Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

29اکتوبر 1985

Urdu · 1 min read

ایک حدیث ِ رسول ہے، جس کے الفاظ یہ ہیںوَلاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 647)۔یعنی،ایک شخص اس وقت تک برابر نماز میں رہتا ہے جب تک وہ (مسجد میں) نماز کا منتظر رہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف مسجد میں موجود رہنا ہی ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نفسیات نماز کے ساتھ نماز کے انتظار میں ہو اس کا یہ وقت بھی نماز میں شمار ہوجاتا ہے اور اس کو وہی ثواب ملتا ہے جو نماز پڑھنے والے کو ملتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کی حدیثوں کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کسی پتھر کے مجسمہ یا روبوٹ کے بارے میں نہیں ہیں، بلکہ زندہ انسان کے بارے میں ہیں۔ انسان سوچتا ہے۔ وہ صاحبِ نفسیات مخلوق ہے۔ ایسا انسان جب نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو تو اس کا بیٹھنا سادہ قسم کا بیٹھنا نہیں ہوتا۔ وہ اگر سچا نمازی ہے تونماز کے انتظار کے وقت بھی نماز کے بارے میں سوچے گا۔ اس وقت بھی اس کا دل خدا میں لگا رہے گا۔ یہی وہ کیفیت ہے، جو اس کے انتظار نماز کے لمحات کو بھی ادائیگیٔ نماز کے لمحات میں شامل کردیتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content