Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

21 نومبر 1985

Urdu · 1 min read

قرآن میں مختلف مقام پر بتایا گیا ہے کہ اسرائیل جب مصرمیں آباد تھے تو مصر کا بادشاہ ان کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ (دیکھیے2:49 ؛ 7:141 ؛ 14:6)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان آیات میں الفاظ بالکل عام ہیں۔ بظاہر ان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے تمام لڑکوں کو قتل کروا دیا کرتاتھا۔ مگر ایسا نہیں۔ کیوں کہ اگر وہ تمام لڑکوں کو قتل کرتا تو بنی اسرائیل کی نسل ہی مٹ جاتی۔ اصل یہ ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے سربرآوردہ خاندان کے لڑکوں کو قتل کرواتا تھا۔ یا ایسے جوانوں کو قتل کروادیتا تھا، جن کے اندر اسے قیادت کی صلاحیت نظر آتی تھی۔

بنی اسرائیل چوں کہ حضرت یوسف کے زمانے میں حکمراں گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، اس لیے وہ ان سے سیاسی خطرہ محسوس کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کے اندر ایسے اعلیٰ افراد نہ ابھریں جو دوبارہ اپنی قوم کو منظم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی انداز میں اس فعل کی غیرمعمولی شدت ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا۔ یہی دعوت کا اسلوب ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں، وہ بہت سے گہرے معانی کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content