Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

26 نومبر 1985

Urdu · 1 min read

المنجد ایک مشہور عربی لغت ہے۔ اس کو ایک عیسائی عالم لویس معلوف (1867-1946) نے تیار کیا ہے۔ اس کو موجودہ زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ حتی کہ وہ عربی مدارس اور اسلامی اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لغت بن گیا۔

اس لغت میں متعدد مقامات پر عیسائی ذہن کی ترجمانی ہے۔ مثلاً ایک عربی لفظ ’’الطلقاء‘‘ ہے۔ یہ طلق کی جمع ہے۔ اس کے معنی آزاد کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح ِمکہ کے بعد وہاں کے مشرکین سے فرمایا تھا اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ الطُّلَقَاء (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 412)۔ یعنی جاؤ، تم سب آزاد ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق، بلاشبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے۔ لیکن جب پیغمبر اسلام نےان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کردیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔یہ سلوک دیکھ کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔

مگر المنجد میں الطُّلَقَاء کا مفہوم ان الفاظ میں دیاگیا ہے

الَّذِينَ أُدْخِلُوا فِي الإِسْلَامِ كُرْهًا(وہ لوگ جو اسلام میں زبردستی داخل کیے گئے)۔

Qur'anQuotes the Qur'an

ظاہر ہے کہ الطُّلَقَاء کا یہ مفہوم اس کے اصل مفہوم کا بالکل الٹا ہے۔ اس طرح کی اور بھی غلطیاں المنجد میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں عربی کا کوئی ایسا لغت تیار نہیںکیا جو المنجد کی جگہ لے سکے۔ اس لیے ان غلطیوں کے باوجود عملاً اس کا رواج ہے۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں لغت کے علاوہ دوسرے علوم کا بھی ہوا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content