ہر انسان کے اوپر فطرت کا ایک چوکی دار مقرر ہے، جو اس کو برائی سے روکتا ہے۔ یہ حیا اور شرم کا جذبہ ہے۔ جس آدمی کے اندر حیا نہ رہے، اس کے اندر گویا برائی کا آخری روک باقی نہ رہا۔ حیا کے سلسلے میں دو روایتیں یہ ہیں
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3483)۔یعنی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نبوت کے ذریعہ لوگوں کو جو بات ملی، ان میں سے ایک بات یہ ہے جب تمھارے اندر شرم نہ رہے تو جو چاہے کرو۔
علقمہ بن عُلاثہ نے سے کہا يَا رَسُولَ اللهِ عِظْنِي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اسْتَحِ مِنْ اللهِ تَعَالَى اسْتِحْيَاءَك مِنْ ذَوِي الْهَيْبَةِ مِنْ قَوْمِك (ادب الدنیا والدین للماوردی، صفحہ249)۔ یعنی اے خدا کے رسول! مجھے نصیحت کیجیے۔ آپ نے فرمایا اللہ سے اس طرح حیا کرو جس طرح تم اپنی قوم کی پر ہیبت شخصیتوں سے حیا کرتے ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔