پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایکحدیث ان الفاظ میں آئی ہے مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلاَّ قَيَّضَ اللهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2022)۔ یعنی جو نوجوان کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کے وقت عزت کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے شخص کو مقدر کردیتا ہے جو اس کے بڑھاپے کی عمر میں اس کی عزت کرے۔
اصل یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل سے سماج کے اندر روایت(tradition) قائم کرتا ہے۔ اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت نہ کریں تو ماحول میں بوڑھوں کی بے عزتی کی روایت قائم ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت کریں تو اس سے ماحول میں بوڑھوں کی عزت کرنے کی روایت قائم ہوگی۔ جس طرح آدمی اپنی بوئی ہوئی فصل کو کاٹتا ہے۔ اسی طرح لوگ اپنے ماحول میں جس قسم کی روایت قائم کریں اس کا ایک حصہ انھیں خود بھی بہر حال بھگتنا پڑتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔