Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

25 اکتوبر 1985

Urdu · 1 min read

عہدِ وسطیٰ میں شہنشاہ اور پوپ کے درمیان جو جھگڑے ہوئے، ان میں ساری بحث اس پر تھی کہ حضرت عیسیٰ (یا خدا) نے دنیا کی حکومت پوپ کے سپرد کی ہے یا شہنشاہ کے، او راگر ان دونوں میںاختلاف ہو تو قوم کو کس کے حکم پر چلنا چاہیے۔

آج یہ بحث بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوںکہ آج حکومت و سیاست کے معاملات میں نہ ’’مسیح“ کا دخل ہے اور نہ ’’پوپ‘‘کا۔ آج ان معاملات میں ساری حیثیت عوام کی مانی جاتی ہے یا عوام کے منتخب نمائندوں کی۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانی حالات کتنا زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی فکر کی عمومی کامیابی کا انحصار تمام تر اسی پر ہوتا ہے کہ زمانی حالات اس کے موافق ہیں یا اس کے خلاف۔ آدمی اگر حکومت کے نظام میںتبدیلی لانا چاہتا ہے تو اس سے پہلے اس کو لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی وہ حکومت کے نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.