مستشرقین نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک نوع کی کتابیں وہ ہیں جو ’’اسلامی قوموں کے مطالعہ‘‘ پر لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میںاستدلال کا طریقہ بڑا عجیب وغریب ہوتا ہے۔ ان میں بعض غیر متعلق واقعات کو لے کر دکھایا گیاہے کہ بعض قوموں (مثلاً الجزائر کے مسلمان) کا اسلام جانور پرستی، شجر پرستی اور ستارہ پرستی سے قریب ہے۔ حتی کہ اسلام اور بت پرستی میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں۔ بلکہ اسلام بت پرستی ہی کا تتمہ ہے۔
ان مستشرقین کی اکثریت عربی زبان سے برائے نام واقف تھی۔اس لیے انھوںنے اسلام کو سمجھنے میں نہایت احمقانہ قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم خود مستشرقین کے حلقے میں سےگہرا علم رکھنے والے لوگوں نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔
پروفیسر (Alain) نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انھوں نے ان مستشرقین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اگر میں اپنے قلم کو مخاطب کرکے یہ کہوں کہ اے میرے محبوب قلم، اور اس جملہ کو علم الاجتماع کے یہ ماہرین اپنی تحقیق میں شامل کرلیں تو وہ اس جملہ کو روحانیت سے منسوب کردیں گے اور یہ کہیں گے کہ میںنے اپنے قلم میںایک چھوٹا دیوتا دیکھ لیا تھا‘‘۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔