Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

13 دسمبر 1985

Urdu · 1 min read

(مَنْ یُوصَفُ بِالخَلِیفۃ)

اسلام میں خلیفہ کے تقرر کا کوئی ایک متعین اصول نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر کی صفات (اہلیت) کا پورا علم تھا۔ مگر آپ نے حضرت ابوبکر کو صراحۃً خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔

حضرت ابوبکر کو عمر کی صفات (اہلیت) کا علم تھا تو آپ نے عمر کو خلافت کے لیے نامزد کردیا اور اس معاملے میں خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس کے بعد عمر آئے تو انھوںنے تیسرا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے اپنے آخر وقت میں چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنا دی اور اس سے کہا کہ تم لوگ میرے بعد کسی کو خلیفہ بنا کر اس کے نام کا اعلان کردینا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان امور میں کوئی ایک ہی مقرر اور متعین طریقہ نہیں ہے۔ اصل چیز مصلحت اسلام ہے، نہ کہ کوئی متعین ڈھانچہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.