، اور اسی کے ساتھ طلاق کا خیال بھی۔

گویا طلاق کے مذکورہ طریقے کا مطلب طلاق پر روک قائم کرنا ہے، نہ کہ طلاق کو حتمی حیثیت دینا۔ کچھ مسلمان ایسا کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی مجلس میں اور ایک ہی بار تین طلاق دے دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ شرعی قانون کا غلط استعمال، یعنی misuse ہے۔ چنانچہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں جب کچھ لوگوں نے ایک مجلس میں تین طلاق دی، تو حضرت عمر کے حکم سے ان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے۔

کتاب: عورت معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.