ایک نوجوان نے گفتگو کے دوران اپنی شادی کا ذکر کیا۔ انھوںنے کہا کہ میری شادی میرے ماں باپ نے کردی ،مگر میری جو بیوی ہے، وہ مجھ کو پسند نہیں۔
میںنے کہا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ شادی وہ ہے، جو ناپسندیدہ شادی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے اس قول کو آپ لکھ لیجیے اور اس کو 20 برس بعد دیکھیے گا۔ کیوں کہ ان الفاظ کی معنویت کو آپ آج سمجھ نہیں سکتے۔ اس کی معنویت آپ کی سمجھ میں اس وقت آئے گی جب کہ میری طرح آپ کے بال سفید ہوچکے ہوںگے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔