Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

21 دسمبر1985

Urdu · 1 min read

ہر بات کو سمجھنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ اگر عقل کو استعمال نہ کیا جائے تو کوئی بات بھی سمجھ میں نہیں آسکتی، حتی کہ قرآن وحدیث کی بات بھی نہیں۔ مثلاً حدیث میںآیا ہے  قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَهَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ قَالَهَا ثَلَاثًا(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2670)۔ یعنی شدت کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ یہ بات تین بار فرمائی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر ان الفاظ کو سادہ طورپر بالکل ظاہری معنی میں لے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہر چیز جس میں شدت کا پہلو ہو وہ ہلاکت کا سبب ہے، اس لیے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ مثلاً گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا۔ مہنگائی کے وقت جانور کی قربانی دینا، وغیرہ۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح طورپر سمجھنے کے لیے اس میں ایک لفظ کا اضافہ کرنا ہوگا۔ یعنی اس کو اس طرح کہنا ہوگا’’هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ‘‘ أَي المُشَدِّدُونَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِ التَّشْدِيدِ (وہ لوگ ہلاک ہوگئے جو شدت نہ کرنے کی جگہ پر شدت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں)۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content